اہلِ المورد کو لفظِ حدیث سے چڑ کیوں؟

Published On November 26, 2025
علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

مشرف بیگ اشرف جس طرح مسلمانوں کی تاریخ میں، قانون کے لیے فقہ، اور قانون کي نظری بنیادوں اور مسلمانوں کے ہاں رائج لسانی نظریات کے لیے اصول فقہ میدان رہا ہے، اسی طرح علمیات، وجودیات، الہیات، قضیہ عقل ونقل اور نظریہ اخلاق کی بحث کے لیے علم کلام میدان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے...

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف حالیہ ویڈیو میں غامدی صاحب نے نظریہ ارتقا پر بات کرتے ہوئے ایک بہت ہی صائب بات فرمائی کہ نظریہ ارتقا سائنس کا موضوع ہے اور اسے سائنس کا موضوع ہی رہنا چاہیے۔ دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اپنے بچوں کو سائنس کی تحلیل سکھانی چاہیے۔ یہ بات بھی صائب ہے...

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب محترم جناب احمد جاوید صاحب نے تصوف سے متعلق حال ہی میں اس رائے کا اظہار فرمایا ہے کہ فقہ و کلام وغیرہ کی طرح یہ ایک انسانی کاوش و تعبیر ہے وغیرہ نیز اس کے نتیجے میں توحید و نبوت کے دینی تصورات پر ذد پڑی۔ ساتھ ہی آپ نے تصوف کی ضرورت کے بعض پہلووں پر...

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب مکتب فراہی کے منتسبین اہل تصوف پر نت نئے الزامات عائد کرنے میں جری واقع ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب و جناب غامدی صاحب سے گزرتا ہوا اب ان کے شاگردوں میں بھی حلول کررہا ہے۔ جس غیر ذمہ داری سے مولانا اصلاحی و غامدی صاحبان اہل تصوف...

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب   کچھ دن قبل اس موضوع پرفیسبک پر مختصر پوسٹ کی تھی کہ یہ فرق غیرمنطقی، غیر اصولی اور غیر ضروری ہے۔ جسے آپ شریعت کہتے ہیں وہ آپ کا فہم شریعت ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب نے اپنے تئیں شریعت کو فقہ کے انبار...

۔”خدا کو ماننا فطری ہے”  مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی...

علی کاظمی

علم النبی کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کے پیچھے دراصلا س فکری رجحان کی نمائندگی ہے جو حدیث کے کلاسیکی منہج ومفہوم سے الگ ایک نئی تعبیر قائم کرنے کی کوشش پر مبنی ہے ۔
حدیث ایک باقاعدہ اصطلاحی و فنی مفہوم رکھتی ہے، جو محدثین کے متفقہ اصولوں کے تحت منضبط ہوئی اور جس کے ساتھ اس کا سب سے اساسی پہلو اس کی حجیت ناگزیر طور پر وابستہ ہے ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو “علم النبی” کے نام بیان کیا جاتا ہے تو یہ تعبیر اپنے اندر ایک ایسا مفہومی وروایتی انحراف رکھتی ہے جو حدیث کے اس منہجی نظام سے کلی طور پر مغائرت رکھتا ہے ۔
علم ایک توصیفی اصطلاح ہے، جب کہ “حدیث” ایک تشریعی و الزامی اصطلاح ہے ،
لہٰذا “علم النبی” کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو تو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کی شرعی حجیت کو غیر محسوس طور پر کمزور کر دیا جاتا ہے ۔
اس تعبیر کا مقصد اس رجحان کو پروان چڑھانا ہے کہ نبی کریم ص کے اقوال کو محض فکری یا روحانی تعبیر سمجھا جائے، نہ
کہ دین و شریعت کا ماخذ ۔
تاریخی طور پر اس رجحان کی جڑیں ان خارجیانہ علمیات میں پیوست ہیں جن میں “قرآن مرکزیت” یا حدیثی روایت سے فکری احتراز کا تصور ابھرا، اور جن میں سنت کو قابل احترام تو مانا گیا مگر حدیثی روایتوں کو اس کا لازمی ماخذ تسلیم نہیں کیاجاتا۔
یہ ایک علمی قضیہ ومسلمہ بھی ہے کہ دینی اصطلاحات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک پورے نظام علم کے حامل مفاہیم ہوتے ہیں ان کی تبدیلی صرف لسانی نہیں بلکہ منہجی و اصولی تبدیلی کو جنم دیتی ہے ۔
چنانچہ علم النبی” کی تعبیر محدثانہ اصولوں سے آزادی وانحراف کے اس تصور پر قائم ہے جو علم حدیث کے تسلسل میں ایک فکری و منہجی انقطاع پیدا کرتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…