نبوی تمدن اور تقرری امیر کے اصول غامدی اور عمار خان ناصر کا مغالطہ

Published On November 26, 2025
فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

فراہی مکتب فکر کا قطعی الدلالت: جناب ساجد حمید صاحب کی تحریر سے مثال

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب کے شاگرد محترم ساجد حمید صاحب نے کسی قدر طنز سے کام لیتے ہوئے اصولیین کے اس تصور پر تنقید کی ہے کہ الفاظ قرآن کی دلالت ظنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بگاڑ کی اصل وجہ امام شافعی ہی سے شروع ہوجاتی ہے جس میں اصولیین، فلاسفہ و صوفیا نے بقدر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 1)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 1)

مولانا واصل واسطی ہم نے یہ بات اپنی مختلف پوسٹوں میں صراحت سے بیان کی ہے ، کہ جناب جاوید غامدی، غلام احمدپرویز کی طرح  بالکل منکرِحدیث ہیں ۔البتہ ان کا یہ فلسفہ پیچ درپیچ ہے ، وہ اس لیے کہ انھوں نے پرویز وغیرہ کا انجام دیکھ لیا ہے ، اب اس برے انجام سے وہ بچنا چاھتے...

قطعی و ظنی الدلالۃ: امام شافعی پر جناب ساجد حمید صاحب کے نقد پر تبصرہ

قطعی و ظنی الدلالۃ: امام شافعی پر جناب ساجد حمید صاحب کے نقد پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل جناب ساجد حمید صاحب نے اپنی تحریر “قرآن کیوں قطعی الدلالۃ نہیں؟”میں فرمایا ہے کہ امت میں یہ نظریہ امام شافعی اور ان سے متاثر دیگر اصولیین کی آرا کی وجہ سے راہ پا گیا ہے کہ الفاظ قرآن کی دلالت قطعی نہیں۔ آپ نے امام شافعی کی کتاب الرسالۃ سے یہ تاثر دینے...

امام رازی اور قانون کلی کی تنقید پر تبصرہ

امام رازی اور قانون کلی کی تنقید پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل اہل علم متکلمین و اصولیین کے ہاں “قانون کلی ” کی بحث سے واقف ہیں۔ اس بحث کو لے کر شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے امام غزالی رحمہ اللہ کو ضمناً  جبکہ امام رازی  رحمہ اللہ  کو بالخصوص  شد و مد سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امام رازی پر اعتراض یہ ہے کہ ان کے...

تصورِ نظمِ کلام کے مضمرات ( فکرِ غامدی پر نقد)

تصورِ نظمِ کلام کے مضمرات ( فکرِ غامدی پر نقد)

خضر یسین ہر بامعنی لفظ، ایک اسم ہوتا ہے۔ جس کا مسمی ذہن میں ہو تو معنی یا موضوع اور خارج میں ہو تو مدلول یا معروض کہلاتا ہے۔ لفظ کے بغیر ذہن میں تصور تشکیل نہیں پا سکتا ہے اور نہ تفہیم و تفکر کا عمل ممکن ہو سکتا ہے۔ الفاظ کا مجموعہ کلام نہیں ہوتا، بامعنی الفاظ کی...

نظمِ قران، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت

نظمِ قران، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت

جہانگیر حنیف نظمِ قرآن، تاویلِ واحد اور قطعی دلالت کا نظریہ ایک ہی پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔ وہ پراجیکٹ قرآن مجید کے متن کو ایک نئی ہرمیونیٹکس دینا ہے۔ یہ خیال اس احساس سے پیدا ہوا کہ روایتی اور مروج و متداول اصولِ تفسیر قرآن مجید میں اپنی بنیاد نہیں رکھتے۔ ان کا اطلاق قرآن...

علی کاظمی

غامدی اور عمار صاحب کے فہم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ نبوی تمدن میں تقرر امیر کے لیے عرب جاہلیہ کے تصور عصبہ ( بدمعاشی اور دھونس ) کو معیار بناتے ہیں اور یزید علیہ ماعلیہ کے غلط تقرر کو تصور عصبہ کی رو سے جائز قرار دیتے ہیں ۔
ان دو حضرات کے اس تصور عصبہ پر مختلف جہتی تنقید ھوسکتی ہے اور ھم گاہے گاہے اس جانب اشارہ کرتے بھی رہتے ہیں ۔
آج یہاں ھم یہ عرض کرنا چاہتے کہ نبوی تمدن میں ( میثاق مدینہ کے زریعہ تشکیل پانے والے سماج ) امیر کے تقرر کے لیے اقدار اصول اور اخلاق طے شدہ تھے ۔
چنانچہ مدینہ میں بلائی جانے والی ایک میٹنگ میں مروان نے یزید کی ولی عہدی کے لیے بیعت لینا چاھی اس پر ایک شور وہنگامہ کھڑا ھوگیا اور سیدنا صدیق اکبر رض عنہ کے بڑے صاحبزادے عبد الرحمن بن ابی بکر رض نے اس بیعت کو ” قیصریت ” سے تعبیر کیا ۔ نہ صرف یہاں ایسا ھوا بلکہ متعدد مواقع پر خود حضرت معاویہ کے سامنے بھی اسے غلط روش قرار دیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے پہلے نبی صلعم سے لے کر چاروں خلفا میں سے کس نے اپنے بیٹے کو اپنے بعد اپنے ھی زمانے میں امیر بنایا ہے ۔
یہ بحث وتمحیص اور یزید کے تقرر سے نفور واضح کرتا ہے کہ روایات ، لیگسی اور نظائر کی روشنی میں عہد صحابہ کے اندر امیر کے تقرر کے لیے مسلم معاشرے کا ذہن بلکل یکسو اور واضح تھا اور ان کے نزدیک اپنے بعد بیٹے کا تقرر نہ صرف غلط روش بلکہ اسلامی اقدار کے بھی منافی عمل تھا ۔
یزید کا تقرر یک جہتی غلطی نہیں بلکہ ایک ھمہ گیر غلطی تھی ، اور اس کے اندر متعدد درج زیل غلطیاں پنہا تھیں ۔
1 ۔ اقدار اصول اور سماجی اخلاقیات کے مغایر اس کا تقرر عمل میں لایا گیا تھا ۔
2 ۔ یزید کی ذہنی لیاقت وقابلیت اور اس عہدے کے لیے ضروری ومطلوب صلاحیت کو بلکل نظر انداز کیا گیا ۔
3 ۔ بصیرت حکمت اور وزڈم کی سطح پر بھی یزید کے تقرر کے آفٹر ایفیکٹس کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور 60 ھجری کے بعد جو اندوہناک سانحات در سانحات ھوئے اس کا پیشگی سطح پر جائزہ نہیں لیا گیا ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے ” حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق ” میں لکھا ہے کہ یزید کو ولی عہد بنانے کے پیچھے حضرت معاویہ کی نیت کی غلطی یا اس کا امکاں موجود نہیں تھا ہاں نتائج کے اعتبار سے یزید کا امیر بننا یقینا غلطی اور سخت نقصان کا باعث تھا

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.