حدیث کی ماخذی حیثیت مشکوک بنانے کی ایک خطرناک واردات

Published On November 26, 2025
اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

مسرور اعظم فرخ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ریاست کو اسلامی قرار دینے کے بعد غامدی صاحب کے نزدیک’’تفریق پیدا ہو جانے سے مسلمانوں میں فساد برپا ہو گیا ‘‘تو یہ تفریق یا فساد ریاست کو اسلامی قرار دینے کے تصور نے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ اُنہی ’’بے توفیق فقیہان حرم کی‘‘...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط چہارم

مسرور اعظم فرخ ہر معاشرت ایک سیاسی نظام کے تحت ہی پنپتی ہے کسی عقیدے ہی کے تحت اپنی ساخت کو بروئے کار لاتی ہے اور اسے برقرار رکھتی ہے۔دنیا کی پوری سیاسی تاریخ میں کوئی ایک ریاست بھی ایسی نہیں گزری جو بغیر کسی عقیدے کی بنیاد کے وجود میں آگئی ہو۔ریاست کے اسلامی تصورّ سے...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط سوم

مسرور اعظم فرخ یہ کہنا کہ اسلامی شریعت میں ریاست یا خلافت کے قیام کا سرے سے کوئی حکم ہی موجود نہیں،دوسوالوں کو ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نتیجہ شروع ہی سے موجود تھا، یعنی کیا ماضی کے ہر دور میں اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے یہ سوچ اور...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط دوم

مسرور اعظم فرخ  گزشتہ کالم میں غامدی صاحب کے موقف پر براہ راست گفتگو کرنے سے پہلے کچھ اصولی چیزیں بیان کی گئیں تاکہ اگلے مراحل کے مباحث کے لئے ایک مدد گار بنیاد فراہم ہو سکے۔غامدی صاحب اپنے پہلے مضمون (جنگ 22 جنوری 2015ء) میں رقمطراز ہیں:’’یہ خیال بے بنیاد ہے کہ ریاست...

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط پنجم

اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب: قسط اول

مسرور اعظم فرخ اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘‘اور ’’ریاست اور حکومت‘‘کے عنوانات سے جاوید غامدی صاحب کے دو مضامین روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا 22جنوری2015ء کو اور دوسرا 21فروری 2015ء کو شائع ہوا۔پہلا مضمون اگر محض الجھاؤ کا شکا ر تھا تو اس کی وضاحت میں...

خلافت : ایک قطعی فرضِ الہی

خلافت : ایک قطعی فرضِ الہی

عمر علی اول ۔ امام الجزيری، جو کہ چودھویں صدی ہجری کے معروف عالم ہیں اور ان کی رائے تقابلی فقہ میں مستند مانی جاتی ہے، نے نقل کیا ہے کہ چاروں امام (ابو حنیفہ، مالک، شافعي، احمد،رحمۃ اللہ عليھم) امامت (خلافت) کو ایک فرض سمجھتے تھے اور اس بات پر بھی متفق تھے کہ مسلمانوں...

نور الرحمن ہزاروی

کتاب “علم النبی ﷺ” میں حدیث نبوی کو “علم” کے عنوان سے پیش کرنا محض لفظی تنویع نہیں بلکہ ایک منہجی اور فکری انحراف کا مظہر ہے۔
جاوید احمد غامدی صاحب اس تعبیر کے ذریعے دراصل حدیث کو اس کے تشریعی مقام سے ہٹا کر غیر ماخذی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین کا ماخذ صرف قرآن اور سنتِ متواترہ عملی ہے، جبکہ احادیث کو وہ نبی ﷺ کے فہم و علم کی صورت میں محض ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت دیتے ہیں، جن سے دین کی کوئی نئی یا مستقل تشریع ثابت نہیں ہوتی۔
 یہ زاویۂ نظر علمی اعتبار سے نہ صرف ناقص ہے بلکہ اصولِ تشریع کے مسلمہ مبادی کے خلاف بھی۔
اہلِ علم کے نزدیک دین کے مصادر صرف وہ نہیں جو متواتر عمل سے منتقل ہوں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقاریر—جن میں تشریعی پہلو پایا جائے، وہ نسخ سے محفوظ ہوں، اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تنبیہ وارد نہ ہوئی ہو—وہ سب ماخذِ دین میں داخل ہیں۔
یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد قرآن کریم نے خود رکھی:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ
اور
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
 ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کا ہر قول، فعل یا تقریر — اگر وہ تشریعی نوعیت رکھتا ہے — دین کا حجت ماخذ ہے، خواہ وہ بطریق آحاد منقول ہو یا تواتر سے۔
 پس “علم النبی ﷺ” کی تعبیر درحقیقت ایک فکری تدبیر ہے جس کے ذریعے سنت اور حدیث کے مابین ایک غیر حقیقی خطِ امتیاز کھینچا گیا ہے، تاکہ سنت (عملی متواترہ) کو دین کا واحد عملی ماخذ قرار دے کر حدیث کی تشریعی حیثیت کو ثانوی یا تاریخی درجے تک محدود کر دیا جائے۔
 یہ طرزِ فکر دراصل حجیتِ حدیث پر ایک جدید اسلوب میں وارد ہونے والا قدیم اعتراض ہے، جس کی جڑیں عقل‌گرایانہ تاویلات اور محدثین کے مسلمہ مناہج سے انحراف میں پیوست ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…