نبوی تمدن اور تقرری امیر کے اصول غامدی اور عمار خان ناصر کا مغالطہ

Published On November 26, 2025
۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

علی کاظمی

غامدی اور عمار صاحب کے فہم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ نبوی تمدن میں تقرر امیر کے لیے عرب جاہلیہ کے تصور عصبہ ( بدمعاشی اور دھونس ) کو معیار بناتے ہیں اور یزید علیہ ماعلیہ کے غلط تقرر کو تصور عصبہ کی رو سے جائز قرار دیتے ہیں ۔
ان دو حضرات کے اس تصور عصبہ پر مختلف جہتی تنقید ھوسکتی ہے اور ھم گاہے گاہے اس جانب اشارہ کرتے بھی رہتے ہیں ۔
آج یہاں ھم یہ عرض کرنا چاہتے کہ نبوی تمدن میں ( میثاق مدینہ کے زریعہ تشکیل پانے والے سماج ) امیر کے تقرر کے لیے اقدار اصول اور اخلاق طے شدہ تھے ۔
چنانچہ مدینہ میں بلائی جانے والی ایک میٹنگ میں مروان نے یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت لینا چاھی اس پر ایک شور وہنگامہ کھڑا ھوگیا اور سیدنا صدیق اکبر رض عنہ کے بڑے صاحبزادے عبد الرحمن بن ابی بکر رض نے اس بیعت کو ” قیصریت ” سے تعبیر کیا ۔ نہ صرف یہاں ایسا ھوا بلکہ متعدد مواقع پر خود حضرت معاویہ کے سامنے بھی اسے غلط روش قرار دیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے پہلے نبی صلعم سے لے کر چاروں خلفا میں سے کس نے اپنے بیٹے کو اپنے بعد اپنے ھی زمانے میں امیر بنایا ہے ۔
یہ بحث وتمحیص اور یزید کے تقرر سے نفور واضح کرتا ہے کہ روایات ، لیگسی اور نظائر کی روشنی میں عہد صحابہ کے اندر امیر کے تقرر کے لیے مسلم معاشرے کا ذہن بلکل یکسو اور واضح تھا اور ان کے نزدیک اپنے بعد بیٹے کا تقرر نہ صرف غلط روش بلکہ اسلامی اقدار کے بھی منافی عمل تھا ۔
یزید کا تقرر یک جہتی غلطی نہیں بلکہ ایک ھمہ گیر غلطی تھی ، اور اس کے اندر متعدد درج زیل غلطیاں پنہا تھیں ۔
1 ۔ اقدار اصول اور سماجی اخلاقیات کے مغایر اس کا تقرر عمل میں لایا گیا تھا ۔
2 ۔ یزید کی ذہنی لیاقت وقابلیت اور اس عہدے کے لیے ضروری ومطلوب صلاحیت کو بلکل نظر انداز کیا گیا ۔
3 ۔ بصیرت حکمت اور وزڈم کی سطح پر بھی یزید کے تقرر کے آفٹر ایفیکٹس کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور 60 ھجری کے بعد جو اندوہناک سانحات در سانحات ھوئے اس کا پیشگی سطح پر جائزہ نہیں لیا گیا ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے ” حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق ” میں لکھا ہے کہ یزید کو ولی عہد بنانے کے پیچھے حضرت معاویہ کی نیت کی غلطی یا اس کا امکاں موجود نہیں تھا ہاں نتائج کے اعتبار سے یزید کا امیر بننا یقینا غلطی اور سخت نقصان کا باعث تھا

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.