جاوید غامدی صاحب کی بے ربطگیاں

Published On November 26, 2025
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

علی کاظمی

جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو ( جرگہ / سلیم صافی / 2020۔1۔12) میں موجودہ عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے قرار دیا کہ 1945 دوسری جنگ عظیم ، اور اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ایک مختصر اور عبوری عرصے کے لیے دنیا میں مساوات ، جمہوریت ، حق خود ارادیت ، حریت فکر ، آزادئی اظہار رائے ، اور حقوق انسانی کے فلسفے روبہ عمل رھے ۔
اور پھر اس کے بعد یہ چیزیں محض نعروں ، سلوگنز ، آدرشوں اور نظریوں تک محدود ھوگئی اور دنیا پھر ایک بار سلطنیت ، ملوکیت ، آمریت ، اجباریت وعصبیت کی طرف لوٹ آئی ۔
غامدی صاحب کا کہنا تھا حقوق ومساوات کے نعروں سے یورپ کے زمین اور ذہن بھی مکمل طور پر ہموار نہیں تھے بلکہ وہاں بھی ایسے قدامت پسند اور آمرانہ طبع طبقات موجود تھے جنھوں نے ایک مختصر عرصے بعد ھی ان اقدار کو تبدیل کیا اور اس نظریاتی طبقے کو شکست دے کر ، پھر دوبارہ اپنی رومی ومسیحی رومان پرور آمریت وملوکیت کی طرف لوٹ گئے ۔
چنانچہ موجودہ امریکہ ومغرب سیاسی سطح پر اسی مقدس رومی ایمپائر کی ایکسٹینشن ہیں ۔
اور اسی وجہ سے عالمی حالات میں ابتری پائی جاتی ہے ۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ھوئے جناب غامدی نے تاریخ سے مثال پیش کی اور کہا جیسے خلافت راشدہ کا آئیڈیل نظام ایک عبوری عرصے کے لیے ھی قائم رھا اورمحض چالیس سال بعد وہ اسی پرانی عصبیت پر لوٹ گیا ۔ کیونکہ لوگوں نے خلافت راشدہ کے نظام کو دل سے قبول نہیں کیا تھا اور وہ موقع کی تلاش میں تھے ۔ کہ ہمیں دوبارہ موقع ملے اور ھم وھی پرانی عصبیت بحال کر دیں ۔
اس سلسلہ میں غامدی صاحب نے صراحتا جناب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا اور کہا کہ انھوں نے خلافت کا نظام بدل دیا تھا ۔
یاد رھے کہ غامدی صاحب کی یہ تمام گفتگو سلبی پہلو سے ھو رھی تھی اور وہ ، در اصل نقد کر رھے تھے ، اس تبدیلی اور پرانی عصبیتوں اور ملوکیتوں کی بحالی پر ، اور اس تبدیلی کو ھی معاشرتی وسیاسی عدم توازن وبدتر صورتحال کا موجب بتا رھے تھے اور اس رجوع کے عمل کو ایجابی قرار نہیں دے رھے تھے کہ معروضی حالات کیا تھے ۔ سیاست کی ضروریات کیا تھی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
وہ ایک اصولی سطح کی گفتگو کر رھے تھے کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ھو یا نظام خلافت راشدہ یہ محض ایک مختصر عرصے تک قائم رھے اور اس کے بعد دنیا اصل حالت ، عصبیہ جاہلیہ ، سلطنت وبادشاہت کی طرف پلٹ گئی ۔
ھم غامدی صاحب کے موقف پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں سردست کہ یہ موقف کتنا صائب اور تاریخی حقیقتوں سے ھم آھنگ ہے ۔
البتہ غامدی صاحب کی تضاد بیانیوں ، فکری انتشاریوں ، بے ربط مواقیف ، اور غیر منہجی گفتگووں کے حوالے سے عرض کرنا چاھتے ہیں کہ یہی غامدی صاحب جب اپنی مجالس اور اپنے فورم پر واقعہ کربلا پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ اسی عصبیت وملوکیت کو ایک ایجابی چیز قرار دیتے ہیں اور اس کی تحسین کرتے ہیں یہاں تک کہ جناب امام حسین کے اقدام کربلا کو سیاسی بے بصیرتی ، اور سماجی معروضیت سے مغایر ایک اجتہادی غلطی اور رخصت وگنجائش پر مبنی قدم قرار دیتے ہیں ۔
اور آج ایک قومی فورم پر اس عصبیت کو اخلاق ، قانون ، آدرش ، اقدار سے عاری اور ایک آئیڈل نظام کو سبوتاژ کرنے کا ایک ٹول بتا رھے ہیں ۔
غامدی صاحب اور ان کے ھم خیال دیگر دانشوروں کا یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ وہ ہر دینی امر کو بھی ریٹنگ اور فیشن زدگی کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق اس کا حل پیش کرتے ہیں ۔
ایسا اس لیے بھی ھوتا ہے کہ یہ حضرات دینی بلکہ دنیاوی علوم پر کوئی بامعنی دسترس اور رسوخ نہیں رکھتے اور ہر جگہ بےتکی اور غیر دائرہ جاتی گفتگو کرتے ہیں ۔
ان کی اصل پہچان بس میڈیا ٹیکنگ کی حد تک ھی ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.