پاپولر تصور کی آڑ میں موجوداستدلال کا کھوکھلاپن

Published On November 26, 2025
(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حج اور جہاد کی فرضیت صرف اسی کےلیے ہوتی ہے جو استطاعت رکھتا ہو۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، لیکن اس میں بہت ہی بنیادی نوعیت کی غلطی پائی جاتی ہے اور اس غلطی کا تعلق شرعی حکم تک پہنچنے کے طریقِ کار سے ہے۔ سب سے پہلے...

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

حسان بن علی بات محض حکمت عملی کے اختلاف کی نہیں کہ مسلمان فی الحال جنگ کو چھوڑ رکھیں بلکہ بات پورے ورلڈ ویو اور نظریے کی ہے کہ غامدی صاحب کی فکر میں مسلمانوں کی اجتماعی سیادت و بالادستی اساسا مفقود ہے (کہ خلافت کا تصور ان کے نزدیک زائد از اسلام تصور ہے)، اسى طرح...

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عمر عزیز کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی خدمت میں صرف ہوا ہے۔ لیکن یہ قرآن مجید کے بجائے عربی زبان و ادب کی خدمت تھی یا تخصیص سے بیان کیا جائے تو یہ قرآن مجید کے عربی اسلوب کی خدمت تھی۔ قرآن مجید کا انتخاب صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ...

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

ڈاکٹرزاہد مغل علم کلام کے مباحث کو غیر ضروری کہنے اور دلیل حدوث پر اعتراض کرنے کے لئے جناب غامدی صاحب نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن سے متعلق دیگر علوم جیسے کہ اصول فقہ، فقہ و تفسیر وغیرہ کے برعکس علم کلام ناگزیر مسائل سے بحث نہیں کرتا اس لئے کہ...

غزہ، جہاد کی فرضیت اور غامدی صاحب

غزہ، جہاد کی فرضیت اور غامدی صاحب

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب سے جہاد کی فرضیت کے متعلق علماے کرام کے فتوی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے تین صورتیں ذکر کیں:۔ایک یہ کہ جب کامیابی کا یقین ہو، تو جہاد یقینا واجب ہے؛دوسری یہ کہ جب جیتنے کا امکان ہو، تو بھی لڑنا واجب ہے اور یہ اللہ کی طرف سے نصرت...

غامدی صاحب کا ایک اور بے بنیاد دعویٰ

غامدی صاحب کا ایک اور بے بنیاد دعویٰ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اپنی ملامت کا رخ مسلسل مسلمانوں کی طرف کرنے پر جب غامدی صاحب سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ظالموں کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے، تو فرماتے ہیں کہ میری مذمت سے کیا ہوتا ہے؟ اور پھر اپنے اس یک رخے پن کےلیے جواز تراشتے ہوئے انبیاے بنی اسرائیل کی مثال دیتے ہیں...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے فکر وفہم کو تھوڑا بہت سمجھنے اور اس کے مطالعہ سے یہ ابتدائی تاثر اخذ ھوا ہے کہ غامدی صاحب اکثر ایک پاپولر عصری بیانیہ یا تصور اٹھاتے ہیں اور اس کے ارد گرد کھوکھلے اور ملمعاتی ( ملمع ) استدلال کی ایک دیوار چن کر کہتے ہیں کہ دیکھو میں نے حجت تمام کر دی۔ حالانکہ ان کی اس تحقیق میں اصل جاذبیت اور تنویریت اس پاپولر تصور کی ھوتی ہے نہ کہ استدلال کی ۔
پاپولر تصور کی نفسیات اور روح ہے ھی یہی کہ وہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی امر نہیں ھوتا بس اس کی اھمیت، جاذبیت اور رعنائی اس کا پاپولر وجذباتی ھونا ہے ۔ اس کو مزید پختگی غامدی صاحب کے اصلا ادیب ھونے سے مہیا ھوتی ہے ۔
مثال کے طور پر ان کے بنیادی واساسی نظریہ ” قطعیت قران ” کو دیکھا جائے تو ان کے مطابق حدیث کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قران کی قطعیت ، بالادستی ، حاکمیت اور ساورنٹی کا تصور مجروح ھوتا ہے اور حدیث کو ماننے کا لازمی وطبیعی نتیجہ یہی نکلتا ہے ، کہ یہ قران سے بالادست کوئی حقیقت ہے جو اس کی تخصیص وزیادت کرسکتی ہے۔
لیکن اگلے ھی لمحہ وہ خود ” سنت ” کو قران پر مقدم مانتے ہیں ۔اور کہتے ہیں قران اصل یا سٹیٹ آف دی آرٹ نوعیت کا کوئی مذھبی صحیفہ یا کتاب نہیں ہے بلکہ یہ دین ابراھیمی کی از سر نو دریافت اور ایکسپولریشن ہے۔
یاد رہے کہ سنت ان کے نزدیک اصلا حضرت ابراہیم کی اداوں ، دین ابراھیمی کی روایات اور رسمیات کا نام ہے جسے فرعی ذیلی تبعی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کے بعد نافذ کیا ہے ۔ یوں اگر کوئی دینی حقیقت اگر ہے تو وہ دین ابراھیمی ہے نہ کہ دین محمدی اور اگر کوئی اصل متن وصحیفہ ہے تو وہ روایات براھیمی ہیں نہ کہ قران ۔
یہ نظریہ اگرچہ اپنی داخلی منقطیت میں ھی پیچیدہ ترین ہے لیکن وہیں تضاد پر بھی مبنی ہے کہ ایک طرف آپ احادیث رسول کا انکار اس لیے کریں کہ وہ قطعیت قران کے متوازی ہیں وہیں آپ غیر مستند ابراھیمی روایات کو قران پر بھی مقدم اور فائق قرار دیں اور اس سے آپ کا نظریہ قطعیت قران مجروح بھی نہ ھو ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…