نبوی تمدن اور تقرری امیر کے اصول غامدی اور عمار خان ناصر کا مغالطہ

Published On November 26, 2025
علماء کے سیاسی کردار پر جناب غامدی کا موقف

علماء کے سیاسی کردار پر جناب غامدی کا موقف

ابو عمار زاہد الراشدی اول- اس بحث کا پس منظر غالباً عید الفطر کے ایام کی بات ہے کہ محترم جاوید احمد غامدی نے پشاور پریس کلب میں جہاد، فتویٰ، زکوٰۃ، ٹیکس اور علماء کے سیاسی کردار کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جو ملک کے جمہور علماء کے موقف اور طرز عمل سے مختلف...

غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون کے جواب میں غامدی صاحب کی تائید میں لکھی جانے والی دو تحریریں نظر سے گزریں ، جن کے حوالے سے کچھ گزارشات اہل علم کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ جناب طالب محسن صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے سنت کے متعلق رقم طراز ہے کہ " دوم یہ کہ سنت قران کے بعد نہیں   بلکہ قران سے مقدم ہے ۔ اس لیے وہ لازما اس کے حاملین کے اجماع وتواتر ہی سے اخذ کی جائے گی ۔ قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہوا ہے   ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواتر پر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 84)

مولانا واصل واسطی تیسری وجہ اس بنیاد کے غلط ہونے کی یہ ہے   کہ جناب غامدی نے قران مجید کی جن آیات کو اس کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیاہے اس کو تسلیم کرنے کے بعد بھی انسان یہ سمجھتاہے   کہ اس کو جو  ہدایت   دی گئی ہے اور جو " شعور " عطا کیاگیا ہے وہ محض اجمالی " معرفت...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 83)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس خلل کے متعلق یہ ہے کہ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ " شعورِخوب وناخوب کو اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں ودیعت کیا ہے اور اسے ان کی فطرت میں رکھا ہے " اس بات تک وہ انسانی فطرت کے براہِ راست مطالعے کے نتیجے میں نہیں پہنچے ۔ نہ ان لوگوں نے براہِ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 85)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے لکھتے ہیں " قران کا یہی پس منظر ہے جس کی رعایت سے یہ چندباتیں اس کی شرح و تفصیل میں بطورِاصول ماننی چاہیئں (1) اول یہ کہ پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتاہے جوانسانی فطرت میں روزِاول سے ودیعت ہیں ۔اور...

علی کاظمی

غامدی اور عمار صاحب کے فہم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ نبوی تمدن میں تقرر امیر کے لیے عرب جاہلیہ کے تصور عصبہ ( بدمعاشی اور دھونس ) کو معیار بناتے ہیں اور یزید علیہ ماعلیہ کے غلط تقرر کو تصور عصبہ کی رو سے جائز قرار دیتے ہیں ۔
ان دو حضرات کے اس تصور عصبہ پر مختلف جہتی تنقید ھوسکتی ہے اور ھم گاہے گاہے اس جانب اشارہ کرتے بھی رہتے ہیں ۔
آج یہاں ھم یہ عرض کرنا چاہتے کہ نبوی تمدن میں ( میثاق مدینہ کے زریعہ تشکیل پانے والے سماج ) امیر کے تقرر کے لیے اقدار اصول اور اخلاق طے شدہ تھے ۔
چنانچہ مدینہ میں بلائی جانے والی ایک میٹنگ میں مروان نے یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت لینا چاھی اس پر ایک شور وہنگامہ کھڑا ھوگیا اور سیدنا صدیق اکبر رض عنہ کے بڑے صاحبزادے عبد الرحمن بن ابی بکر رض نے اس بیعت کو ” قیصریت ” سے تعبیر کیا ۔ نہ صرف یہاں ایسا ھوا بلکہ متعدد مواقع پر خود حضرت معاویہ کے سامنے بھی اسے غلط روش قرار دیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے پہلے نبی صلعم سے لے کر چاروں خلفا میں سے کس نے اپنے بیٹے کو اپنے بعد اپنے ھی زمانے میں امیر بنایا ہے ۔
یہ بحث وتمحیص اور یزید کے تقرر سے نفور واضح کرتا ہے کہ روایات ، لیگسی اور نظائر کی روشنی میں عہد صحابہ کے اندر امیر کے تقرر کے لیے مسلم معاشرے کا ذہن بلکل یکسو اور واضح تھا اور ان کے نزدیک اپنے بعد بیٹے کا تقرر نہ صرف غلط روش بلکہ اسلامی اقدار کے بھی منافی عمل تھا ۔
یزید کا تقرر یک جہتی غلطی نہیں بلکہ ایک ھمہ گیر غلطی تھی ، اور اس کے اندر متعدد درج زیل غلطیاں پنہا تھیں ۔
1 ۔ اقدار اصول اور سماجی اخلاقیات کے مغایر اس کا تقرر عمل میں لایا گیا تھا ۔
2 ۔ یزید کی ذہنی لیاقت وقابلیت اور اس عہدے کے لیے ضروری ومطلوب صلاحیت کو بلکل نظر انداز کیا گیا ۔
3 ۔ بصیرت حکمت اور وزڈم کی سطح پر بھی یزید کے تقرر کے آفٹر ایفیکٹس کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور 60 ھجری کے بعد جو اندوہناک سانحات در سانحات ھوئے اس کا پیشگی سطح پر جائزہ نہیں لیا گیا ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے ” حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق ” میں لکھا ہے کہ یزید کو ولی عہد بنانے کے پیچھے حضرت معاویہ کی نیت کی غلطی یا اس کا امکاں موجود نہیں تھا ہاں نتائج کے اعتبار سے یزید کا امیر بننا یقینا غلطی اور سخت نقصان کا باعث تھا

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.