نبوی تمدن اور تقرری امیر کے اصول غامدی اور عمار خان ناصر کا مغالطہ

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

مولانا واصل واسطی چوتھے اعتراض میں جناب غامدی لکھتے ہیں کہ ،، یہی معاملہ ان روایتوں کا بھی ہے جو سیدنا صدیق اور ان کے بعد سیدنا عثمان کے دور میں قرآن کی جمع وتدوین سے متعلق حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ قران  جیسا کہ اس بحث کی ابتداء میں بیان ہوا ، اس معاملے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 29)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی مسئلہِ قراءآت پر چوتھا اعتراض یوں کرتے ہیں "کہ اس میں بعض دیگر چیزیں بھی ملاکر خوب زہرآلود جام بناکرعوام کے سامنے پلانے کےلیے رکھ دیتے ہیں ، ملاحظہ ہو ،، چہارم یہ کہ ہشام کے بارے میں معلوم ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ایمان لائے تھے  لہذااس روایت...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 28)

مولانا واصل واسطی تیسرااعترض جناب غامدی نے اس روایت پر یہ کیاہے کہ ،، سوم یہ کہ اختلاف اگر الگ الگ قبیلوں کے افراد میں بھی ہوتا تو ،، انزل ،، کالفظ اس روایت میں ناقابلِ توجیہ ہی تھا  اس لیے کہ قران نے اپنے متعلق پوری صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ وہ قریش کی زبان میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 27)

مولانا واصل واسطی تیسری گزارش جناب غامدی کے اس قول کے حوالے سے یہ ہے کہ اس حدیث کا معنی صرف معما ہے ۔کوئی بھی اس معما کو امت کی تاریخ میں حل نہیں کرسکا بلکہ وہ حدیث بے معنی ہے ۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ امت نے اس کا مفہوم سمجھ لیا تھا   تب ہی تو انھوں اس کے متعلق ،، اجماع...

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور لونڈیوں کی سزا پر ان کی وضاحت پر

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور لونڈیوں کی سزا پر ان کی وضاحت پر

ڈاکٹر زاہد مغل تبصرہ محترم جناب غامدی صاحب کے تصور تبیین کی قرآن کے محاورے میں غلطی واضح کرنے کے لئے دی گئیں چھ میں سے آخری مثال بدکار مرد و عورت کی سزا سے متعلق تھی۔ سورۃ نور کی آیت 2 میں ان کی سزا 100 کوڑے بیان ہوئی تاہم سورۃ نساء آیت 4 میں ارشاد ہوا کہ بدکار لونڈی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 26)

مولانا واصل واسطی دوسری گذارش اس اعترض کے حوالے سے یہ ہے کہ اس حدیث کا معنی ومفہوم بھی اہلِ علم کو معلوم ہے اورانھوں نے اس مسئلے کا حل نکالا بھی ہے۔ بہت سارے محققین نے امام ابن جریر الطبری کی اس رائے کو اختیار کیا ہے ، کہ ،، سبعةاحرف ،، سے مراد مختلف قبیلوں کے لہجے...

علی کاظمی

غامدی اور عمار صاحب کے فہم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ نبوی تمدن میں تقرر امیر کے لیے عرب جاہلیہ کے تصور عصبہ ( بدمعاشی اور دھونس ) کو معیار بناتے ہیں اور یزید علیہ ماعلیہ کے غلط تقرر کو تصور عصبہ کی رو سے جائز قرار دیتے ہیں ۔
ان دو حضرات کے اس تصور عصبہ پر مختلف جہتی تنقید ھوسکتی ہے اور ھم گاہے گاہے اس جانب اشارہ کرتے بھی رہتے ہیں ۔
آج یہاں ھم یہ عرض کرنا چاہتے کہ نبوی تمدن میں ( میثاق مدینہ کے زریعہ تشکیل پانے والے سماج ) امیر کے تقرر کے لیے اقدار اصول اور اخلاق طے شدہ تھے ۔
چنانچہ مدینہ میں بلائی جانے والی ایک میٹنگ میں مروان نے یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت لینا چاھی اس پر ایک شور وہنگامہ کھڑا ھوگیا اور سیدنا صدیق اکبر رض عنہ کے بڑے صاحبزادے عبد الرحمن بن ابی بکر رض نے اس بیعت کو ” قیصریت ” سے تعبیر کیا ۔ نہ صرف یہاں ایسا ھوا بلکہ متعدد مواقع پر خود حضرت معاویہ کے سامنے بھی اسے غلط روش قرار دیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے پہلے نبی صلعم سے لے کر چاروں خلفا میں سے کس نے اپنے بیٹے کو اپنے بعد اپنے ھی زمانے میں امیر بنایا ہے ۔
یہ بحث وتمحیص اور یزید کے تقرر سے نفور واضح کرتا ہے کہ روایات ، لیگسی اور نظائر کی روشنی میں عہد صحابہ کے اندر امیر کے تقرر کے لیے مسلم معاشرے کا ذہن بلکل یکسو اور واضح تھا اور ان کے نزدیک اپنے بعد بیٹے کا تقرر نہ صرف غلط روش بلکہ اسلامی اقدار کے بھی منافی عمل تھا ۔
یزید کا تقرر یک جہتی غلطی نہیں بلکہ ایک ھمہ گیر غلطی تھی ، اور اس کے اندر متعدد درج زیل غلطیاں پنہا تھیں ۔
1 ۔ اقدار اصول اور سماجی اخلاقیات کے مغایر اس کا تقرر عمل میں لایا گیا تھا ۔
2 ۔ یزید کی ذہنی لیاقت وقابلیت اور اس عہدے کے لیے ضروری ومطلوب صلاحیت کو بلکل نظر انداز کیا گیا ۔
3 ۔ بصیرت حکمت اور وزڈم کی سطح پر بھی یزید کے تقرر کے آفٹر ایفیکٹس کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور 60 ھجری کے بعد جو اندوہناک سانحات در سانحات ھوئے اس کا پیشگی سطح پر جائزہ نہیں لیا گیا ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے ” حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق ” میں لکھا ہے کہ یزید کو ولی عہد بنانے کے پیچھے حضرت معاویہ کی نیت کی غلطی یا اس کا امکاں موجود نہیں تھا ہاں نتائج کے اعتبار سے یزید کا امیر بننا یقینا غلطی اور سخت نقصان کا باعث تھا

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.