اہلِ المورد کو لفظِ حدیث سے چڑ کیوں؟

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 90)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 90)

مولانا واصل واسطی تیسری بات اصل عبارت کے حوالے سے یہ ہےکہ ہمیں اسرائیلی روایات کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ملے ہیں کہ ہم نہ توان روایات کی تکذیب کرتے ہیں اور نہ ہی تصدیق" قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا حدثکم اہل الکتاب فلاتصدقوہم ولاتکذبوہم"...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 90)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 89)

مولانا واصل واسطی آگے جناب ماسبق منزل کتابوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ " سوم یہ کہ الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ۔ یہود ونصاری کی تاریخ ۔ انبیاء بنی اسرائیل کی سرگذشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قران کے اسالیب واشارات کو سمجھنے اور اس کی اجمال کی تفصیل کےلیے قدیم...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 90)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

مولانا واصل واسطی پانچویں بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ جناب نے جوکچھ اوپر مبحوث فیہ عبارت میں لکھا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ   ہم اس  فہرستِ سنت میں سے جس کا ذکر قران مجید میں آیا ہے ، اس کے مفہوم کاتعین ان روایات ہی کی روشنی میں کرتے ہیں ۔محض قران مجید پراکتفاء نہیں کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 90)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 87)

مولانا واصل واسطی تیسری بات اس عبارت میں جناب غامدی نے یہ لکھی ہے کہ "قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہواہے ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواترپر مبنی روایت سے متعین ہو ں گی ۔ انہیں قران سے براہِ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں جائے گی " ( میزان ص 47) اس بات پر بھی جناب...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 90)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 86)

مولانا واصل واسطی اب دوسری مستثنی صورت کو دیکھتے ہیں: جناب غامدی لکھتے ہیں" دوم یہ کہ کسی معاشرے میں اگرقحبہ عورتیں ہوں توان سے نمٹنے کے لیے قران مجید کی روسے یہی کافی ہے کہ چار مسلمان گواہ طلب کیے جائیں ۔ جو اس بات پر گواہی دیں کہ فلان عورت فی الواقع زنا کی عادی ایک...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد س ویڈیو میں جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب "میزان" کے باب مبادی تدبر قرآن میں قرآن فہمی کے لیے بیان کردہ دس اصولوں میں بنیادی ترین اصول "میزان اور فرقان " کو ڈسکس کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر زبیر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ محض دو لفظ نہیں...

علی کاظمی

علم النبی کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کے پیچھے دراصلا س فکری رجحان کی نمائندگی ہے جو حدیث کے کلاسیکی منہج ومفہوم سے الگ ایک نئی تعبیر قائم کرنے کی کوشش پر مبنی ہے ۔
حدیث ایک باقاعدہ اصطلاحی و فنی مفہوم رکھتی ہے، جو محدثین کے متفقہ اصولوں کے تحت منضبط ہوئی اور جس کے ساتھ اس کا سب سے اساسی پہلو اس کی حجیت ناگزیر طور پر وابستہ ہے ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو “علم النبی” کے نام بیان کیا جاتا ہے تو یہ تعبیر اپنے اندر ایک ایسا مفہومی وروایتی انحراف رکھتی ہے جو حدیث کے اس منہجی نظام سے کلی طور پر مغائرت رکھتا ہے ۔
علم ایک توصیفی اصطلاح ہے، جب کہ “حدیث” ایک تشریعی و الزامی اصطلاح ہے ،
لہٰذا “علم النبی” کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو تو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کی شرعی حجیت کو غیر محسوس طور پر کمزور کر دیا جاتا ہے ۔
اس تعبیر کا مقصد اس رجحان کو پروان چڑھانا ہے کہ نبی کریم ص کے اقوال کو محض فکری یا روحانی تعبیر سمجھا جائے، نہ
کہ دین و شریعت کا ماخذ ۔
تاریخی طور پر اس رجحان کی جڑیں ان خارجیانہ علمیات میں پیوست ہیں جن میں “قرآن مرکزیت” یا حدیثی روایت سے فکری احتراز کا تصور ابھرا، اور جن میں سنت کو قابل احترام تو مانا گیا مگر حدیثی روایتوں کو اس کا لازمی ماخذ تسلیم نہیں کیاجاتا۔
یہ ایک علمی قضیہ ومسلمہ بھی ہے کہ دینی اصطلاحات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک پورے نظام علم کے حامل مفاہیم ہوتے ہیں ان کی تبدیلی صرف لسانی نہیں بلکہ منہجی و اصولی تبدیلی کو جنم دیتی ہے ۔
چنانچہ علم النبی” کی تعبیر محدثانہ اصولوں سے آزادی وانحراف کے اس تصور پر قائم ہے جو علم حدیث کے تسلسل میں ایک فکری و منہجی انقطاع پیدا کرتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…