غامدی صاحب سے چند سوالات

Published On November 26, 2025
ریاست اور مذہب کا تعلق غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، خود اُن کی عدالت میں (پہلی قسط)

ریاست اور مذہب کا تعلق غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، خود اُن کی عدالت میں (پہلی قسط)

شکیل عثمانی جناب جاوید احمد غامدی کا ایک مضمون  ’’اسلامی ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘‘ اُن کے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور اور چند دوسرے رسائل اور جرائد میں شائع ہوا ہے۔ موضوع کی اہمیت اور دلفریب اندازِ بیان کے سبب یہ مضمون گہرے غور و فکر کا متقاضی سمجھاگیا اور اس پر بحثیں بھی...

تاصیلِ اصول اور غامدی صاحب

تاصیلِ اصول اور غامدی صاحب

حسن بن علی غامدى صاحب چاہے اپنی تعریفات اور اصطلاحات وضع کر لیں (لكل واحد ان يصطلح أو لا مشاحة في الاصطلاح) لیکن اختلاف صرف اصطلاحات كى تعریفات تک محدود نہیں بلکہ قول رسول كى حجیت كو تسلیم کرنے یا نہ تسلیم کرنے کا ہے تو جب غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ دین قرآن و سنت میں...

جناب جاویدغامدی صاحب کی دین فہمی اور اُن کے خود ساختہ اُصول

جناب جاویدغامدی صاحب کی دین فہمی اور اُن کے خود ساختہ اُصول

سید خالد جامعی کسی فکر کی درستگی کا پیمانہ، اصول ، منہاج، فرقان ،دینی فکر‘ امت کی علمی روایت سے مطابقت رکھتی ہو اور امت کے اجتماعی تعامل کے مطابق ہو۔ (پرویز صاحب کا فہم قرآن، غامدی صاحب کی تقریر ،ص: ۴۸۔دارالتذکیر ۲۰۰۴ئ) ۲:…سنت قرآن کے بعد نہیں، بلکہ قرآن سے مقدم ہے۔...

غامدی فکر کی بنیادی گمراہی

غامدی فکر کی بنیادی گمراہی

مولانا یحیی نعمانی ، لکھنئو             جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی گمراہی اور اہل سنت واہل حق سے ان کا اصل انحراف کوئی معمولی قسم کا نہیں ہے۔ افسوس کہ وہ مقام رسالت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک بنیادی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اہل ہی...

اہل “المورد” قرآن سے بات کیوں نہیں کررہے اور التباس کا مرتکب کون ہے؟

اہل “المورد” قرآن سے بات کیوں نہیں کررہے اور التباس کا مرتکب کون ہے؟

ڈاکٹر زاہد مغل استحسان کی اصطلاح سے امام شافعی جیسے جلیل القدر فقیہہ کو ایسا شبہ لگا کہ انہوں نے اسے شریعت سازی قرار دے دیا، لیکن اس کے باوجود احناف و مالکیہ نے اس اصطلاح کو ترک نہیں کیا بلکہ اس کا مفہوم واضح کیا اور آج تک وہ یہ اصطلاح بولتے ہیں۔ اس کا مفہوم واضح...

شیخ ابن عربی کے تصور “نبوت عامہ” پر غامدی صاحب کا تبصرہ

شیخ ابن عربی کے تصور “نبوت عامہ” پر غامدی صاحب کا تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے شیخ کے تصور نبوت عامہ اور تصوف متبادل دین ہونے کے اپنے دعوے پر ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے۔ ان کی اس نئی ویڈیو میں ایسی کوئی نئی علمی بات نہیں جس کا جواب کتاب میں نہ دے دیا گیا ہو اور اس لئے کسی تفصیلی جواب کی ضرورت نہیں۔...

علی کاظمی

غامدی صاحب نے اپنی ایک حالیہ یوٹیوب وڈیو میں قرار دیا ہے کہ حضرت علی رض نہ ڈیجور خلیفہ تھے نہ ڈی فیکٹو !
جب کہ باقی تینوں خلفاء کو انہوں نے ڈی جیور خلیفہ کہا ہے اور اس کی وجہ انہوں نے قریشی عصبیت کا انتخاب قرار دیا ہے کہ اس وقت قریش کو عصبیت حاصل تھی اور انہوں نے ان کی خلافت کی توثیق کی ۔
سوال 1 ۔ خلفاء راشدین کے ڈی جیور انتخاب کے لیے کوئی متفقہ شرائط موجود تھیں ؟ اگر تھی تو وہ کیا تھیں اور تینوں خلفاء کا انتخاب ان شرائط کے برعکس الگ الگ انداز میں کیوں ھوا ۔
سوال 2 ۔ قریش کو مدینہ میں کس نوعیت کی عصبیت حاصل تھی ۔ پہلے انصار کی مدد سے مہاجرین نے قریش مکہ کی عصبیت اور طاقت کا بت توڑا مختلف غزوات میں ، پھر مکہ کو فتح کیا گیا جو قریشی عصبیت کی علامت تھی پھر مکہ کی جگہ مدینہ کو دار الحکومت بنایا گیا جو انصار کی جائے پیدائش اور وطن اصلی تھا اور جہاں قریش کی حیثیت مہاجر کی تھی اور انصار کی حیثیت مقامی باشندگان کی تھی اور سقیفہ میں بروایت بخاری انصار نے واضح طور پر اپنی اکثریت ، اپنی مقامیت اور اپنی شوکت کا اظہار واثبات کیا ، ان حقائق کی روشنی میں قریشی عصبیت کیونکر متحقق ھوسکتی ہے۔
سوال 3 ۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد جب مدینہ پر باغیوں کا قبضہ تھا اور بشمول حضرت علی رض کوئی بھی خلافت لینے کے لیے تیار نہیں تھا بعد ازاں بدریین کے اصرار پر جب حضرت علی خلافت لینے کے لیے آمادہ بھی ھوگئے اور باغیوں نے بھی ان کو تسلیم کر لیا جن کا غلبہ تھا تو ایسے میں حضرت علی رض کا اولا ڈی جیور خلیفہ اور ثانیا ڈی فیکٹو خلیفہ ھونے میں مانع کیا ہے ؟
سوال 4۔ اسی وڈیو میں غامدی صاحب نے قرار دیا کہ حضرت طلحہ وزبیر رض حضرت علی رض کی جو بیعت کی تھی وہ تلوار کے زور پر تھی حقیقی بیعت نہیں ۔ اس بات کو ایک منٹ کے لیے تسلیم کر بھی لیا جائے تب بھی خود آپ کی تصریح کے مطابق ڈی فیکٹو خلیفہ وہ ھوتا ہے تو تلوار کے زور پر غلبہ حاصل کر لے تو حضرت علی رض ڈی فیکٹو خلیفہ کیونکر نہ تھے ۔ ؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…