پاپولر تصور کی آڑ میں موجوداستدلال کا کھوکھلاپن

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

مولانا واصل واسطی ہم نے گزشتہ تحریر میں  جو چند عبارتیں ابن ہشام کے حوالے سے پیش کی تھیں  ان میں بعض پرابوالقاسم سہیلی نے جرح کی ہے ۔ ان میں ایک یہ ہے کہ جبریل نے وضو اورنماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی ۔ ممکن ہے کوئی شخص اس سے استفادہ کرلے ۔ تو ہم عرض کرتے ہیں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 51)

مولانا واصل واسطی اب ہم جناب غامدی کے پیش کردہ سنن پر ایک ایک کرکے کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں نماز کو دیکھتے ہیں جس کے بارے میں حافظ محب اور جناب غامدی  دونوں کا فرمان ہے کہ ،، اس سے عرب پوری طرح واقف تھے ، بلکہ وہ نماز ادا بھی کرتے تھے  جیساکہ سیدنا...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 50)

مولانا واصل واسطی اگے جناب اس ،، اہتمامِ وقوع فعل ، سے چند اصول برآمد کرتے  ہوئے لکھتے ہیں کہ ،، چنانچہ کوئی بچہ اگر اپنے باپ یاکوئی عورت اپنے شوہر کی جیب سے چند روپے اڑالیتی ہے   یاکوئی شخص کسی کی بہت معمولی قدروقیمت کی کوئی چیز چرالے جاتاہے   یاکسی کے باغ سے کچھ پھل...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 49)

مولانا واصل واسطی اس مبحث میں ہم ،، سرقہ ،، یعنی چوری کے متعلق جناب غامدی کے افکارکا تجزیہ کریں گے ۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ ،، چوری کی سزا قران مجید کی سورہِ مائدہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے ،، والسارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما ، جزاء بماکسبا ، نکالا من اللہ ، واللہ عزیز...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 48)

مولانا واصل واسطی اس تحریر میں جناب غامدی کی اس نقل کردہ عبارت کا جائزہ لیتے ہیں   جو انہوں نے زمخشری کی ،، الکشاف ،، کے حوالے سے لکھی ہے ۔ اس عبارت میں زمخشری نے دعوی کیا ہے کہ ،، میتة ،،  کالفظ دیگر میتات مثلا مچھلی اورٹدی وغیرہ کو عرف اور عادت کی بنا پر شامل نہیں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 52)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 47)

مولانا واصل واسطی اس محفل میں جناب غامدی کی ایک اور تحقیق احبابِ کرام کے سامنے پیش کریں گے  جس میں جناب نے اپنے زعم کے مطابق یہ ثابت کیاہے   کہ اس ،، حدیث ،، سے بھی قران کی ،، تخصیص وتحدید ،، کا دعوی محض علماء میں ،، قلتِ تدبر یا سوء فہم ،، کا نتیجہ ہے ۔پہلے جناب کی...

علی کاظمی

غامدی صاحب کے فکر وفہم کو تھوڑا بہت سمجھنے اور اس کے مطالعہ سے یہ ابتدائی تاثر اخذ ھوا ہے کہ غامدی صاحب اکثر ایک پاپولر عصری بیانیہ یا تصور اٹھاتے ہیں اور اس کے ارد گرد کھوکھلے اور ملمعاتی ( ملمع ) استدلال کی ایک دیوار چن کر کہتے ہیں کہ دیکھو میں نے حجت تمام کر دی۔ حالانکہ ان کی اس تحقیق میں اصل جاذبیت اور تنویریت اس پاپولر تصور کی ھوتی ہے نہ کہ استدلال کی ۔
پاپولر تصور کی نفسیات اور روح ہے ھی یہی کہ وہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی امر نہیں ھوتا بس اس کی اھمیت، جاذبیت اور رعنائی اس کا پاپولر وجذباتی ھونا ہے ۔ اس کو مزید پختگی غامدی صاحب کے اصلا ادیب ھونے سے مہیا ھوتی ہے ۔
مثال کے طور پر ان کے بنیادی واساسی نظریہ ” قطعیت قران ” کو دیکھا جائے تو ان کے مطابق حدیث کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قران کی قطعیت ، بالادستی ، حاکمیت اور ساورنٹی کا تصور مجروح ھوتا ہے اور حدیث کو ماننے کا لازمی وطبیعی نتیجہ یہی نکلتا ہے ، کہ یہ قران سے بالادست کوئی حقیقت ہے جو اس کی تخصیص وزیادت کرسکتی ہے۔
لیکن اگلے ھی لمحہ وہ خود ” سنت ” کو قران پر مقدم مانتے ہیں ۔اور کہتے ہیں قران اصل یا سٹیٹ آف دی آرٹ نوعیت کا کوئی مذھبی صحیفہ یا کتاب نہیں ہے بلکہ یہ دین ابراھیمی کی از سر نو دریافت اور ایکسپولریشن ہے۔
یاد رہے کہ سنت ان کے نزدیک اصلا حضرت ابراہیم کی اداوں ، دین ابراھیمی کی روایات اور رسمیات کا نام ہے جسے فرعی ذیلی تبعی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کے بعد نافذ کیا ہے ۔ یوں اگر کوئی دینی حقیقت اگر ہے تو وہ دین ابراھیمی ہے نہ کہ دین محمدی اور اگر کوئی اصل متن وصحیفہ ہے تو وہ روایات براھیمی ہیں نہ کہ قران ۔
یہ نظریہ اگرچہ اپنی داخلی منقطیت میں ھی پیچیدہ ترین ہے لیکن وہیں تضاد پر بھی مبنی ہے کہ ایک طرف آپ احادیث رسول کا انکار اس لیے کریں کہ وہ قطعیت قران کے متوازی ہیں وہیں آپ غیر مستند ابراھیمی روایات کو قران پر بھی مقدم اور فائق قرار دیں اور اس سے آپ کا نظریہ قطعیت قران مجروح بھی نہ ھو ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…