حدیث کی ماخذی حیثیت مشکوک بنانے کی ایک خطرناک واردات

Published On November 26, 2025
فہم نزول عیسی اور غامدی صاحب

فہم نزول عیسی اور غامدی صاحب

حسن بن علی غامدی صاحب نے بشمول دیگر دلائل صحیح مسلم کی حدیث (7278، طبعہ دار السلام) کو بنیاد بناتے ہوئے سیدنا مسیح کی آمد ثانی کا انکار کیا ہے. حدیث کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی...

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب : حصہ دوم

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب : حصہ دوم

حسن بن علی اسی طرح تقسیم میراث کے دوران مسئلہ مشرکہ (حماریہ یا ہجریہ) کا وجود مسلم حقيقت ہے جس کے شواہد روایتوں میں موجود ہیں لیکن غامدی صاحب (سورۃ النساء آيت 12 اور آیت 176) كى خود ساختہ تفسیر کے نتیجے میں یہ مسئلہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا. اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ...

سنت نبوی اور ہمارے مغرب پرست دانشوروں کی بیہودہ تاویلیں

سنت نبوی اور ہمارے مغرب پرست دانشوروں کی بیہودہ تاویلیں

بشکریہ : ویب سائٹ " بنیاد پرست"۔ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم   اور جدید تہذیب  نے   مسلمانوں کے ذہنوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں ، اس کی عجیب عجیب مثالیں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں،  یہود ونصاری نے ہمارے جوانوں کی اس حد تک برین واشنگ کردی ہے کہ  یہ    نہ صرف جدید تہذیب و...

مسئلہ تکفیر : غامدیت و قادیانیت

مسئلہ تکفیر : غامدیت و قادیانیت

عبد اللہ معتصم ایک  مسئلہ تکفیر کا ہے۔ اس میں بھی غامدی صاحب نے پوری امت سے بالکلیہ ایک الگ اور شاذ راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ صرف پیغمبر ہی کسی شخص یا گروہ کی تکفیر کر سکتا ہے۔ کسی غیرنبی، عالم، فقیہ یا مفتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی شخص یا گروہ کو...

مرتد کی سزائے قتل سے انکار

مرتد کی سزائے قتل سے انکار

عبد اللہ معتصم یہ بات اسلامی قانون کے کسی واقف کار آدمی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اسلام میں اس شخص کی سزا قتل ہے جو مسلمان ہوکر پھر کفر کی طرف لوٹ جائے۔ ہمارا پورا دینی لٹریچر شاہد ہے کہ قتل مرتد کے معاملے میں مسلمانوں کے درمیان کبھی دورائے نہیں پائی گئیں۔ نبیصلی اللہ علیہ...

قرآن کی من مانی تفسیر

قرآن کی من مانی تفسیر

عبد اللہ معتصم اپنے پیش رو مرزا قادیانی کی طرح غامدی صاحب بھی قرآن کی من مانی تفسیر، الفاظ کو کھینچ تان کر اپنے مطلب کی بات نکالنے میں طاق ہیں۔ قرآن کی معنوی تحریف اور جمہور امت سے ایک الگ اعتزال کی راہ اپنانا اور ایک امتیازی رائے رکھنا ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔...

نور الرحمن ہزاروی

کتاب “علم النبی ﷺ” میں حدیث نبوی کو “علم” کے عنوان سے پیش کرنا محض لفظی تنویع نہیں بلکہ ایک منہجی اور فکری انحراف کا مظہر ہے۔
جاوید احمد غامدی صاحب اس تعبیر کے ذریعے دراصل حدیث کو اس کے تشریعی مقام سے ہٹا کر غیر ماخذی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین کا ماخذ صرف قرآن اور سنتِ متواترہ عملی ہے، جبکہ احادیث کو وہ نبی ﷺ کے فہم و علم کی صورت میں محض ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت دیتے ہیں، جن سے دین کی کوئی نئی یا مستقل تشریع ثابت نہیں ہوتی۔
 یہ زاویۂ نظر علمی اعتبار سے نہ صرف ناقص ہے بلکہ اصولِ تشریع کے مسلمہ مبادی کے خلاف بھی۔
اہلِ علم کے نزدیک دین کے مصادر صرف وہ نہیں جو متواتر عمل سے منتقل ہوں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقاریر—جن میں تشریعی پہلو پایا جائے، وہ نسخ سے محفوظ ہوں، اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تنبیہ وارد نہ ہوئی ہو—وہ سب ماخذِ دین میں داخل ہیں۔
یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد قرآن کریم نے خود رکھی:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ
اور
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
 ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کا ہر قول، فعل یا تقریر — اگر وہ تشریعی نوعیت رکھتا ہے — دین کا حجت ماخذ ہے، خواہ وہ بطریق آحاد منقول ہو یا تواتر سے۔
 پس “علم النبی ﷺ” کی تعبیر درحقیقت ایک فکری تدبیر ہے جس کے ذریعے سنت اور حدیث کے مابین ایک غیر حقیقی خطِ امتیاز کھینچا گیا ہے، تاکہ سنت (عملی متواترہ) کو دین کا واحد عملی ماخذ قرار دے کر حدیث کی تشریعی حیثیت کو ثانوی یا تاریخی درجے تک محدود کر دیا جائے۔
 یہ طرزِ فکر دراصل حجیتِ حدیث پر ایک جدید اسلوب میں وارد ہونے والا قدیم اعتراض ہے، جس کی جڑیں عقل‌گرایانہ تاویلات اور محدثین کے مسلمہ مناہج سے انحراف میں پیوست ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…