پرویز صاحب اور غامدی صاحب کے تصورِ حدیث میں فرق

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

علی کاظمی

غامدی صاحب اور پرویز کے تصور حدیث میں فرق صرف اسلوب کا ہے نتیجہ کے اعتبار سے دونوں ایک ہی بات کرتے ہیں اور دونوں میں مماثلت بلکہ توارد معنوی پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ نقد حدیث کے حوالہ سے غامدی صاحب نے پرویزی ادب کی ہی تہذیب کی ہے محض اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کرسکے
یعنی جو تنقید وطعن پرویز نے اپنایا غامدی صاحب نے مہذب انداز میں صرف اسے ہی بیان کیا ہے وہ بحث کو مزید بالا بھی نہیں کر پائے۔
پرویز کے ہاں حدیث پر نقد کے حوالہ سے طنز تشنیع طعنہ زنی تمسخر پایا جاتا ہے وہ اسے عجمی سازش ، چرسیوں کی پیداوار اور خانہ سازی قرار دے کر اس کی حجیت کی نفی کرتا ہے ، اور غامدی صاحب بھی کرتے نفی ہی ہیں البتہ ان کا اسلوب ادبی پیرائے کا حامل ہے وہ نفس الامر میں حدیث کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہیں اس کا انکار نہیں کرتے محدثین کی جہود کو کم وبیش علمیاتی پہلو سے مانتے ہیں ان کا ادب واحترام بھی کسی حد تک برقرار رکھتے ہیں
البتہ حدیث کو اپنے روایتی وکلاسیکی مفہوم کے اعتبار سے قران کی قطعیت قران کی میزانیت اور بالادستی کے مغائر قرار دے کر اس کی حجیت کی نفی کرتے ہیں۔
یعنی بیان اسلوب کے اختلاف کے باوصف نتیجہ دونوں کے ہاں مشترک ہی ہے۔
آج کل خورشید ندیم صاحب اور ان کی ٹیم کے باقی لوگ غامدی صاحب پر حدیث کے حوالہ سے ھونے والی تنقید کا جواب دے رہے ہیں اور انہیں اسکیپ اور محفوظ کر رہے ہیں ، غامدی فکر کے اس قدیم اور سوئے ھوئے حلقہ کی طرف سے حالیہ دفاع یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ کچن قیادت وہ اس تنقید کا جواب نہیں دے سکی اور اس نے غامدی صاحب کے پرانے اور کسی حد تک ناراض گھوڑے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
لیکن مسئلہ اور سوال یہ ہے کہ صحافیوں سے کلاسیکی بحوث میں دفاع کیسا کروایا جاسکے گا ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

فکرِ فراہی کا سقم

فکرِ فراہی کا سقم

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عربی دانی کا انکار نہیں اور نہ...