علم الحدیث اور علم النبی

Published On November 26, 2025
تصورِ جہاد ( قسط اول)

تصورِ جہاد ( قسط اول)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد کچھ عرصہ قبل راقم نے غامدی صاحب کے شاگر در شید اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کے فرزند من پسند جناب عمار خان ناصر صاحب کے نظریہ جہاد کے نقد و تجزیے کے لیے ایک مضمون سپر د قلم کیا تھا، جو ماہنامہ صفدر میں قسط وار چھپنے کے علاوہ "عمار خان کا نیا...

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

حسان بن علی پہلے یہ جاننا چاہیے کہ قرآن نے اصل موضوع سود لینے والے کو کیوں بنایا. اسے درجہ ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے ١) چونکا سود کے عمل میں بنیادی کردار سود لینے والے کا ہے لہذا قرآن نے اصل موضوع اسے بنایا. ٢) سود لینے والے کے لیے مجبوری کی صورت نہ ہونے کے برابر...

سود اور غامدی صاحب

سود اور غامدی صاحب

حسان بن علی غامدی صاحب کے ہاں سود دینا (سود ادا کرنا) حرام نہیں ہے (جس کی کچھ تفصیل ان کی کتاب مقامات میں بھى موجود ہے) اور جس حدیث میں سود دینے والے کی مذمت وارد ہوئی ہے، غامدی صاحب نے اس میں سود دینے والے سے مراد وہ شخص لیا ہے جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش...

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں محترم غامدی صاحب علم کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک حرف غلط قرار دے کر غیر مفید و لایعنی علم کہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفے کی دنیا میں افکار کے تین ادوار گزرے ہیں:۔ - پہلا دور وہ تھا جب وجود کو بنیادی حیثیت دی گئی...

