بحوالہ تدوینِ حدیث بخاری کو تاریخ کی کتاب باور کروانے کی حسن الیاس کی کوشش

Published On November 26, 2025
اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط سوم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط سوم

مسرور اعظم فرخ یہ کہنا کہ اسلامی شریعت میں ریاست یا خلافت کے قیام کا سرے سے کوئی حکم ہی موجود نہیں،دوسوالوں کو ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نتیجہ شروع ہی سے موجود تھا، یعنی کیا ماضی کے ہر دور میں اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے یہ سوچ اور...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط سوم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط دوم

مسرور اعظم فرخ  گزشتہ کالم میں غامدی صاحب کے موقف پر براہ راست گفتگو کرنے سے پہلے کچھ اصولی چیزیں بیان کی گئیں تاکہ اگلے مراحل کے مباحث کے لئے ایک مدد گار بنیاد فراہم ہو سکے۔غامدی صاحب اپنے پہلے مضمون (جنگ 22 جنوری 2015ء) میں رقمطراز ہیں:’’یہ خیال بے بنیاد ہے کہ ریاست...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط سوم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط اول

مسرور اعظم فرخ اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘‘اور ’’ریاست اور حکومت‘‘کے عنوانات سے جاوید غامدی صاحب کے دو مضامین روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا 22جنوری2015ء کو اور دوسرا 21فروری 2015ء کو شائع ہوا۔پہلا مضمون اگر محض الجھاؤ کا شکا ر تھا تو اس کی وضاحت میں...

خلافت : ایک قطعی فرضِ الہی

خلافت : ایک قطعی فرضِ الہی

عمر علی اول ۔ امام الجزيری، جو کہ چودھویں صدی ہجری کے معروف عالم ہیں اور ان کی رائے تقابلی فقہ میں مستند مانی جاتی ہے، نے نقل کیا ہے کہ چاروں امام (ابو حنیفہ، مالک، شافعي، احمد،رحمۃ اللہ عليھم) امامت (خلافت) کو ایک فرض سمجھتے تھے اور اس بات پر بھی متفق تھے کہ مسلمانوں...

عورت کا سوال اور غامدی صاحب کا غلط جواب

عورت کا سوال اور غامدی صاحب کا غلط جواب

ناقد : مولانا طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے ایک خاتون نے  رجم کی بابت سوال کیا  کہ " امتِ مسلمہ کی روایت میں تمام بڑے آئمہ محصن کے زنا کی سزا رجم بتاتے ہیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ اسکی سزا رجم نہیں بلکہ کوڑے ہیں ۔ تو کیا انہیں قرآن سمجھ میں نہیں آیا تھا" ...

منکرینِ حدیث کا رد : جاوید غامدی کو جواب

منکرینِ حدیث کا رد : جاوید غامدی کو جواب

ناقد : سیف اللہ محمدی  صاحب تلخیص : زید حسن منکرینِ حدیث عمل سے بھاگنے اور خود کو بچانے کے لئے احادیث کا انکار کرتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن میں احکامات کا اجمال ہے جبکہ اسکی تفصیل احادیث میں موجود ہے ۔ جیسے قرآن کہتا ہے : نماز پڑھو ، زکوۃ دو  یا بیت اللہ کا حج کرو ۔ اب ان...

