حدیث کی ماخذی حیثیت مشکوک بنانے کی ایک خطرناک واردات

Published On November 26, 2025
استفتاء اور فتوی سے اتنی وحشت کیوں؟

استفتاء اور فتوی سے اتنی وحشت کیوں؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   وہی ہوا جس کی توقع تھی! کل رات کچھ سوالات اہلِ علم کے سامنے رکھے، اور آج صبح بعض مخصوص حلقوں سے اس طرح کی چیخ و پکار شروع ہوگئی ہے: آپ غزہ کے متعلق دینی رہنمائی حاصل کرنے کےلیے سوالات کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اسی طرح کے سوالات پر فتوی دیا گیا،...

نائن الیون اور ماڈریٹ اسلام

نائن الیون اور ماڈریٹ اسلام

احمد الیاس نائین الیون کے بعد امریکہ نے کئی مسلمان ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر 'ماڈریٹ اسلام' کے پروجیکٹس شروع کیے۔ برنارڈ لوئیس، جان ایسپسیٹو جیسے مستشرقین اور 'اسلام ایکسپرٹس' کی رہنمائی بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کو حاصل تھی۔ پاکستان میں بھی مشرف رجیم کی معاونت...

اہل غزہ کے خلاف بے بنیاد فتوی

اہل غزہ کے خلاف بے بنیاد فتوی

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اس”فتویٰ“ میں سورۃ الانفال کی آیت 72 سے کیا گیا استدلال بالکل ہی غلط ہے۔ پہلے یہ آیت پوری پڑھ لیجیے (اس آیت کا اور نیچے دی گئی تمام آیات کا ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی کا ہے):۔إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ...

طاقت کا کھیل ہے : ایسے ہی ہوتا ہے

طاقت کا کھیل ہے : ایسے ہی ہوتا ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد یہ غامدی صاحب اور ان کے متاثرین کے مرغوب جملے ہیں اور یہ بالکل ہی غلط ہیں، ہر لحاظ سے غلط ہیں اور یکسر غلط ہیں۔یہ بات مان لی جائے، تو نہ شریعت اور قانون کے تمام احکام معطل ہوجاتے ہیں اور ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ انسانوں کی صدیوں کی کوششیں...

خودکشی اور شہادت کا فرق

خودکشی اور شہادت کا فرق

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ایک تو فقہائے کرام اس لحاظ سے فرق کرتے ہیں کہ موت کس کے فعل سے واقع ہوئی ہے؟ اگر موت ایسے فعل سے واقع ہوئی ہے جس کی نسبت دشمن کی طرف ہوتی ہے (بفعل مضاف الی العدو)، تو یہ شہادت ہے؛ اور اگر یہ اسی شخص کے فعل سے واقع ہوئی ہے، تو اگر یہ فعل سہواً ہوا...

غامدی صاحب کا الہ اور قرآن

غامدی صاحب کا الہ اور قرآن

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب اہل تصوف کی فکر کو خارج از اسلام دکھانے کے لئے یہ تاثر قائم کرواتے ہیں کہ توحید سے متعلق ان کے افکار قرآن میں مذکور نہیں۔ اپنے مضمون "اسلام اور تصوف" میں آپ الہ کا یہ مطلب لکھتے ہیں: " ’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا...

نور الرحمن ہزاروی

کتاب “علم النبی ﷺ” میں حدیث نبوی کو “علم” کے عنوان سے پیش کرنا محض لفظی تنویع نہیں بلکہ ایک منہجی اور فکری انحراف کا مظہر ہے۔
جاوید احمد غامدی صاحب اس تعبیر کے ذریعے دراصل حدیث کو اس کے تشریعی مقام سے ہٹا کر غیر ماخذی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین کا ماخذ صرف قرآن اور سنتِ متواترہ عملی ہے، جبکہ احادیث کو وہ نبی ﷺ کے فہم و علم کی صورت میں محض ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت دیتے ہیں، جن سے دین کی کوئی نئی یا مستقل تشریع ثابت نہیں ہوتی۔
 یہ زاویۂ نظر علمی اعتبار سے نہ صرف ناقص ہے بلکہ اصولِ تشریع کے مسلمہ مبادی کے خلاف بھی۔
اہلِ علم کے نزدیک دین کے مصادر صرف وہ نہیں جو متواتر عمل سے منتقل ہوں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقاریر—جن میں تشریعی پہلو پایا جائے، وہ نسخ سے محفوظ ہوں، اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تنبیہ وارد نہ ہوئی ہو—وہ سب ماخذِ دین میں داخل ہیں۔
یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد قرآن کریم نے خود رکھی:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ
اور
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
 ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کا ہر قول، فعل یا تقریر — اگر وہ تشریعی نوعیت رکھتا ہے — دین کا حجت ماخذ ہے، خواہ وہ بطریق آحاد منقول ہو یا تواتر سے۔
 پس “علم النبی ﷺ” کی تعبیر درحقیقت ایک فکری تدبیر ہے جس کے ذریعے سنت اور حدیث کے مابین ایک غیر حقیقی خطِ امتیاز کھینچا گیا ہے، تاکہ سنت (عملی متواترہ) کو دین کا واحد عملی ماخذ قرار دے کر حدیث کی تشریعی حیثیت کو ثانوی یا تاریخی درجے تک محدود کر دیا جائے۔
 یہ طرزِ فکر دراصل حجیتِ حدیث پر ایک جدید اسلوب میں وارد ہونے والا قدیم اعتراض ہے، جس کی جڑیں عقل‌گرایانہ تاویلات اور محدثین کے مسلمہ مناہج سے انحراف میں پیوست ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…