پاپولر تصور کی آڑ میں موجوداستدلال کا کھوکھلاپن

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی آگے اپنی تائید میں اپنے استاد کی عبارت پیش کرتے ہیں کہ " استاد امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں " نظم کے متعلق یہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ محض علمی لطائف کی قسم کی ایک چیز ہے جس کی قران کے اصل مقصد کے نقطہ نظر سے کوئی خاص قدروقیمت نہیں ہے "...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 99)

مولانا واصل واسطی آگے جناب غامدی"نظمِ قران " کے عنوان کے متعلق خیالات کااظہار کرتے ہیں کہ " آٹھویں چیز یہ ہے کہ قران کی ہرسورہ کا ایک متعین نظمِ کلام ہے ۔ وہ اللہ تعالی کی طرف سے الگ الگ اورمتفرق ہدایات  کا کوئی مجموعہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا ایک موضوع اور اس کی تمام...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 98)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اتمامِ حجت کے بعد عذاب کی دوقسمیں مقرر کرتے ہیں (1) اول قسم کے متعلق لکھتے ہیں کہ " پہلی صورت میں رسول کے قوم کوچھوڑدینے کے بعدیہ ذلت ان پراس طرح مسلط کی جاتی ہے کہ آسمان کی فوجیں نازل ہوتی ، ساف وحاصب کاطوفان اٹھتا اورابروباد کے لشکران...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 97)

مولانا واصل واسطی  جناب غامدی  پیغمبر کی سرگذشت کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں " رسالت ایک خاص منصب ہے جونبیوں میں چند ہی کو حاصل ہواہے ۔ قران میں اس کی تفصیلات کے مطابق رسول اپنے مخاطبین کےلیے خداکی عدالت بن کرآتا ہے اور ان کافیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتا ہے ۔ قران بتاتا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 96)

مولانا واصل واسطی آج اس سلسلے کی تیسری آیت کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں" وامآتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا "( الحشر 7) یعنی  جوکچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دیں  اس سے رک جاؤ " اس آیت کو سمجھنے کے لیے چند باتوں کاجاننا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 100)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 95)

مولانا واصل واسطی اب دوسری آیت کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ  سورہِ النساء میں ہے ۔ آیت ہے " یاایہاالذین امنوا اطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامرمنکم" ( النساء 59) یعنی   اے ایمان والو!  اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اوران کی جوتم میں معاملات کے ذمہ...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے فکر وفہم کو تھوڑا بہت سمجھنے اور اس کے مطالعہ سے یہ ابتدائی تاثر اخذ ھوا ہے کہ غامدی صاحب اکثر ایک پاپولر عصری بیانیہ یا تصور اٹھاتے ہیں اور اس کے ارد گرد کھوکھلے اور ملمعاتی ( ملمع ) استدلال کی ایک دیوار چن کر کہتے ہیں کہ دیکھو میں نے حجت تمام کر دی۔ حالانکہ ان کی اس تحقیق میں اصل جاذبیت اور تنویریت اس پاپولر تصور کی ھوتی ہے نہ کہ استدلال کی ۔
پاپولر تصور کی نفسیات اور روح ہے ھی یہی کہ وہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی امر نہیں ھوتا بس اس کی اھمیت، جاذبیت اور رعنائی اس کا پاپولر وجذباتی ھونا ہے ۔ اس کو مزید پختگی غامدی صاحب کے اصلا ادیب ھونے سے مہیا ھوتی ہے ۔
مثال کے طور پر ان کے بنیادی واساسی نظریہ ” قطعیت قران ” کو دیکھا جائے تو ان کے مطابق حدیث کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قران کی قطعیت ، بالادستی ، حاکمیت اور ساورنٹی کا تصور مجروح ھوتا ہے اور حدیث کو ماننے کا لازمی وطبیعی نتیجہ یہی نکلتا ہے ، کہ یہ قران سے بالادست کوئی حقیقت ہے جو اس کی تخصیص وزیادت کرسکتی ہے۔
لیکن اگلے ھی لمحہ وہ خود ” سنت ” کو قران پر مقدم مانتے ہیں ۔اور کہتے ہیں قران اصل یا سٹیٹ آف دی آرٹ نوعیت کا کوئی مذھبی صحیفہ یا کتاب نہیں ہے بلکہ یہ دین ابراھیمی کی از سر نو دریافت اور ایکسپولریشن ہے۔
یاد رہے کہ سنت ان کے نزدیک اصلا حضرت ابراہیم کی اداوں ، دین ابراھیمی کی روایات اور رسمیات کا نام ہے جسے فرعی ذیلی تبعی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کے بعد نافذ کیا ہے ۔ یوں اگر کوئی دینی حقیقت اگر ہے تو وہ دین ابراھیمی ہے نہ کہ دین محمدی اور اگر کوئی اصل متن وصحیفہ ہے تو وہ روایات براھیمی ہیں نہ کہ قران ۔
یہ نظریہ اگرچہ اپنی داخلی منقطیت میں ھی پیچیدہ ترین ہے لیکن وہیں تضاد پر بھی مبنی ہے کہ ایک طرف آپ احادیث رسول کا انکار اس لیے کریں کہ وہ قطعیت قران کے متوازی ہیں وہیں آپ غیر مستند ابراھیمی روایات کو قران پر بھی مقدم اور فائق قرار دیں اور اس سے آپ کا نظریہ قطعیت قران مجروح بھی نہ ھو ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…