حدیث کی ماخذی حیثیت مشکوک بنانے کی ایک خطرناک واردات

Published On November 26, 2025
حجیتِ حدیث : قادیانیت و غامدیت

حجیتِ حدیث : قادیانیت و غامدیت

عبد اللہ معتصم احادیث مبارکہ محدثین کی اصطلاح میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں۔ احادیث مبارکہ کی گراں قدر امانت حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ، صحابہ کرام سے تابعین، تبع تابعین اور پھر ہر دور میں ایک جماعت سے سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچی ہے۔...

تصوف کے حوالے سے چند فکری مغالطے

تصوف کے حوالے سے چند فکری مغالطے

احمد بن الیاس گزشتہ کافی عرصے سے ایک بات مسلسل مشاہدے میں آرہی ہے۔ دو بظاہر متضاد طبقات یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ تصوف مرکزی دھارے کے اسلام سے علیحدہ مسلم مذہبی روایت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ان دونوں طبقات کے محرکات الگ ہیں۔ ایک طبقہ ایسا تاثر دے کر تصوف کی نفی و مذمت...

غامدی صاحب اور خانقاہ

غامدی صاحب اور خانقاہ

ڈاکٹر زاہد  مغل غامدی صاحب کے ادارے "المورد" کے تحت "خانقاہ" قائم ہوئی ہے جسے لے کر ان پر نقد ہورہا ہے کہ ساری عمر جس تصوف پر نقد کرتے رہے آخر میں اسی کے ادارے کو لے لیا۔ اس بابت پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یہ ان کا تصاد نہیں ہے، اپنے تئیں وہ ہمارے اھل حدیث حضرات، مولانا...

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب

حسن بن علی تقسیم میراث كى بعض صورتوں میں بالاتفاق یہ صورتحال پیش آتی ہے کہ جب ورثاء کے حصے  ان کے مجموعى مفروض نصیب سے بڑھ جاتے ہیں تو ایسی صورتحال تزاحم کی صورتحال ہے يعنى ایسے میں تمام ورثاء کو اپنے مقررہ حصے دینا ممکن نہیں رہتا. جیسے ایک عورت نے اپنے پیچھے شوہر ماں...

تقابل علوم و عقائد: غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

تقابل علوم و عقائد: غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

عمران شاہد بھنڈر بظاہر تو یہ بات بہت عجیب سی لگتی ہے کہ علوم و عقائد کے درمیان کوئی تقابل کیا جائے، اور پھر اس تقابل کے دوران چند غلط نتائج نکال کر اپنے عقائد کو فاتح قرار دے دیا جائے۔ مستزاد یہ کہ اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ مذہب کا اصل موضوع ’موت‘ اور موت کے بعد...

غامدی صاحب اور قراءاتِ متواترہ

غامدی صاحب اور قراءاتِ متواترہ

اپنی کتاب ' میزان ' میں لکھتے ہیں کہ ''یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قراء ت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔ اس کے علاوہ اس کی جو قراء تیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں، یا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں، وہ سب اسی فتنۂ...

نور الرحمن ہزاروی

کتاب “علم النبی ﷺ” میں حدیث نبوی کو “علم” کے عنوان سے پیش کرنا محض لفظی تنویع نہیں بلکہ ایک منہجی اور فکری انحراف کا مظہر ہے۔
جاوید احمد غامدی صاحب اس تعبیر کے ذریعے دراصل حدیث کو اس کے تشریعی مقام سے ہٹا کر غیر ماخذی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین کا ماخذ صرف قرآن اور سنتِ متواترہ عملی ہے، جبکہ احادیث کو وہ نبی ﷺ کے فہم و علم کی صورت میں محض ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت دیتے ہیں، جن سے دین کی کوئی نئی یا مستقل تشریع ثابت نہیں ہوتی۔
 یہ زاویۂ نظر علمی اعتبار سے نہ صرف ناقص ہے بلکہ اصولِ تشریع کے مسلمہ مبادی کے خلاف بھی۔
اہلِ علم کے نزدیک دین کے مصادر صرف وہ نہیں جو متواتر عمل سے منتقل ہوں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقاریر—جن میں تشریعی پہلو پایا جائے، وہ نسخ سے محفوظ ہوں، اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تنبیہ وارد نہ ہوئی ہو—وہ سب ماخذِ دین میں داخل ہیں۔
یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد قرآن کریم نے خود رکھی:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ
اور
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
 ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کا ہر قول، فعل یا تقریر — اگر وہ تشریعی نوعیت رکھتا ہے — دین کا حجت ماخذ ہے، خواہ وہ بطریق آحاد منقول ہو یا تواتر سے۔
 پس “علم النبی ﷺ” کی تعبیر درحقیقت ایک فکری تدبیر ہے جس کے ذریعے سنت اور حدیث کے مابین ایک غیر حقیقی خطِ امتیاز کھینچا گیا ہے، تاکہ سنت (عملی متواترہ) کو دین کا واحد عملی ماخذ قرار دے کر حدیث کی تشریعی حیثیت کو ثانوی یا تاریخی درجے تک محدود کر دیا جائے۔
 یہ طرزِ فکر دراصل حجیتِ حدیث پر ایک جدید اسلوب میں وارد ہونے والا قدیم اعتراض ہے، جس کی جڑیں عقل‌گرایانہ تاویلات اور محدثین کے مسلمہ مناہج سے انحراف میں پیوست ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…