بحوالہ تدوینِ حدیث بخاری کو تاریخ کی کتاب باور کروانے کی حسن الیاس کی کوشش

Published On November 26, 2025
حیاتِ مسیح علیہ السلام : اسکالر صاحب کو جواب

حیاتِ مسیح علیہ السلام : اسکالر صاحب کو جواب

مقرر : مفتی منیر اخون  تلخیص : زید حسن سائل : ہمارے ہاں عموما سمجھا جاتا ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور قربِ قیامت تشریف لائیں گے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ۔ اسکی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں انکے زندہ موجود ہونے کا ثبوت نہیں ہے ۔ مفتی...

وجہِ تخلیقِ کائنات نبیﷺ کی ذات یا عبادت؟

وجہِ تخلیقِ کائنات نبیﷺ کی ذات یا عبادت؟

مقرر : مفتی منیر اخون  تلخیص : زید حسن سائل : ہر مسلمان سمجھتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وجہ تخلیقِ کائنات ہیں لیکن ایک اسکالر کا کہنا ہے کہ آپ نہیں بلکہ خدا کی عبادت وجہِ تخلیقِ کائنات ہے ۔مفتی منیر اخون : اسکالر صاحب کو مقصد اور علت میں فرق نہ کرنے سے شبہہ ہوا...

ڈاڑھی سنت یا نہیں ؟

ڈاڑھی سنت یا نہیں ؟

مقرر : مفتی منیر اخون  تلخیص : زید حسن سائل : ڈاڑھی کے بارے میں غامدی صاحب کہتے ہیں کہ وہ دین کا حصہ نہیں ہے اور انکا استدلال یہ ہے کہ اسکا قرآن میں تذکرہ نہیں ہے ۔ مفتی منیر اخوان : قرآن شرعی قانون کی کتاب ہے جس میں اصول بیان ہوتے ہیں ، جزئیات و فروعات نہیں ۔ وحی صرف...

واقعہ اسری و معراج : غامدی کو جواب

واقعہ اسری و معراج : غامدی کو جواب

مقرر : مفتی منیر اخوان  تلخیص : زید حسن سائل  :  غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ اسری اور معراج کا واقعہ منامی ہے اور بیداری میں حضور ﷺ نے یہ سفر نہیں کیا ۔ اس پر وہ قرآن کے " رؤیا" سے استدلال کرتے ہیں کہ اسکا معنی غیر معروف نہیں ہے اور کوئی ایسا قرینہ بھی موجود نہیں ہے کہ...

کیا بخاری سو فیصد صحیح ہے ؟ غامدی صاحب کو جواب

کیا بخاری سو فیصد صحیح ہے ؟ غامدی صاحب کو جواب

مقرر : محمد علی مرزا  تلخیص : زید حسن سائل :  غامدی صاحب اور انکی پیروی میں قاری حنیف ڈار صاحب بخاری اور مسلم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جتنے بھی گستاخانِ رسول ہیں وہ انہی کتابوں کی روایات کا حوالہ دیتے ہیں  ۔ انہی کتب میں خدا کے جہنم میں پنڈلی ڈالنے ، حضرت عائشہ رض کے...

غامدی ازم کی گمراہی

غامدی ازم کی گمراہی

مقرر : ساحل عدیم  تلخیص : زید حسن   جب انسان کو اپنا آپ پورا حوالہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ اسکے لئے مشکل کام ہوتا ہے جبکہ نبیوں کی دعوت یہی تھی ۔ غامدی ازم کی طرف کوگوں کا شدت سے میلان اسی وجہ سے ہے کیونکہ ڈاکٹر اسرار صاحب کے بالکل برعکس انکی دعوت اجتماعی جد و...