علی کاظمی

مولانا مناظر احسن گیلانی کی جس کتاب کا حوالہ دے کر حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کو تاریخ کی کتاب باور کروایا ہے اسی کتاب میں آگے جا کر مولانا گیلانی ایت ” وما ینطق عن الھوی ” کی تشریح میں لکھتے ہیں :
“””حدیثوں کی ان ہی تحدیدی روایتوں کی بنیاد پر لوگ الجھ الجھ کر پھرپھڑا رہے اور کہتے ہیں کہ مذکورہ بالاآیت کا تعلق بھی صرف قران سے ہے اسی لیے وہ پیغمبر کو صرف قران کی حد تک پیغمبر مانتے ہیں ۔ قران سے الگ کرلینے کے بعد العیاذ باللہ پیغمبر کی زندگی میں اور جو پیغمبر نہیں ہین ان کی زندگی میں ان برکندہ باد آنکھوں کے نزدیک کوئی فرق باقی نہیں رہا ۔ مگر بحمد اللہ اس فلسفہ کے شر نے ایک ایسے خیر کو پیدا کیا جس نے ثابت کردیا کہ مذکورہ بالا قرانی آیت کاواقعی مطلب بھی وہی ہے جو اس کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جارہا ہے یعنی قران ھی نہیں بلکہ نطق اور گفتگو جو بھی پیغمبر کی زبان سے نکلتی ہے اس کا قطعا الھوی ( پیغمبر کی ذاتی خواہش ) سے تعلق نہیں ہے بلکہ قرانی نطق ھو یا غیر قرانی نطق پیغمبر کا ہر نطق اور ان کی ہر گفتگو وحی ہے جوان پر خدا کی طرف سے کی جاتی ہے””
تدوین حدیث ، از مناظر احسن گیلانی ۔
مولانا گیلانی نے اس کتاب کے آغاز میں استدلالی عرفی یا اعتباری نوعیت سے حدیث کی جمع وتدوین کو تاریخی نوعیت کی چیز باور کروایا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حجیت کے پہلو سے بات کر رہے ہیں ۔
کسی بھی سابقہ چیز یا قضیہ کا استقصائی یا استیعابی مطالعہ یا جمع ضمنا وتبعا تاریخی نوعیت کا معاملہ ھی ھوتا ہے لیکن اس کا مقصد حقیقی یا اصلی اس ضمنی وذیلی امر پر تفوق اور تقدم رکھتا ہے ۔
میزان غامدی صاحب کی کتاب تعلیمات یا اصولوں کا نام ہے تاریخ کے ایک مخصوص حصہ اور زمانہ میں غامدی صاحب کے وجود کی بنا پر اس کی نسبت غامدی صاحب کی طرف تاریخی اعتبار سے بھی ہے کہ جب بھی جہاں بھی غامدی صاحب کا ترجمہ اور تذکرہ پایا جائے گا ان کے اصولیات کی کتابی صورت میزان کو ان کے تذکرے کے ذیل میں رکھا جائے گا ۔ لیکن اس سے میزان تاریخی کتاب قرار نہیں پائے گی ۔
حسن الیاس صاحب نے بخاری شریف کے علمی نام کے حوالہ سے بھی چند مغالطے فروغ دینے کی کوشش کی ہے ڈاکٹر عبد الفتاح ابو غدہ رح نے بخاری شریف کے حقیقی وعلمی نام پر مستقل ایک کتاب لکھی ہے:
” تحقیق اسمی الصحیحین واسم جامع الترمذی ”
اس کتاب میں شیخ نے امام ابن حجر پر بھی جرح کی ہے کہ انہوں نے صحیح بخاری کے علمی نام کے حوالہ سے ھدی الساری مقدمہ فتح الباری میں کامل انہماک سے کام نہیں لیا بلکہ ان سے سستی سرزد ھوئی ہے حالانکہ ” سنن ” لفظ ابن حجر کے ذکرکردہ نام میں بھی موجود ہے ۔
شیخ غدہ نے آئمہ فن واصول ، ابن صلاح ، امام نووی ، سخاوی ، قاضی عیاض ، امام عینی ، امام ابن رشید وغیرہ کی تصریحات ذکر کی ہیں کہ امام بخاری نے کتاب کا جو نام خود رکھا ہے اس میں ” سننہ ” کا لفظ موجود ہے اور جس کسی نے اس لفظ کے بغیر اس کا ذکر کیا ہے یہ اس کااپنا تصرف ہے نہ کہ مولف کا اس سے کوئی تعلق ہے ۔
حسن الیاس صاحب نے فربری ، ھروی وغیرہ کے نسخ کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان میں سنن ہے کا لفظ نہیں ہے یہ بھی حسن صاحب کا دھوکہ دینے کی کوشش ہے
شیخ ابو غدہ نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اس کے نسخ پر جو نام لکھے گئے ہیں وہ ان کے مستملی حضرات ( بخاری شریف کی روایت کرنے والوں ) کی جانب سے نہیں ہیں بلکہ اس کے حقیقی نام کا ذکر ھی قدیم نسخ پر موجود نہیں ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…