پاپولر تصور کی آڑ میں موجوداستدلال کا کھوکھلاپن

Published On November 26, 2025
فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم میزان کے باب کلام کی دلالت پر گفتگو کریں گے غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ " دنیا کی ہر زندہ زبان کے الفاظ و اسالیب جن مفاہیم پر دلالت کرتے ہیں ، وہ سب متواترات پر مبنی اور ہر لحاظ سے بالکل قطعی ہوتے ہیں ۔ لغت و...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول (قسط پنجم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں جمع و تدوین قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ لیا گیا ہے ، غامدی صاحب نے ، اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ ، فَاِذَا قَرَاْنٰہٗ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ، ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ.(القیامہ ۷۵:...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

مسرور اعظم فرخ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ریاست کو اسلامی قرار دینے کے بعد غامدی صاحب کے نزدیک’’تفریق پیدا ہو جانے سے مسلمانوں میں فساد برپا ہو گیا ‘‘تو یہ تفریق یا فساد ریاست کو اسلامی قرار دینے کے تصور نے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ اُنہی ’’بے توفیق فقیہان حرم کی‘‘...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط چہارم

مسرور اعظم فرخ ہر معاشرت ایک سیاسی نظام کے تحت ہی پنپتی ہے کسی عقیدے ہی کے تحت اپنی ساخت کو بروئے کار لاتی ہے اور اسے برقرار رکھتی ہے۔دنیا کی پوری سیاسی تاریخ میں کوئی ایک ریاست بھی ایسی نہیں گزری جو بغیر کسی عقیدے کی بنیاد کے وجود میں آگئی ہو۔ریاست کے اسلامی تصورّ سے...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط سوم

مسرور اعظم فرخ یہ کہنا کہ اسلامی شریعت میں ریاست یا خلافت کے قیام کا سرے سے کوئی حکم ہی موجود نہیں،دوسوالوں کو ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نتیجہ شروع ہی سے موجود تھا، یعنی کیا ماضی کے ہر دور میں اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے یہ سوچ اور...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط دوم

مسرور اعظم فرخ  گزشتہ کالم میں غامدی صاحب کے موقف پر براہ راست گفتگو کرنے سے پہلے کچھ اصولی چیزیں بیان کی گئیں تاکہ اگلے مراحل کے مباحث کے لئے ایک مدد گار بنیاد فراہم ہو سکے۔غامدی صاحب اپنے پہلے مضمون (جنگ 22 جنوری 2015ء) میں رقمطراز ہیں:’’یہ خیال بے بنیاد ہے کہ ریاست...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے فکر وفہم کو تھوڑا بہت سمجھنے اور اس کے مطالعہ سے یہ ابتدائی تاثر اخذ ھوا ہے کہ غامدی صاحب اکثر ایک پاپولر عصری بیانیہ یا تصور اٹھاتے ہیں اور اس کے ارد گرد کھوکھلے اور ملمعاتی ( ملمع ) استدلال کی ایک دیوار چن کر کہتے ہیں کہ دیکھو میں نے حجت تمام کر دی۔ حالانکہ ان کی اس تحقیق میں اصل جاذبیت اور تنویریت اس پاپولر تصور کی ھوتی ہے نہ کہ استدلال کی ۔
پاپولر تصور کی نفسیات اور روح ہے ھی یہی کہ وہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی امر نہیں ھوتا بس اس کی اھمیت، جاذبیت اور رعنائی اس کا پاپولر وجذباتی ھونا ہے ۔ اس کو مزید پختگی غامدی صاحب کے اصلا ادیب ھونے سے مہیا ھوتی ہے ۔
مثال کے طور پر ان کے بنیادی واساسی نظریہ ” قطعیت قران ” کو دیکھا جائے تو ان کے مطابق حدیث کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قران کی قطعیت ، بالادستی ، حاکمیت اور ساورنٹی کا تصور مجروح ھوتا ہے اور حدیث کو ماننے کا لازمی وطبیعی نتیجہ یہی نکلتا ہے ، کہ یہ قران سے بالادست کوئی حقیقت ہے جو اس کی تخصیص وزیادت کرسکتی ہے۔
لیکن اگلے ھی لمحہ وہ خود ” سنت ” کو قران پر مقدم مانتے ہیں ۔اور کہتے ہیں قران اصل یا سٹیٹ آف دی آرٹ نوعیت کا کوئی مذھبی صحیفہ یا کتاب نہیں ہے بلکہ یہ دین ابراھیمی کی از سر نو دریافت اور ایکسپولریشن ہے۔
یاد رہے کہ سنت ان کے نزدیک اصلا حضرت ابراہیم کی اداوں ، دین ابراھیمی کی روایات اور رسمیات کا نام ہے جسے فرعی ذیلی تبعی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کے بعد نافذ کیا ہے ۔ یوں اگر کوئی دینی حقیقت اگر ہے تو وہ دین ابراھیمی ہے نہ کہ دین محمدی اور اگر کوئی اصل متن وصحیفہ ہے تو وہ روایات براھیمی ہیں نہ کہ قران ۔
یہ نظریہ اگرچہ اپنی داخلی منقطیت میں ھی پیچیدہ ترین ہے لیکن وہیں تضاد پر بھی مبنی ہے کہ ایک طرف آپ احادیث رسول کا انکار اس لیے کریں کہ وہ قطعیت قران کے متوازی ہیں وہیں آپ غیر مستند ابراھیمی روایات کو قران پر بھی مقدم اور فائق قرار دیں اور اس سے آپ کا نظریہ قطعیت قران مجروح بھی نہ ھو ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…