پاپولر تصور کی آڑ میں موجوداستدلال کا کھوکھلاپن

Published On November 26, 2025
(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ گروہ غامدی کی تاویلات (دوم

ڈاکٹر زاہد مغل ان مخالف دلائل کے بعد اب غامدی صاحب اور ان کے مقلدین کی چند تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں جو یہ حضرات اپنےدفاع کے لیے پیش کرتے ہیں۔اول: کفر کا جوہر: ’انکار ایمان‘ یا ’عدم اقرار‘؟ درحقیقت غامدی صاحب کے نظریہ کفر کی بنیاد ہی غلط تصور پر قائم ہے۔ چنانچہ گروہ...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات (اول

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس...

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ تھی کہ غامدی صاحب کے منتسبین میں ایک نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے، یا اس کی غلطی واضح کرنے، کے بجائے اس کا...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

طارق محمود ہاشمی راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا...

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

طارق محمود ہاشمی تکفیر کے جواز کے بارے میں بعض متجددین نے ایک خلطِ مبحث پیدا کر دیا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی جاوید غامدی صاحب کا ”جوابی بیانیہ“ بھی ہے، جس میں تکفیر کے مسئلے میں متشددانہ نقطہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو تکفیر کو سرے سے ممنوع قرار دیا ہے جس کی غرض یہ...

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

ناقد : مفتی یاسر ندیم واجدی  تلخیص : زید حسن سائل  نوید افضل   : غامدی صاحب "اعتراضات کا جائزہ" کے عنوان سے جوابات دے رہے ہیں ۔ جس میں ارتداد کی سزا کی بابت انہوں نے فرمایا ہے کہ اس کی سزا قتل نہیں ہے ۔ اسکی تین وجوہات انہوں نے ذکر کی ہیں ۔ اول  ۔ لا اکراہ فی الدین سے...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے فکر وفہم کو تھوڑا بہت سمجھنے اور اس کے مطالعہ سے یہ ابتدائی تاثر اخذ ھوا ہے کہ غامدی صاحب اکثر ایک پاپولر عصری بیانیہ یا تصور اٹھاتے ہیں اور اس کے ارد گرد کھوکھلے اور ملمعاتی ( ملمع ) استدلال کی ایک دیوار چن کر کہتے ہیں کہ دیکھو میں نے حجت تمام کر دی۔ حالانکہ ان کی اس تحقیق میں اصل جاذبیت اور تنویریت اس پاپولر تصور کی ھوتی ہے نہ کہ استدلال کی ۔
پاپولر تصور کی نفسیات اور روح ہے ھی یہی کہ وہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی امر نہیں ھوتا بس اس کی اھمیت، جاذبیت اور رعنائی اس کا پاپولر وجذباتی ھونا ہے ۔ اس کو مزید پختگی غامدی صاحب کے اصلا ادیب ھونے سے مہیا ھوتی ہے ۔
مثال کے طور پر ان کے بنیادی واساسی نظریہ ” قطعیت قران ” کو دیکھا جائے تو ان کے مطابق حدیث کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قران کی قطعیت ، بالادستی ، حاکمیت اور ساورنٹی کا تصور مجروح ھوتا ہے اور حدیث کو ماننے کا لازمی وطبیعی نتیجہ یہی نکلتا ہے ، کہ یہ قران سے بالادست کوئی حقیقت ہے جو اس کی تخصیص وزیادت کرسکتی ہے۔
لیکن اگلے ھی لمحہ وہ خود ” سنت ” کو قران پر مقدم مانتے ہیں ۔اور کہتے ہیں قران اصل یا سٹیٹ آف دی آرٹ نوعیت کا کوئی مذھبی صحیفہ یا کتاب نہیں ہے بلکہ یہ دین ابراھیمی کی از سر نو دریافت اور ایکسپولریشن ہے۔
یاد رہے کہ سنت ان کے نزدیک اصلا حضرت ابراہیم کی اداوں ، دین ابراھیمی کی روایات اور رسمیات کا نام ہے جسے فرعی ذیلی تبعی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کے بعد نافذ کیا ہے ۔ یوں اگر کوئی دینی حقیقت اگر ہے تو وہ دین ابراھیمی ہے نہ کہ دین محمدی اور اگر کوئی اصل متن وصحیفہ ہے تو وہ روایات براھیمی ہیں نہ کہ قران ۔
یہ نظریہ اگرچہ اپنی داخلی منقطیت میں ھی پیچیدہ ترین ہے لیکن وہیں تضاد پر بھی مبنی ہے کہ ایک طرف آپ احادیث رسول کا انکار اس لیے کریں کہ وہ قطعیت قران کے متوازی ہیں وہیں آپ غیر مستند ابراھیمی روایات کو قران پر بھی مقدم اور فائق قرار دیں اور اس سے آپ کا نظریہ قطعیت قران مجروح بھی نہ ھو ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…