علی کاظمی

مولانا مناظر احسن گیلانی کی جس کتاب کا حوالہ دے کر حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کو تاریخ کی کتاب باور کروایا ہے اسی کتاب میں آگے جا کر مولانا گیلانی ایت ” وما ینطق عن الھوی ” کی تشریح میں لکھتے ہیں :
“””حدیثوں کی ان ہی تحدیدی روایتوں کی بنیاد پر لوگ الجھ الجھ کر پھرپھڑا رہے اور کہتے ہیں کہ مذکورہ بالاآیت کا تعلق بھی صرف قران سے ہے اسی لیے وہ پیغمبر کو صرف قران کی حد تک پیغمبر مانتے ہیں ۔ قران سے الگ کرلینے کے بعد العیاذ باللہ پیغمبر کی زندگی میں اور جو پیغمبر نہیں ہین ان کی زندگی میں ان برکندہ باد آنکھوں کے نزدیک کوئی فرق باقی نہیں رہا ۔ مگر بحمد اللہ اس فلسفہ کے شر نے ایک ایسے خیر کو پیدا کیا جس نے ثابت کردیا کہ مذکورہ بالا قرانی آیت کاواقعی مطلب بھی وہی ہے جو اس کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جارہا ہے یعنی قران ھی نہیں بلکہ نطق اور گفتگو جو بھی پیغمبر کی زبان سے نکلتی ہے اس کا قطعا الھوی ( پیغمبر کی ذاتی خواہش ) سے تعلق نہیں ہے بلکہ قرانی نطق ھو یا غیر قرانی نطق پیغمبر کا ہر نطق اور ان کی ہر گفتگو وحی ہے جوان پر خدا کی طرف سے کی جاتی ہے””
تدوین حدیث ، از مناظر احسن گیلانی ۔
مولانا گیلانی نے اس کتاب کے آغاز میں استدلالی عرفی یا اعتباری نوعیت سے حدیث کی جمع وتدوین کو تاریخی نوعیت کی چیز باور کروایا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حجیت کے پہلو سے بات کر رہے ہیں ۔
کسی بھی سابقہ چیز یا قضیہ کا استقصائی یا استیعابی مطالعہ یا جمع ضمنا وتبعا تاریخی نوعیت کا معاملہ ھی ھوتا ہے لیکن اس کا مقصد حقیقی یا اصلی اس ضمنی وذیلی امر پر تفوق اور تقدم رکھتا ہے ۔
میزان غامدی صاحب کی کتاب تعلیمات یا اصولوں کا نام ہے تاریخ کے ایک مخصوص حصہ اور زمانہ میں غامدی صاحب کے وجود کی بنا پر اس کی نسبت غامدی صاحب کی طرف تاریخی اعتبار سے بھی ہے کہ جب بھی جہاں بھی غامدی صاحب کا ترجمہ اور تذکرہ پایا جائے گا ان کے اصولیات کی کتابی صورت میزان کو ان کے تذکرے کے ذیل میں رکھا جائے گا ۔ لیکن اس سے میزان تاریخی کتاب قرار نہیں پائے گی ۔
حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کے علمی نام کے حوالہ سے بھی چند مغالطے فروغ دینے کی کوشش کی ہے ڈاکٹر عبد الفتاح ابو غدہ رح نے بخاری شریف کے حقیقی وعلمی نام پر مستقل ایک کتاب لکھی ہے:
” تحقیق اسمی الصحیحین واسم جامع الترمذی ”
اس کتاب میں شیخ نے امام ابن حجر پر بھی جرح کی ہے کہ انہوں نے صحیح بخاری کے علمی نام کے حوالہ سے ھدی الساری مقدمہ فتح الباری میں کامل انہماک سے کام نہیں لیا بلکہ ان سے سستی سرزد ھوئی ہے حالانکہ ” سنن ” لفظ ابن حجر کے ذکرکردہ نام میں بھی موجود ہے ۔
شیخ غدہ نے آئمہ فن واصول ، ابن صلاح ، امام نووی ، سخاوی ، قاضی عیاض ، امام عینی ، امام ابن رشید وغیرہ کی تصریحات ذکر کی ہیں کہ امام بخاری نے کتاب کا جو نام خود رکھا ہے اس میں ” سننہ ” کا لفظ موجود ہے اور جس کسی نے اس لفظ کے بغیر اس کا ذکر کیا ہے یہ اس کااپنا تصرف ہے نہ کہ مولف کا اس سے کوئی تعلق ہے ۔
حسن الیاس صاحب نے فربری ، ھروی وغیرہ کے نسخ کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان میں سنن ہے کا لفظ نہیں ہے یہ بھی حسن صاحب کا دھوکہ دینے کی کوشش ہے
شیخ ابو غدہ نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اس کے نسخ پر جو نام لکھے گئے ہیں وہ ان کے مستملی حضرات ( بخاری شریف کی روایت کرنے والوں ) کی جانب سے نہیں ہیں بلکہ اس کے حقیقی نام کا ذکر ھی قدیم نسخ پر موجود نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

اشراق کا استشراق

اشراق کا استشراق

حافظ محمد ریحان جاید احمد غامدی اور ان کے مکتبہء فکر سے تقریباً ہر پڑھا...