غامدی صاحب سے چند سوالات

Published On November 26, 2025
کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط سوم

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط سوم

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر امام شاطبیؒ کا موقف امام شاطبیؒ کا موقف بھی وہی ہے جو کہ امام شافعی ؒ کاہے کہ سنت نہ توقرآن کو منسوخ کرتی ہے اور نہ ہی اس کے کسی حکم پر اضافہ کرتی ہے بلکہ یہ اس کا بیان(یعنی قرآن کے اجمال کیتفصیل‘ مشکل کا بیان‘مطلق کی مقید اور عام کی مخصص) ہے۔امام...

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط سوم

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط دوم

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر قرآن وسنت کا باہمی تعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے مُبَیّن(وضاحت اورتشریح کرنے والے) ہیں اور جناب غامدی صاحب بھی اس بات کو مانتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب ’برہان‘ میں قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے عنوان سے اس موضوع پر مفصل گفتگو کی...

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط سوم

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ : قسط اول

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر ہر دور میں انسان اپنے’ ما فی الضمیر ‘ کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے زبان کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ انسان اپنے خیالات ‘افکار ‘نظریات‘جذبات اور احساسات کو اپنے ہی جیسے دوسرے افراد تک پہنچانے کے لیے الفاظ کو وضع کرتے ہیں۔ کسی بھی زبان...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ایک اور مغالطہ انگیزی اور علماپر طعنہ زنی  غامدی صاحب فرماتے ہیں ’’الائمۃ من قریش مشہور روایت ہے؛ (مسند احمد،رقم 11898 ) اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے ہمارے علما اس غلط فہمی میں مبتلاہو گئے کہ مسلما نوں کے حکم ران صرف قریش میں سے ہوں گے، دراں...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہفتم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف روایات رجم میں جمع و تطبیق کے بعدباہم کوئی تعارض نہیں رہتا روایات رجم کے اس تبصرۂ نا مر ضیہ میں البتہ دو چیزوں نہایت قابل غور ہیں جو ان فی ذلک لعبرۃ لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھید کی مصداق ہیں ایک یہ کہ رجم کی کئی حدیثوں میں اس حد کو...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ہشتم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسط ششم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف آیت محاربہ کی رْو سے عہد رسالت کے مجرم سزا کے نہیں ،معافی کے مستحق تھے فراہی گروہ کی سمجھ میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ محاربہ کی سزا کی بابت تو ا للہ نے فرمایا ہے کہ فساد فی الا رض کے یہ مجرم اگر قابو میں آنے سے پہلے ہی تائب ہو جائیں توان کی...

علی کاظمی

غامدی صاحب نے اپنی ایک حالیہ یوٹیوب وڈیو میں قرار دیا ہے کہ حضرت علی رض نہ ڈیجور خلیفہ تھے نہ ڈی فیکٹو !
جب کہ باقی تینوں خلفاء کو انہوں نے ڈی جیور خلیفہ کہا ہے اور اس کی وجہ انہوں نے قریشی عصبیت کا انتخاب قرار دیا ہے کہ اس وقت قریش کو عصبیت حاصل تھی اور انہوں نے ان کی خلافت کی توثیق کی ۔
سوال 1 ۔ خلفاء راشدین کے ڈی جیور انتخاب کے لیے کوئی متفقہ شرائط موجود تھیں ؟ اگر تھی تو وہ کیا تھیں اور تینوں خلفاء کا انتخاب ان شرائط کے برعکس الگ الگ انداز میں کیوں ھوا ۔
سوال 2 ۔ قریش کو مدینہ میں کس نوعیت کی عصبیت حاصل تھی ۔ پہلے انصار کی مدد سے مہاجرین نے قریش مکہ کی عصبیت اور طاقت کا بت توڑا مختلف غزوات میں ، پھر مکہ کو فتح کیا گیا جو قریشی عصبیت کی علامت تھی پھر مکہ کی جگہ مدینہ کو دار الحکومت بنایا گیا جو انصار کی جائے پیدائش اور وطن اصلی تھا اور جہاں قریش کی حیثیت مہاجر کی تھی اور انصار کی حیثیت مقامی باشندگان کی تھی اور سقیفہ میں بروایت بخاری انصار نے واضح طور پر اپنی اکثریت ، اپنی مقامیت اور اپنی شوکت کا اظہار واثبات کیا ، ان حقائق کی روشنی میں قریشی عصبیت کیونکر متحقق ھوسکتی ہے۔
سوال 3 ۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد جب مدینہ پر باغیوں کا قبضہ تھا اور بشمول حضرت علی رض کوئی بھی خلافت لینے کے لیے تیار نہیں تھا بعد ازاں بدریین کے اصرار پر جب حضرت علی خلافت لینے کے لیے آمادہ بھی ھوگئے اور باغیوں نے بھی ان کو تسلیم کر لیا جن کا غلبہ تھا تو ایسے میں حضرت علی رض کا اولا ڈی جیور خلیفہ اور ثانیا ڈی فیکٹو خلیفہ ھونے میں مانع کیا ہے ؟
سوال 4۔ اسی وڈیو میں غامدی صاحب نے قرار دیا کہ حضرت طلحہ وزبیر رض حضرت علی رض کی جو بیعت کی تھی وہ تلوار کے زور پر تھی حقیقی بیعت نہیں ۔ اس بات کو ایک منٹ کے لیے تسلیم کر بھی لیا جائے تب بھی خود آپ کی تصریح کے مطابق ڈی فیکٹو خلیفہ وہ ھوتا ہے تو تلوار کے زور پر غلبہ حاصل کر لے تو حضرت علی رض ڈی فیکٹو خلیفہ کیونکر نہ تھے ۔ ؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…