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

ڈاکٹرخضر یسین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع سے آخر تک انسان تھے، انسان پیدا ہوئے، انسانی زندگی گزاری اور انسان فوت ہوئے۔ آپ علیہ السلام سو فیصد بشر تھے، سو فیصد بشر جیے اور سو فیصد بشر فوت ہوئے۔ نزول وحی سے قبل جو کچھ تھے، نزول وحی کے بعد وہی کچھ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت پر فائز فرمایا تو اس فائز المرامی کے نتیجے میں پوری انسانیت پر آپ علیہ السلام کی اطاعت واجب ٹھہری۔ لیکن یہ وہ اطاعت و اتباع تھی جس کے سب سے پہلے مکلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ علم جو آپ کی انسانی استعداد کا زائیدہ تھا، اس علم کے علم ہونے کا وہی معیار تھا جو دوسرے انسانوں کی استعداد علمیہ کے زائیدہ علم کا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی دوسرے انسان کا خیال، وہم، رائے، مفروضہ وغیرہ علم نہیں ہوتا اور نہ قانون ہوتا ہے، بعینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال، وہم، رائے اور مفروضہ وغیرہ بھی علم سے مختلف تھے اور آپ کا علم نہیں تھے۔
علم بالوحی آپ علیہ السلام کی شخصی استعداد کا ثمرہ نہ تھا اور نہ آپ کی کسی انسانی استعداد کی توسیع کا نتیجہ تھا۔ وہ علم اللہ جل مجدہ کا وہب محض اور خالص بذل و عطا تھا۔ وحی کے نزول و حصول پر آپ علیہ السلام قادر نہ تھے اور نہ آپ کو اس کے نزول و حصول میں دخل تھا۔ آپ علیہ السلام وحی خداوندی کا مہبط تھے، نزول و حصول کے بعد اس کے سب سے پہلے مومن و مسلم آپ ہی تھے۔ پوری انسانیت صرف اور صرف آپ علیہ السلام کی تابع محض ہے۔ انسان کا تدبر دین اس سواء کچھ نہیں کہ وہ آپ علیہ السلام تابع محض بن سکے اور بالکل وہی کچھ مانے اور کرے جو
آپ علیہ السلام نے نزول و حصول وحی کے حضور کیا ہے، تمام انسانوں کے لئے وحی کی وہی حیثیت ہے اصل حیثیت ہے جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہی ہے۔ ہم باقی ماندہ انسان کا تدبر دین اور تفکر دین بس اسی قدر ہے کہ کتاب و سنت کے ساتھ اپنے تمسک کو یقینی بنائیں اور کتاب و سنت کے تمسک کا معیار کتاب و سنت ہی کو رکھیں اور اپنی تاویل و تفسیر سے اجتناب کریں۔
نزول و حصول وحی کے بعد اس پر ایمان اور تمسک واجب ہے۔ ہم انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان باللہ و تمسک بالوحی میں آگے نکل سکتے ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کے سواء کوئی راستہ، ہمارے لیے ھدایت کی راہ ہو سکتا ہے۔
وہ علوم جن تشکیل و ترویج انسان نے اپنی استعداد علمیہ سے کی ہے، اس علم میں شامل ہیں اور نہ اس میں عمیق بصیرت کا باعث ہو سکتے ہیں جو بذریعہ وحی نازل کیا گیا ہے۔
علم النبی کی حقیقی تقسیم جس ثنویت کی حامل ہے، وہ پیش نظر نہ ہو تو یہ ایک گمرا کن ترکیب ہے جس سے صرف گمراہی میں مبتلا کیا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس ترکیب سے صرف مذہبی جذبات برانگیختہ کیے جا سکتے ہیں اور نتیجہ بالکل وہی رہے گا جو ٹی ایل پی نے غیر مہذب انداز میں پیش کیا ہے اور مہذب معاشروں میں زندگی گزارنے والے روح عصر کے تقاضوں کے عین مطابق اسے حاصل کر رہے ہیں۔ بایں ہمہ دونوں صرف مذہبی جذبات کو وسیلہ استحصال بنا رہے ہیں۔
علم النبی کی ایک نوع وہ ہے جو نبی علیہ السلام نے اپنی انسانی استعداد کے سے حاصل کی ہے اور دوسری وہ ہے جو بذریعہ وحی عطا ہوئی ہے۔ نبی کا وہ علم جو معمول کی انسانی استعداد سے حاصل کیا گیا ہے، انسانی علم ہے اور وہ علم جو بذریعہ وحی عطا ہوا ہے، وہ علم اللہ ہے۔
علم اللہ میں ترمیم و تنسیخ اور توسیع و تنقیح کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل نہیں ہے تو کسی اور کا ذکر ہی کیا۔ علم النبی کی ترکیب میں جو خرابی پوشیدہ ہے، وہ ہر لحاظ سے گمراہ کن ہے۔
جہاں تک علم حدیث کا تعلق ہے تو اسے علم النبی کہنا ہی بتا رہا ہے کہ حدیث کو اسی طرح کلام رسول مان جا رہا ہے جس طرح قرآن مجید کو کلام اللہ مانا جاتا ہے۔ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ حدیث قول رسول نہیں بلکہ راوی یا غیرنبی کا وہ قول ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول حکایتا بیان کیا گیا ہو۔ یوں تو دبستان شبلی کی تحقیقات کا ہر دائرہ کان سنبھالے بغیر کوے کے پیچھے دوڑنے والے اسکالرز کی آماجگاہ ہے، لیکن اس دبستان کے نئے الحاقات اپنے اندر حیران کن اعتماد رکھتے ہیں کہ کان کوا لے اڑا ہے۔
مولانا فراہی رحمہ اللہ سے لے کر المورد سے وابستہ لوگوں تک کوئی ایک بھی مفکر نہیں ہے سب کے سب محقق ہیں اور تحقیق تجزیہ و تحلیل سے عاری ہوتی ہے تو کولہو کے بیل کی مشقت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ یا پھر “لا إلى هؤلاء و لا إلى هؤلاء” کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…