پرویز صاحب اور غامدی صاحب کے تصورِ حدیث میں فرق

Published On November 26, 2025
طاقت کا کھیل ہے : ایسے ہی ہوتا ہے

طاقت کا کھیل ہے : ایسے ہی ہوتا ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد یہ غامدی صاحب اور ان کے متاثرین کے مرغوب جملے ہیں اور یہ بالکل ہی غلط ہیں، ہر لحاظ سے غلط ہیں اور یکسر غلط ہیں۔یہ بات مان لی جائے، تو نہ شریعت اور قانون کے تمام احکام معطل ہوجاتے ہیں اور ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ انسانوں کی صدیوں کی کوششیں...

خودکشی اور شہادت کا فرق

خودکشی اور شہادت کا فرق

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ایک تو فقہائے کرام اس لحاظ سے فرق کرتے ہیں کہ موت کس کے فعل سے واقع ہوئی ہے؟ اگر موت ایسے فعل سے واقع ہوئی ہے جس کی نسبت دشمن کی طرف ہوتی ہے (بفعل مضاف الی العدو)، تو یہ شہادت ہے؛ اور اگر یہ اسی شخص کے فعل سے واقع ہوئی ہے، تو اگر یہ فعل سہواً ہوا...

غامدی صاحب کا الہ اور قرآن

غامدی صاحب کا الہ اور قرآن

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب اہل تصوف کی فکر کو خارج از اسلام دکھانے کے لئے یہ تاثر قائم کرواتے ہیں کہ توحید سے متعلق ان کے افکار قرآن میں مذکور نہیں۔ اپنے مضمون "اسلام اور تصوف" میں آپ الہ کا یہ مطلب لکھتے ہیں: " ’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا...

غلامی : پہلے، اب اور آئندہ

غلامی : پہلے، اب اور آئندہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد رمضان کے مہینے میں سوشل میڈیا پر عموماًً مذہبی مسائل پر بحث چلتی ہے۔ بعض لوگ ایسے موقع کو مذہب پر اعتراض کےلیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ایک مرغوب موضوع غلامی ہے اور یہ عموماً مسلمانوں کو ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کےلیے یا تو ماضی کی...

قرآن کی تعلیم: فقہی روایت اور مکتب فراہی ( ایک مکالمہ)

قرآن کی تعلیم: فقہی روایت اور مکتب فراہی ( ایک مکالمہ)

ڈاکٹر زاہد مغل یہ مکالمہ چند امور کو واضح کرنے کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ "م ف" سے مراد مکتب فراہی کے منتسب ہیں اور "ف ر" سے مراد فقہی روایت کے منتسب۔ م ف: مدارس میں براہ راست قرآن مجید کی تعلیم تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہاں کلام، اصول فقہ، فقہ، حدیث، لغات وغیرہ...

غامدی صاحب اور سائنس

غامدی صاحب اور سائنس

محمد حسنین اشرف "حقائق کی وضاحت حقیقت نہیں ہوتی" یہ بات نہایت اہم ہے کہ آپ کسی علم کے بارے میں عمومی رائے کیا قائم کرتے ہیں۔ کیونکہ یہی عمومی رائے آپ کو پھر اس کی تھیوریز وغیرہ سے متعلق رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے سائنس پر میٹا لیول گفتگو کو پہلے کرنا...

علی کاظمی

غامدی صاحب اور پرویز کے تصور حدیث میں فرق صرف اسلوب کا ہے نتیجہ کے اعتبار سے دونوں ایک ہی بات کرتے ہیں اور دونوں میں مماثلت بلکہ توارد معنوی پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ نقد حدیث کے حوالہ سے غامدی صاحب نے پرویزی ادب کی ہی تہذیب کی ہے محض اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کرسکے
یعنی جو تنقید وطعن پرویز نے اپنایا غامدی صاحب نے مہذب انداز میں صرف اسے ہی بیان کیا ہے وہ بحث کو مزید بالا بھی نہیں کر پائے۔
پرویز کے ہاں حدیث پر نقد کے حوالہ سے طنز تشنیع طعنہ زنی تمسخر پایا جاتا ہے وہ اسے عجمی سازش ، چرسیوں کی پیداوار اور خانہ سازی قرار دے کر اس کی حجیت کی نفی کرتا ہے ، اور غامدی صاحب بھی کرتے نفی ہی ہیں البتہ ان کا اسلوب ادبی پیرائے کا حامل ہے وہ نفس الامر میں حدیث کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہیں اس کا انکار نہیں کرتے محدثین کی جہود کو کم وبیش علمیاتی پہلو سے مانتے ہیں ان کا ادب واحترام بھی کسی حد تک برقرار رکھتے ہیں
البتہ حدیث کو اپنے روایتی وکلاسیکی مفہوم کے اعتبار سے قران کی قطعیت قران کی میزانیت اور بالادستی کے مغائر قرار دے کر اس کی حجیت کی نفی کرتے ہیں۔
یعنی بیان اسلوب کے اختلاف کے باوصف نتیجہ دونوں کے ہاں مشترک ہی ہے۔
آج کل خورشید ندیم صاحب اور ان کی ٹیم کے باقی لوگ غامدی صاحب پر حدیث کے حوالہ سے ھونے والی تنقید کا جواب دے رہے ہیں اور انہیں اسکیپ اور محفوظ کر رہے ہیں ، غامدی فکر کے اس قدیم اور سوئے ھوئے حلقہ کی طرف سے حالیہ دفاع یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ کچن قیادت وہ اس تنقید کا جواب نہیں دے سکی اور اس نے غامدی صاحب کے پرانے اور کسی حد تک ناراض گھوڑے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
لیکن مسئلہ اور سوال یہ ہے کہ صحافیوں سے کلاسیکی بحوث میں دفاع کیسا کروایا جاسکے گا ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

جاوید احمد غامدی اور امین احسن اصلاحی کی علمی خیانت

جاوید احمد غامدی اور امین احسن اصلاحی کی علمی خیانت

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE