جاوید غامدی صاحب کی بے ربطگیاں

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

مولانا واصل واسطی ہم نے کچھ اوپرجناب غامدی کی ایک عبارت پیش کی ہے  جس میں انھوں نے سورت الاعلی اور سورت القیامہ کی آیات سے فقط ایک قراءت کے مسئلے پر استدلال کیا ہے ۔اس کے بعد انھوں نے تین نکات ان سےاخذ کیے ہیں ۔ جن کو ہم کچھ دیر بعد میں مالہ وماعلیہ کے ساتھ ذکر کریں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 18)

مولانا واصل واسطی ہم نے اوپرایک تواردو تفاسیر کے حوالے دیئے ہیں ، وجہ اس کی یہ ہے  کہ جناب غامدی اکثر انہیں تفاسیر کے حوالے دیتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب غامدی صرف قران کے ہمارے ہاں مروج قراءت ہی کو متواتر قراردیتے ہیں  باقی قراءتوں کو متواتر نہیں مانتے ہیں ۔ ہم...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 17)

مولانا واصل واسطی  دوسری بات یہ ہے کہ جناب غامدی نے قراءتِ قران کے متعلق دوآیتیں پیش کی ہیں جن کا سرے سے اس موضوع سے تعلق ہی نہیں ہے ، لطف اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ صاحب قران کو میزان اور فرقان بھی قراریتے ہیں  جن کا مفہوم ان کے نزدیک ،، قران کے الفاظ  کااپنے مفہوم...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوازدہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوازدہم)

ڈاکٹر خضر یسین ایمان کی عمومی تعریف یہ کی گئی ہے: یہ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب کا نام ہے۔ زبان سے اقرار اور دل سے سچ ماننے کا نام ہے۔ کس چیز کا زبان سے اقرار کرنا ہے اور دل سے سچ ماننا ہے؟ جواب ہے:"ما انزل اللہ علی نبیہ" کے سچ ہونے کا زبان سے اقرار کرنا ہے اور دل...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط دوازدہم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط یازدہم)

ڈاکٹر خضر یسین میں یہاں ایک بات عرض کر دوں: میرا مقصد غامدی صاحب کے دینی فکر کی نفی ہرگز نہیں ہے بلکہ کسی عالم، جماعت یا فرقے کی نفی میرا مقصود کبھی نہیں رہا۔ میرا مقصد "نبوت کماہی پر قناعت" کی دعوت و تبلیغ ہے، جس میں میں اپنے احباب سمیت مصروہوں اور صاحب شعور مسلمان...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 16)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے دو باتیں پیچھے کہی ہیں جس کاخلاصہ یہ ہے  ،، کہ ایک تو ،، قران کی تحدید وتخصیص قران کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ہوسکتی۔ چاہے وہ قولِ پیغمبر علیہ السلام ہی کیوں نہ ہو ،، اور دوسری بات یہ کہی ہے کہ اس( قران ) کے الفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر...

