بحوالہ تدوینِ حدیث بخاری کو تاریخ کی کتاب باور کروانے کی حسن الیاس کی کوشش

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب لکھتے ہیں "مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک...

غامدی صاحب اور حدیث

غامدی صاحب اور حدیث

مقدمہ 1: غامدی صاحب اپنا ایک اصول حدیث لکھتے ہیں کہ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنہیں بالعموم 'حدیث' کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا ہرگز کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔" (...

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں :کبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورنبوی کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں ان کے بارے میں...

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كی مستند احادیث كى بنا پر علماے امت كا مرتد كى سزا قتل ہونے پر اجماع ہے،  كتب ِاحاديث اور معتبر كتب ِتاريخ سے ثابت ہے كہ چاروں خلفاے راشدين نے اپنے اپنے دور ِخلافت ميں مرتدين كو ہميشہ قتل كى سزا دى ،  ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدوں کیخلاف...

قرآن اور غامدی صاحب

قرآن اور غامدی صاحب

ایک تحریر میں ہم غامدی صاحب کی قرآن کی معنوی تحریف کی چند مثالیں پیش کرچکے مزید ایک تشریح ملاحظہ فرمائیں۔غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں: "موت كى سزا قرآن كى رو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى- اللہ...

رجم کی حد اور غامدی صاحب

رجم کی حد اور غامدی صاحب

اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر ہے جو کہ حد شرعی ہے  اس پر دس سے زائد صحیح احادیث موجود ہیں  جن سے  واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ آزاد زانیوں پر کوڑوں کی بجائے رجم کی سزانافذ کی۔ ۔ غامدی صاحب اسکے انکاری ہیں ۔ وہ...

علی کاظمی

مولانا مناظر احسن گیلانی کی جس کتاب کا حوالہ دے کر حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کو تاریخ کی کتاب باور کروایا ہے اسی کتاب میں آگے جا کر مولانا گیلانی ایت ” وما ینطق عن الھوی ” کی تشریح میں لکھتے ہیں :
“””حدیثوں کی ان ہی تحدیدی روایتوں کی بنیاد پر لوگ الجھ الجھ کر پھرپھڑا رہے اور کہتے ہیں کہ مذکورہ بالاآیت کا تعلق بھی صرف قران سے ہے اسی لیے وہ پیغمبر کو صرف قران کی حد تک پیغمبر مانتے ہیں ۔ قران سے الگ کرلینے کے بعد العیاذ باللہ پیغمبر کی زندگی میں اور جو پیغمبر نہیں ہین ان کی زندگی میں ان برکندہ باد آنکھوں کے نزدیک کوئی فرق باقی نہیں رہا ۔ مگر بحمد اللہ اس فلسفہ کے شر نے ایک ایسے خیر کو پیدا کیا جس نے ثابت کردیا کہ مذکورہ بالا قرانی آیت کاواقعی مطلب بھی وہی ہے جو اس کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جارہا ہے یعنی قران ھی نہیں بلکہ نطق اور گفتگو جو بھی پیغمبر کی زبان سے نکلتی ہے اس کا قطعا الھوی ( پیغمبر کی ذاتی خواہش ) سے تعلق نہیں ہے بلکہ قرانی نطق ھو یا غیر قرانی نطق پیغمبر کا ہر نطق اور ان کی ہر گفتگو وحی ہے جوان پر خدا کی طرف سے کی جاتی ہے””
تدوین حدیث ، از مناظر احسن گیلانی ۔
مولانا گیلانی نے اس کتاب کے آغاز میں استدلالی عرفی یا اعتباری نوعیت سے حدیث کی جمع وتدوین کو تاریخی نوعیت کی چیز باور کروایا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حجیت کے پہلو سے بات کر رہے ہیں ۔
کسی بھی سابقہ چیز یا قضیہ کا استقصائی یا استیعابی مطالعہ یا جمع ضمنا وتبعا تاریخی نوعیت کا معاملہ ھی ھوتا ہے لیکن اس کا مقصد حقیقی یا اصلی اس ضمنی وذیلی امر پر تفوق اور تقدم رکھتا ہے ۔
میزان غامدی صاحب کی کتاب تعلیمات یا اصولوں کا نام ہے تاریخ کے ایک مخصوص حصہ اور زمانہ میں غامدی صاحب کے وجود کی بنا پر اس کی نسبت غامدی صاحب کی طرف تاریخی اعتبار سے بھی ہے کہ جب بھی جہاں بھی غامدی صاحب کا ترجمہ اور تذکرہ پایا جائے گا ان کے اصولیات کی کتابی صورت میزان کو ان کے تذکرے کے ذیل میں رکھا جائے گا ۔ لیکن اس سے میزان تاریخی کتاب قرار نہیں پائے گی ۔
حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کے علمی نام کے حوالہ سے بھی چند مغالطے فروغ دینے کی کوشش کی ہے ڈاکٹر عبد الفتاح ابو غدہ رح نے بخاری شریف کے حقیقی وعلمی نام پر مستقل ایک کتاب لکھی ہے:
” تحقیق اسمی الصحیحین واسم جامع الترمذی ”
اس کتاب میں شیخ نے امام ابن حجر پر بھی جرح کی ہے کہ انہوں نے صحیح بخاری کے علمی نام کے حوالہ سے ھدی الساری مقدمہ فتح الباری میں کامل انہماک سے کام نہیں لیا بلکہ ان سے سستی سرزد ھوئی ہے حالانکہ ” سنن ” لفظ ابن حجر کے ذکرکردہ نام میں بھی موجود ہے ۔
شیخ غدہ نے آئمہ فن واصول ، ابن صلاح ، امام نووی ، سخاوی ، قاضی عیاض ، امام عینی ، امام ابن رشید وغیرہ کی تصریحات ذکر کی ہیں کہ امام بخاری نے کتاب کا جو نام خود رکھا ہے اس میں ” سننہ ” کا لفظ موجود ہے اور جس کسی نے اس لفظ کے بغیر اس کا ذکر کیا ہے یہ اس کااپنا تصرف ہے نہ کہ مولف کا اس سے کوئی تعلق ہے ۔
حسن الیاس صاحب نے فربری ، ھروی وغیرہ کے نسخ کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان میں سنن ہے کا لفظ نہیں ہے یہ بھی حسن صاحب کا دھوکہ دینے کی کوشش ہے
شیخ ابو غدہ نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اس کے نسخ پر جو نام لکھے گئے ہیں وہ ان کے مستملی حضرات ( بخاری شریف کی روایت کرنے والوں ) کی جانب سے نہیں ہیں بلکہ اس کے حقیقی نام کا ذکر ھی قدیم نسخ پر موجود نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…