اہلِ المورد کو لفظِ حدیث سے چڑ کیوں؟

Published On November 26, 2025
پردے کے بارے میں غامدی صاحب کی مغالطہ انگیزیاں

پردے کے بارے میں غامدی صاحب کی مغالطہ انگیزیاں

محمد رفیق چوہدری عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیںکبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورِنبویؐ کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

محمد رفیق چوہدری غامدی صاحب کے انکارِ حدیث کا سلسلہ بہت طولانی ہے۔ وہ فہم حدیث کے لئے اپنے من گھڑت اُصول رکھتے ہیں جن کا نتیجہ انکارِ حدیث کی صورت میں نکلتا ہے۔ وہ حدیث اور سنت کی مسلمہ اصطلاحات کا مفہوم بدلنے کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ حدیث کو دین کا حصہ نہیں سمجھتے۔ وہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 3)

محمد رفیق چوہدری اس سلسلۂ مضامین میں اُن اُمور پر تفصیلی بحث و گفتگو کی جارہی ہے، جن کی بنا پر ہمارے نزدیک غامدی صاحب کا شمار منکرین حدیث میں ہوتا ہے اور اُن کا نظریۂ حدیث انکارِ حدیث پر مبنی ہے۔ پہلی قسط میں ہم نے غامدی صاحب کو اس لئے منکر ِحدیث قرار دیا تھا کہ وہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 2)

محمد رفیق چوہدری میرے نزدیک غامدی صاحب نہ صرف منکر ِحدیث ہیں۔ بلکہ اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب کے علمبردار ہیں ۔ ان کے بارے میں ، سال بھر سے مسلسل میں ماہنامہ 'محدث' میں لکھ رہا ہوں اور یہ تمام تحریریں ایک مستقل  کتاب 'غامدی مذہب کیا ہے؟' کی صورت میں مطبوعہ شکل میں...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 1)

محمد رفیق چوہدری سنت کیسے ثابت ہوتی ہے؟سنت کا شرعی واصطلاحی مفہوم چھوڑکر غامدی صاحب پہلے تو اس کا ایک نرالا مفہوم مراد لیتے ہیں اور پھر اس کے ثبوت کے لئے انوکھی شرطیں عائد کردیتے ہیں ۔ ان کے نزدیکسنت کا ثبوت خبر واحد سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا ثبوت کبھی صحابہ کرامؓ کے...

نسخ قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے متضاد و متناقض خیالات

نسخ قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے متضاد و متناقض خیالات

سید خالد جامعی قرآ ن کی آیتوں کو صرف قرآن کے سواکوئی منسوخ نہیں کرسکتا: غامدی برہان ص ۲۰۱۳ء ص ۵۱ ، ۵۲قرآن کی آیتوں کوصرف اور صرف تحقیق سے منسوخ کیا جاسکتا ہے : غامدی، میزان ۲۰۱۵ء،ص ۴۹کتابیہ عورت سے نکاح کی اجازت مشرکانہ تہذیب پر دین کے غلبے سے مشروط تھی غامدی میزان ص...

علی کاظمی

علم النبی کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کے پیچھے دراصلا س فکری رجحان کی نمائندگی ہے جو حدیث کے کلاسیکی منہج ومفہوم سے الگ ایک نئی تعبیر قائم کرنے کی کوشش پر مبنی ہے ۔
حدیث ایک باقاعدہ اصطلاحی و فنی مفہوم رکھتی ہے، جو محدثین کے متفقہ اصولوں کے تحت منضبط ہوئی اور جس کے ساتھ اس کا سب سے اساسی پہلو اس کی حجیت ناگزیر طور پر وابستہ ہے ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو “علم النبی” کے نام بیان کیا جاتا ہے تو یہ تعبیر اپنے اندر ایک ایسا مفہومی وروایتی انحراف رکھتی ہے جو حدیث کے اس منہجی نظام سے کلی طور پر مغائرت رکھتا ہے ۔
علم ایک توصیفی اصطلاح ہے، جب کہ “حدیث” ایک تشریعی و الزامی اصطلاح ہے ،
لہٰذا “علم النبی” کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو تو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کی شرعی حجیت کو غیر محسوس طور پر کمزور کر دیا جاتا ہے ۔
اس تعبیر کا مقصد اس رجحان کو پروان چڑھانا ہے کہ نبی کریم ص کے اقوال کو محض فکری یا روحانی تعبیر سمجھا جائے، نہ
کہ دین و شریعت کا ماخذ ۔
تاریخی طور پر اس رجحان کی جڑیں ان خارجیانہ علمیات میں پیوست ہیں جن میں “قرآن مرکزیت” یا حدیثی روایت سے فکری احتراز کا تصور ابھرا، اور جن میں سنت کو قابل احترام تو مانا گیا مگر حدیثی روایتوں کو اس کا لازمی ماخذ تسلیم نہیں کیاجاتا۔
یہ ایک علمی قضیہ ومسلمہ بھی ہے کہ دینی اصطلاحات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک پورے نظام علم کے حامل مفاہیم ہوتے ہیں ان کی تبدیلی صرف لسانی نہیں بلکہ منہجی و اصولی تبدیلی کو جنم دیتی ہے ۔
چنانچہ علم النبی” کی تعبیر محدثانہ اصولوں سے آزادی وانحراف کے اس تصور پر قائم ہے جو علم حدیث کے تسلسل میں ایک فکری و منہجی انقطاع پیدا کرتی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…