علی کاظمی

جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو ( جرگہ / سلیم صافی / 2020۔1۔12) میں موجودہ عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے قرار دیا کہ 1945 دوسری جنگ عظیم ، اور اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ایک مختصر اور عبوری عرصے کے لیے دنیا میں مساوات ، جمہوریت ، حق خود ارادیت ، حریت فکر ، آزادئی اظہار رائے ، اور حقوق انسانی کے فلسفے روبہ عمل رھے ۔
اور پھر اس کے بعد یہ چیزیں محض نعروں ، سلوگنز ، آدرشوں اور نظریوں تک محدود ھوگئی اور دنیا پھر ایک بار سلطنیت ، ملوکیت ، آمریت ، اجباریت وعصبیت کی طرف لوٹ آئی ۔
غامدی صاحب کا کہنا تھا حقوق ومساوات کے نعروں سے یورپ کے زمین اور ذہن بھی مکمل طور پر ہموار نہیں تھے بلکہ وہاں بھی ایسے قدامت پسند اور آمرانہ طبع طبقات موجود تھے جنھوں نے ایک مختصر عرصے بعد ھی ان اقدار کو تبدیل کیا اور اس نظریاتی طبقے کو شکست دے کر ، پھر دوبارہ اپنی رومی ومسیحی رومان پرور آمریت وملوکیت کی طرف لوٹ گئے ۔
چنانچہ موجودہ امریکہ ومغرب سیاسی سطح پر اسی مقدس رومی ایمپائر کی ایکسٹینشن ہیں ۔
اور اسی وجہ سے عالمی حالات میں ابتری پائی جاتی ہے ۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ھوئے جناب غامدی نے تاریخ سے مثال پیش کی اور کہا جیسے خلافت راشدہ کا آئیڈیل نظام ایک عبوری عرصے کے لیے ھی قائم رھا اورمحض چالیس سال بعد وہ اسی پرانی عصبیت پر لوٹ گیا ۔ کیونکہ لوگوں نے خلافت راشدہ کے نظام کو دل سے قبول نہیں کیا تھا اور وہ موقع کی تلاش میں تھے ۔ کہ ہمیں دوبارہ موقع ملے اور ھم وھی پرانی عصبیت بحال کر دیں ۔
اس سلسلہ میں غامدی صاحب نے صراحتا جناب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا اور کہا کہ انھوں نے خلافت کا نظام بدل دیا تھا ۔
یاد رھے کہ غامدی صاحب کی یہ تمام گفتگو سلبی پہلو سے ھو رھی تھی اور وہ ، در اصل نقد کر رھے تھے ، اس تبدیلی اور پرانی عصبیتوں اور ملوکیتوں کی بحالی پر ، اور اس تبدیلی کو ھی معاشرتی وسیاسی عدم توازن وبدتر صورتحال کا موجب بتا رھے تھے اور اس رجوع کے عمل کو ایجابی قرار نہیں دے رھے تھے کہ معروضی حالات کیا تھے ۔ سیاست کی ضروریات کیا تھی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
وہ ایک اصولی سطح کی گفتگو کر رھے تھے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ھو یا نظام خلافت راشدہ یہ محض ایک مختصر عرصے تک قائم رھے اور اس کے بعد دنیا اصل حالت ، عصبیہ جاہلیہ ، سلطنت وبادشاہت کی طرف پلٹ گئی ۔
ھم غامدی صاحب کے موقف پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں سردست کہ یہ موقف کتنا صائب اور تاریخی حقیقتوں سے ھم آھنگ ہے ۔
البتہ غامدی صاحب کی تضاد بیانیوں ، فکری انتشاریوں ، بے ربط مواقیف ، اور غیر منہجی گفتگووں کے حوالے سے عرض کرنا چاھتے ہیں کہ یہی غامدی صاحب جب اپنی مجالس اور اپنے فورم پر واقعہ کربلا پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ اسی عصبیت وملوکیت کو ایک ایجابی چیز قرار دیتے ہیں اور اس کی تحسین کرتے ہیں یہاں تک کہ جناب امام حسین کے اقدام کربلا کو سیاسی بے بصیرتی ، اور سماجی معروضیت سے مغایر ایک اجتہادی غلطی اور رخصت وگنجائش پر مبنی قدم قرار دیتے ہیں ۔
اور آج ایک قومی فورم پر اس عصبیت کو اخلاق ، قانون ، آدرش ، اقدار سے عاری اور ایک آئیڈل نظام کو سبوتاژ کرنے کا ایک ٹول بتا رھے ہیں ۔
غامدی صاحب اور ان کے ھم خیال دیگر دانشوروں کا یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ وہ ہر دینی امر کو بھی ریٹنگ اور فیشن زدگی کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق اس کا حل پیش کرتے ہیں ۔
ایسا اس لیے بھی ھوتا ہے کہ یہ حضرات دینی بلکہ دنیاوی علوم پر کوئی بامعنی دسترس اور رسوخ نہیں رکھتے اور ہر جگہ بےتکی اور غیر دائرہ جاتی گفتگو کرتے ہیں ۔
ان کی اصل پہچان بس میڈیا ٹیکنگ کی حد تک ھی ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.