حدثنا ، اخبرنا اور غامدی صاحب کی تنگ نظری وتعصب

Published On November 26, 2025
ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع...

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن پورے کا پورا قطعی الدلالہ ہے، یعنی اس کا ایک ہی مفہوم ہے اور اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر پورے قرآن کو قطعی الدلالہ نہ مانا جائے تو وہ میزان اور...

(Surrogate Mother) کرائے کی ماں

(Surrogate Mother) کرائے کی ماں

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب نے سروگیسی  یعنی کسی دوسری عورت کی کوکھ یا رحم کرائے پر لینے کو جائز قرار دیا ہے، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ جواب: میں نے غامدی صاحب کا وہ ویڈیو کلپ دیکھا ہے اور غالبا جو میں نے دیکھا ہے، یہ اس موضوع پر ان کا...

وحی و عقل ، چند قابلِ لحاظ پہلو

وحی و عقل ، چند قابلِ لحاظ پہلو

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا "عقل اور وحی" کے تعلق پر مبنی ایک  پروگرام دیکھا جس میں وہ سائلین کے ساتھ اسی بحث میں پھنسے رہے کہ عقل پرائمری سورس آف علم ہے یا وحی اور پوری گفتگو عقل اور انسان سے متعلق چند غلط مفروضات پر مبنی تھی۔ مذھب اور عقل کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے...

علی کاظمی

کوئی بھی علمی ڈسپلن ایک مبلغ علمی (علمیات ) کے گرد تخلیق اور تشکیل پاتا ہے اس مبلغ علمی کو انگریزی زبان میں epistemology بھی کہتے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ھوتا ہے کہ کوئی بھی علمی ڈسپلن جب خام مواد کے بعد اپنے دوسرے اور اھم ترین مرحلے (تدوین اور تبویب )میں ڈھلتا ہے تو ایک مجموعی علمی عقلیت اور ذھنیت پروان چڑھتی ہے اور وہ تمام تر مرحلہ تدوین وتخلیق اسی مجموعی سانچے میں ڈھلا ھوا ھوتا ہے ۔
یہ اصول دنیا کے تمام غالب علمی ادوار میں کارفرما رہا اور اسی ٹکسال میں تمام علمی روایتیں تشکیل پائی ہیں ۔
اسلامی علوم جس ذہنیت اور عقلیت اور جس سانچے میں مدون ھوئے اس ذہنیت یا اس مبلغ علمی کو بجا طور پر ” #وقار #روایت ” سے تعبیر کر سکتے ہیں یعنی اسلامی علوم کے تمام تر شعبہ ہائے علمی کا مقام مرتبہ اور استناد اس روایت کے وقار کے ساتھ وابستہ رہا ہے اور جتنا جتنا روایت میں علو ، بلندی اور وقار بڑھتا رہا اتنا اتنا ھی اس اسلوب علمی کا وقار اور استناد بلند ھوتا گیا ۔
اسی مذکورہ “وقار روایت” کا اسلامی علوم میں اس قدر گہرا عمل دخل تھا کہ شاعری جیسے جمالیاتی علم کی جمع وتدوین میں بھی اس کا اس قدر باریک بینی سے خیال رکھا گیا کہ جاہلی ادب کی جب تدوین نوع کی گئی تو اس روایت کے سب سے بڑے عالم ” حماد ” کو ” حماد الروایہ ” کا نام دیا گیا یعنی وہ حماد جس نے الادب الجاہلی کی روایت کی اور اس کی روایت کردہ شاعری ، استناد کے سب سے بڑے درجہ پر فائز سمجھی گئی ۔
اس مذکورہ “وقار روایت” کے اظہار اور اس کے ابلاغ کے لیے جو اصطلاحات وضع کی گئی ان میں جو دو مرکزی اصطلاحات تھیں!
وہ ” حدثنا اور اخبرنا ” تھیں ۔
ھم کہے سکتے ہیں کے تمام تر دینی ادب اس اخبرنا اور حدثنا کے گرد گھومتا ہے اور اسی کے تناظر میں تشکیل پایا ہے ۔
اور جب آپ اس “اخبرنا اور حدثنا” کو دینی ادب سے نکال دیں گے تو پورا دینی ادب ھی غیر مستند اور بےبنیاد رہ جائے گا ۔
گزشتہ دو تین صدیوں کی فکر استشراق کا مرکزی محور اس بنیاد کو ڈھانے میں صرف ھوا اور انہوں نے اس وقار روایت کو ھی نشانہ پر رکھ کر علوم اسلامیہ کے متعلق اپنے تمام تر شکوک وشبہات پھلائے اور ان کا بنیادی وظیفہ یہی رہا ۔
مشتسرقین پر دو علمی ادوار آئے جسے قدیم اور جدید استشراقی فکر کہا جاسکتا ہے بیسویں صدی میں جب فواد سیزگین ، ڈاکٹر حمید اللہ ، مصطفی اعظمی جیسے لوگوں کی علمی کاوشیں سامنے آئیں تو وہ مستشرقین جو غیر متعصب تھے انہوں نے قدیم استشراقی فکر سے رجوع کر لیا اور علوم اسلامیہ کے متعلق گزشتہ دو سوسالوں کے شکوک وشبہات کو غلط قرار دیتے ھوئے جو اعتراضات قائم کیے تھے وہ تقریبا ختم کردیے ۔
لیکن اس دو سو سالہ قدیم استشراقی فکر کے برصغیر میں جو خوشہ چین اور مرعوب ذہنیتیں تھی وہ آج بھی انہیں قدیم اعتراضات کو اپنا کل علمی سرمایہ سمجھتے ہیں اور اسی کے چربے کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر اپنی سکالرشپ کا رعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
غامدی صاحب نے “اخبرنا اور حدثنا” کے خلاف جو زہر اگلا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ سرسید ، پرویز ، تمنا عمادی ، حبیب کاندھلوی کی اسی دو سوسالہ متروک اور گھسی پٹی چرب زبانی اور ملمع سازی کا تسلسل ھی ہے اور دینی علوم کی بنیاد پر حملہ ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…