نبوی تمدن اور تقرری امیر کے اصول غامدی اور عمار خان ناصر کا مغالطہ

Published On November 26, 2025
اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

تنویر قیصر شاہد اسرائیل کی وحشت اور دہشت کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی ملک، عالمی ادارے یا قانون کو ماننے پر تیار نہیں۔ فلسطین کی ایک چھوٹی سی پٹّی ، غزہ، میں محصور فلسطینیوں کے خلاف صیہونی اسرائیلی افواج کو بروئے کار آئے ہُوئے آج ایک مہینہ اور تین دن ہو چکے ہیں۔ اِس...

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی تلخیص : زید حسن غامدی  صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ " حقوق العباد" معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔" ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا " میں عموم ہے ۔ البتہ" ان اللہ لا یغفر  ان یشرک...

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے موسیقی، میوزک ، انٹرٹینمنٹ  کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ جائز ہے یا ناجائز ؟ ارشاد فرمایا :  یہ سب حلال ہیں ۔ اور اپنے بیانیے کا مقدمہ اس طرح باندھا کہ "مختلف چیزوں کو حرام کہنا اور اسکے ذریعے سے استبداد پادریوں...

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن ایک سوال کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم افراد کے لئے جمعہ کا کیا حکم ہے ؟ غامدی صاحب نے جو جواب عنایت فرمایا اس پر ہمارے کچھ ملاحظات ہیں ۔ غامدی صاحب نے تین باتیں کیں جو درج ذیل ہیں ۔ اول ۔ " جمعہ ریاست پر فرض ہے "۔ اگر اس سے انکی...

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

سلمان احمد شیخ جناب جاوید صاحب نے اپنے حالیہ عوامی لیکچرز میں اس بات کی تائید کی ہے کہ روایتی بینکوں سے اثاثہ کی خریداری کے لیے کسی بھی قسم کا قرض لینا اسلام میں جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنانس لیز اور مارٹگیج فائنانسنگ سب اسلام میں جائز ہیں۔ وہ یہ بھی اصرار کرتے...

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

حسن بن علی نزول عیسی کی بابت قرآن میں تصریح بھی ہے (وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون، سورة الزخرف - 61) اور ایماء بھی (وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ،سورة النساء - 159؛ ويكلم الناس في المهد وكهلا، سورة آل عمران - 46؛ أفمن كان على بينة من ربه ويتلوه...

علی کاظمی

غامدی اور عمار صاحب کے فہم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ نبوی تمدن میں تقرر امیر کے لیے عرب جاہلیہ کے تصور عصبہ ( بدمعاشی اور دھونس ) کو معیار بناتے ہیں اور یزید علیہ ماعلیہ کے غلط تقرر کو تصور عصبہ کی رو سے جائز قرار دیتے ہیں ۔
ان دو حضرات کے اس تصور عصبہ پر مختلف جہتی تنقید ھوسکتی ہے اور ھم گاہے گاہے اس جانب اشارہ کرتے بھی رہتے ہیں ۔
آج یہاں ھم یہ عرض کرنا چاہتے کہ نبوی تمدن میں ( میثاق مدینہ کے زریعہ تشکیل پانے والے سماج ) امیر کے تقرر کے لیے اقدار اصول اور اخلاق طے شدہ تھے ۔
چنانچہ مدینہ میں بلائی جانے والی ایک میٹنگ میں مروان نے یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت لینا چاھی اس پر ایک شور وہنگامہ کھڑا ھوگیا اور سیدنا صدیق اکبر رض عنہ کے بڑے صاحبزادے عبد الرحمن بن ابی بکر رض نے اس بیعت کو ” قیصریت ” سے تعبیر کیا ۔ نہ صرف یہاں ایسا ھوا بلکہ متعدد مواقع پر خود حضرت معاویہ کے سامنے بھی اسے غلط روش قرار دیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے پہلے نبی صلعم سے لے کر چاروں خلفا میں سے کس نے اپنے بیٹے کو اپنے بعد اپنے ھی زمانے میں امیر بنایا ہے ۔
یہ بحث وتمحیص اور یزید کے تقرر سے نفور واضح کرتا ہے کہ روایات ، لیگسی اور نظائر کی روشنی میں عہد صحابہ کے اندر امیر کے تقرر کے لیے مسلم معاشرے کا ذہن بلکل یکسو اور واضح تھا اور ان کے نزدیک اپنے بعد بیٹے کا تقرر نہ صرف غلط روش بلکہ اسلامی اقدار کے بھی منافی عمل تھا ۔
یزید کا تقرر یک جہتی غلطی نہیں بلکہ ایک ھمہ گیر غلطی تھی ، اور اس کے اندر متعدد درج زیل غلطیاں پنہا تھیں ۔
1 ۔ اقدار اصول اور سماجی اخلاقیات کے مغایر اس کا تقرر عمل میں لایا گیا تھا ۔
2 ۔ یزید کی ذہنی لیاقت وقابلیت اور اس عہدے کے لیے ضروری ومطلوب صلاحیت کو بلکل نظر انداز کیا گیا ۔
3 ۔ بصیرت حکمت اور وزڈم کی سطح پر بھی یزید کے تقرر کے آفٹر ایفیکٹس کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور 60 ھجری کے بعد جو اندوہناک سانحات در سانحات ھوئے اس کا پیشگی سطح پر جائزہ نہیں لیا گیا ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے ” حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق ” میں لکھا ہے کہ یزید کو ولی عہد بنانے کے پیچھے حضرت معاویہ کی نیت کی غلطی یا اس کا امکاں موجود نہیں تھا ہاں نتائج کے اعتبار سے یزید کا امیر بننا یقینا غلطی اور سخت نقصان کا باعث تھا

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.