بحوالہ تدوینِ حدیث بخاری کو تاریخ کی کتاب باور کروانے کی حسن الیاس کی کوشش

Published On November 26, 2025
بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

سلمان احمد شیخ جناب جاوید صاحب نے اپنے حالیہ عوامی لیکچرز میں اس بات کی تائید کی ہے کہ روایتی بینکوں سے اثاثہ کی خریداری کے لیے کسی بھی قسم کا قرض لینا اسلام میں جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنانس لیز اور مارٹگیج فائنانسنگ سب اسلام میں جائز ہیں۔ وہ یہ بھی اصرار کرتے...

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

حسن بن علی نزول عیسی کی بابت قرآن میں تصریح بھی ہے (وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون، سورة الزخرف - 61) اور ایماء بھی (وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ،سورة النساء - 159؛ ويكلم الناس في المهد وكهلا، سورة آل عمران - 46؛ أفمن كان على بينة من ربه ويتلوه...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

ڈاکٹر محمد مشتاق ردِّ عمل کی نفسیات نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکوں اورخود کش حملوں کا بھی ایک طویل سلسلہ چل پڑا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات اور دیر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کیے گئے۔ جنرل مشرف اور حکومت کا ساتھ...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط سوم

ڈاکٹر محمد مشتاق بادشاہ کے بجائے بادشاہ گر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اسلامک فرنٹ کے تجربے کی ناکامی کے بعد بھی غامدی صاحب اور آپ کے ساتھی عملی سیاست سے یکسر الگ تھلگ نہیں ہوئے اور اگلے تجربے کےلیے انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان کی طرف رخ کیا۔ ڈاکٹر...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق اتمامِ حجت اور تاویل کی غلطی ۔1980ء کی دہائی کے وسط میں جناب غامدی نے ’نبی اور رسول‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو اس وقت میزان حصۂ اول میں شائع کیا گیا۔ یہ مضمون دراصل مولانا اصلاحی کے تصور ’اتمامِ حجت‘ کی توضیح پر مبنی تھا اور اس میں انھوں نے مولانا...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق ۔22 جنوری 2015ء کو روزنامہ جنگ نے’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘ کے عنوان سے جناب غامدی کا ایک کالم شائع کیا۔ اس’جوابی بیانیے‘ کے ذریعے غامدی صاحب نے نہ صرف ’دہشت گردی‘کو مذہبی تصورات کے ساتھ جوڑا، بلکہ دہشت گردی پر تنقید میں آگے بڑھ کر اسلامی...

علی کاظمی

مولانا مناظر احسن گیلانی کی جس کتاب کا حوالہ دے کر حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کو تاریخ کی کتاب باور کروایا ہے اسی کتاب میں آگے جا کر مولانا گیلانی ایت ” وما ینطق عن الھوی ” کی تشریح میں لکھتے ہیں :
“””حدیثوں کی ان ہی تحدیدی روایتوں کی بنیاد پر لوگ الجھ الجھ کر پھرپھڑا رہے اور کہتے ہیں کہ مذکورہ بالاآیت کا تعلق بھی صرف قران سے ہے اسی لیے وہ پیغمبر کو صرف قران کی حد تک پیغمبر مانتے ہیں ۔ قران سے الگ کرلینے کے بعد العیاذ باللہ پیغمبر کی زندگی میں اور جو پیغمبر نہیں ہین ان کی زندگی میں ان برکندہ باد آنکھوں کے نزدیک کوئی فرق باقی نہیں رہا ۔ مگر بحمد اللہ اس فلسفہ کے شر نے ایک ایسے خیر کو پیدا کیا جس نے ثابت کردیا کہ مذکورہ بالا قرانی آیت کاواقعی مطلب بھی وہی ہے جو اس کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جارہا ہے یعنی قران ھی نہیں بلکہ نطق اور گفتگو جو بھی پیغمبر کی زبان سے نکلتی ہے اس کا قطعا الھوی ( پیغمبر کی ذاتی خواہش ) سے تعلق نہیں ہے بلکہ قرانی نطق ھو یا غیر قرانی نطق پیغمبر کا ہر نطق اور ان کی ہر گفتگو وحی ہے جوان پر خدا کی طرف سے کی جاتی ہے””
تدوین حدیث ، از مناظر احسن گیلانی ۔
مولانا گیلانی نے اس کتاب کے آغاز میں استدلالی عرفی یا اعتباری نوعیت سے حدیث کی جمع وتدوین کو تاریخی نوعیت کی چیز باور کروایا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حجیت کے پہلو سے بات کر رہے ہیں ۔
کسی بھی سابقہ چیز یا قضیہ کا استقصائی یا استیعابی مطالعہ یا جمع ضمنا وتبعا تاریخی نوعیت کا معاملہ ھی ھوتا ہے لیکن اس کا مقصد حقیقی یا اصلی اس ضمنی وذیلی امر پر تفوق اور تقدم رکھتا ہے ۔
میزان غامدی صاحب کی کتاب تعلیمات یا اصولوں کا نام ہے تاریخ کے ایک مخصوص حصہ اور زمانہ میں غامدی صاحب کے وجود کی بنا پر اس کی نسبت غامدی صاحب کی طرف تاریخی اعتبار سے بھی ہے کہ جب بھی جہاں بھی غامدی صاحب کا ترجمہ اور تذکرہ پایا جائے گا ان کے اصولیات کی کتابی صورت میزان کو ان کے تذکرے کے ذیل میں رکھا جائے گا ۔ لیکن اس سے میزان تاریخی کتاب قرار نہیں پائے گی ۔
حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کے علمی نام کے حوالہ سے بھی چند مغالطے فروغ دینے کی کوشش کی ہے ڈاکٹر عبد الفتاح ابو غدہ رح نے بخاری شریف کے حقیقی وعلمی نام پر مستقل ایک کتاب لکھی ہے:
” تحقیق اسمی الصحیحین واسم جامع الترمذی ”
اس کتاب میں شیخ نے امام ابن حجر پر بھی جرح کی ہے کہ انہوں نے صحیح بخاری کے علمی نام کے حوالہ سے ھدی الساری مقدمہ فتح الباری میں کامل انہماک سے کام نہیں لیا بلکہ ان سے سستی سرزد ھوئی ہے حالانکہ ” سنن ” لفظ ابن حجر کے ذکرکردہ نام میں بھی موجود ہے ۔
شیخ غدہ نے آئمہ فن واصول ، ابن صلاح ، امام نووی ، سخاوی ، قاضی عیاض ، امام عینی ، امام ابن رشید وغیرہ کی تصریحات ذکر کی ہیں کہ امام بخاری نے کتاب کا جو نام خود رکھا ہے اس میں ” سننہ ” کا لفظ موجود ہے اور جس کسی نے اس لفظ کے بغیر اس کا ذکر کیا ہے یہ اس کااپنا تصرف ہے نہ کہ مولف کا اس سے کوئی تعلق ہے ۔
حسن الیاس صاحب نے فربری ، ھروی وغیرہ کے نسخ کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان میں سنن ہے کا لفظ نہیں ہے یہ بھی حسن صاحب کا دھوکہ دینے کی کوشش ہے
شیخ ابو غدہ نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اس کے نسخ پر جو نام لکھے گئے ہیں وہ ان کے مستملی حضرات ( بخاری شریف کی روایت کرنے والوں ) کی جانب سے نہیں ہیں بلکہ اس کے حقیقی نام کا ذکر ھی قدیم نسخ پر موجود نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…