پرویز صاحب اور غامدی صاحب کے تصورِ حدیث میں فرق

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط اول )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اسلام کا جنگی نظام " جہاد " عرصہ دراز سے مخالفین اسلام کے طعن و تشنیع اور اعتراضات کا ہدف رہا ہے۔ علماء امت ہر زمانے میں اس کے جوابات بھی دیتے رہے ہیں لیکن ماضی قریب میں جب سے برقی ایجادات عام ہو ئیں ، پرنٹ میڈیا اور انٹرنیٹ پوری...

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

تصورِ جہاد ( قسط چہارم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟ شهادت علی الناس:۔ شہادت علی الناس کا سیدھا اور سادہ معروف مطلب چھوڑ کر غامدی صاحب نے ایک اچھوتا مطلب لیا ہے جو یہ ہے کہ جیسے رسول اپنی قوم پر شاہد ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ صحابہ پر شاہد تھے ، ایسے ہی صحابہ کو اور صرف صحابہ کو دیگر محدود...

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

تصورِ جہاد ( قسط سوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد؟  غامدی صاحب کے دلائل کا جائزہ:۔ ویسے تو کسی نظریے کے غلط ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ امت کے اجتماعی ضمیر کے فیصلے سے متصادم ہے، لیکن اگر کچھ نادان امت کے اجتماعی ضمیر کو اتھارٹی ہی تسلیم نہ کرتے ہوں اور اپنے دلائل پر نازاں ہوں تو...

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

تصورِ جہاد ( قسط دوم)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد غامدی تصور جہاد کی سنگینی اور انوکھا پن:۔ پوری اسلامی تاریخ میں اہل سنت کا کوئی قابل ذکر فقیہ مجتہد، محدث اور مفسر اس اچھوتے اور قطعی تصور جہاد کا قائل نہیں گذرا، البتہ ماضی قریب میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمدقادیانی نے اس قبیل کی...

علی کاظمی

غامدی صاحب اور پرویز کے تصور حدیث میں فرق صرف اسلوب کا ہے نتیجہ کے اعتبار سے دونوں ایک ہی بات کرتے ہیں اور دونوں میں مماثلت بلکہ توارد معنوی پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ نقد حدیث کے حوالہ سے غامدی صاحب نے پرویزی ادب کی ہی تہذیب کی ہے محض اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کرسکے
یعنی جو تنقید وطعن پرویز نے اپنایا غامدی صاحب نے مہذب انداز میں صرف اسے ہی بیان کیا ہے وہ بحث کو مزید بالا بھی نہیں کر پائے۔
پرویز کے ہاں حدیث پر نقد کے حوالہ سے طنز تشنیع طعنہ زنی تمسخر پایا جاتا ہے وہ اسے عجمی سازش ، چرسیوں کی پیداوار اور خانہ سازی قرار دے کر اس کی حجیت کی نفی کرتا ہے ، اور غامدی صاحب بھی کرتے نفی ہی ہیں البتہ ان کا اسلوب ادبی پیرائے کا حامل ہے وہ نفس الامر میں حدیث کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہیں اس کا انکار نہیں کرتے محدثین کی جہود کو کم وبیش علمیاتی پہلو سے مانتے ہیں ان کا ادب واحترام بھی کسی حد تک برقرار رکھتے ہیں
البتہ حدیث کو اپنے روایتی وکلاسیکی مفہوم کے اعتبار سے قران کی قطعیت قران کی میزانیت اور بالادستی کے مغائر قرار دے کر اس کی حجیت کی نفی کرتے ہیں۔
یعنی بیان اسلوب کے اختلاف کے باوصف نتیجہ دونوں کے ہاں مشترک ہی ہے۔
آج کل خورشید ندیم صاحب اور ان کی ٹیم کے باقی لوگ غامدی صاحب پر حدیث کے حوالہ سے ھونے والی تنقید کا جواب دے رہے ہیں اور انہیں اسکیپ اور محفوظ کر رہے ہیں ، غامدی فکر کے اس قدیم اور سوئے ھوئے حلقہ کی طرف سے حالیہ دفاع یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ کچن قیادت وہ اس تنقید کا جواب نہیں دے سکی اور اس نے غامدی صاحب کے پرانے اور کسی حد تک ناراض گھوڑے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
لیکن مسئلہ اور سوال یہ ہے کہ صحافیوں سے کلاسیکی بحوث میں دفاع کیسا کروایا جاسکے گا ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

فکرِ فراہی کا سقم

فکرِ فراہی کا سقم

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عربی دانی کا انکار نہیں اور نہ...