علم الحدیث اور علم النبی

Published On November 26, 2025
خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

سید متین احمد شاہ غامدی صاحب کی ایک تازہ ویڈیو کے حوالے سے برادرِ محترم علی شاہ کاظمی صاحب نے ایک پوسٹ لکھی اور عمدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ صحابہ کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے غامدی صاحب کی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ جس طرح انھوں نے بہت سے فقہی اور فکری معاملات میں...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

مولانا محبوب احمد سرگودھا غامدی صاحب کے تیسرے اعتراض کی بنیاد سورہ مائدہ کی آیت ہے 117 میں موجود عیسی علیہ السلام کا روز قیامت باری تعالٰی سے ہونے والا مکالمہ ہے۔ آیت یہ ہے: فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم، وانت على كل شيء شهید (قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عیسی...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

مولانا محبوب احمد سرگودھا   پہلی تحریر میں عیسی علیہ السلام کے رفع الی السماء" کے بارے میں غامدی صاحب کے نظریہ کا تجزیہ پیش کیا گیا، اس تحریر میں  اُن کے نزول الی الارض کے بارے میں غامدی صاحب کا نظریہ پیش خدمت ہے:۔  اولاً غامدی صاحب کی عبارت ملاحظہ کی جائے ، اپنی...

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کا معروف موقف ہے کہ حکومت و سیاست سے متعلق شریعت نے بس چند احکام ہی دیے ہیں۔ بسا اوقات سورۃ الحج کی آیت 41 کا حوالہ دے کر ان چند احکام کو ’بس چار احکام‘ تک محدود کردیتے ہیں: نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے...

قرآن مجید بطور کتابِ ہدایت

قرآن مجید بطور کتابِ ہدایت

جہانگیر حنیف قرآنِ مجید کتابِ ہدایت ہے۔ قرآنِ مجید نے اپنا تعارف جن الفاظ میں کروایا ہے، اگر ان پر غور کیا جائے، تو قرآنِ مجید کا کتابِ ہدایت ہونا ان سب کو شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو اگر کسی ایک لفظ سے تعارف کروانے کی ضرورت پیش آجائے، تو کچھ اور کہنے کی...

قانونِ اتمامِ حجت : ناسخِ قرآن و سنت

قانونِ اتمامِ حجت : ناسخِ قرآن و سنت

ڈاکٹر خضر یسین قانون اتمام حجت ایک ایسا مابعد الطبیعی نظریہ ہے جو ناسخ قرآن و سنت ہے۔اس "عظیم" مابعد الطبیعی مفروضے نے سب سے پہلے جس ایمانی محتوی پر ضرب لگائی ہے وہ یہ ہے کہ اب قیامت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تصدیق روئے زمین پر افضل ترین ایمانی اور...

ڈاکٹرخضر یسین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع سے آخر تک انسان تھے، انسان پیدا ہوئے، انسانی زندگی گزاری اور انسان فوت ہوئے۔ آپ علیہ السلام سو فیصد بشر تھے، سو فیصد بشر جیے اور سو فیصد بشر فوت ہوئے۔ نزول وحی سے قبل جو کچھ تھے، نزول وحی کے بعد وہی کچھ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت پر فائز فرمایا تو اس فائز المرامی کے نتیجے میں پوری انسانیت پر آپ علیہ السلام کی اطاعت واجب ٹھہری۔ لیکن یہ وہ اطاعت و اتباع تھی جس کے سب سے پہلے مکلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ علم جو آپ کی انسانی استعداد کا زائیدہ تھا، اس علم کے علم ہونے کا وہی معیار تھا جو دوسرے انسانوں کی استعداد علمیہ کے زائیدہ علم کا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی دوسرے انسان کا خیال، وہم، رائے، مفروضہ وغیرہ علم نہیں ہوتا اور نہ قانون ہوتا ہے، بعینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال، وہم، رائے اور مفروضہ وغیرہ بھی علم سے مختلف تھے اور آپ کا علم نہیں تھے۔
علم بالوحی آپ علیہ السلام کی شخصی استعداد کا ثمرہ نہ تھا اور نہ آپ کی کسی انسانی استعداد کی توسیع کا نتیجہ تھا۔ وہ علم اللہ جل مجدہ کا وہب محض اور خالص بذل و عطا تھا۔ وحی کے نزول و حصول پر آپ علیہ السلام قادر نہ تھے اور نہ آپ کو اس کے نزول و حصول میں دخل تھا۔ آپ علیہ السلام وحی خداوندی کا مہبط تھے، نزول و حصول کے بعد اس کے سب سے پہلے مومن و مسلم آپ ہی تھے۔ پوری انسانیت صرف اور صرف آپ علیہ السلام کی تابع محض ہے۔ انسان کا تدبر دین اس سواء کچھ نہیں کہ وہ آپ علیہ السلام تابع محض بن سکے اور بالکل وہی کچھ مانے اور کرے جو
آپ علیہ السلام نے نزول و حصول وحی کے حضور کیا ہے، تمام انسانوں کے لئے وحی کی وہی حیثیت ہے اصل حیثیت ہے جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہی ہے۔ ہم باقی ماندہ انسان کا تدبر دین اور تفکر دین بس اسی قدر ہے کہ کتاب و سنت کے ساتھ اپنے تمسک کو یقینی بنائیں اور کتاب و سنت کے تمسک کا معیار کتاب و سنت ہی کو رکھیں اور اپنی تاویل و تفسیر سے اجتناب کریں۔
نزول و حصول وحی کے بعد اس پر ایمان اور تمسک واجب ہے۔ ہم انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان باللہ و تمسک بالوحی میں آگے نکل سکتے ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کے سواء کوئی راستہ، ہمارے لیے ھدایت کی راہ ہو سکتا ہے۔
وہ علوم جن تشکیل و ترویج انسان نے اپنی استعداد علمیہ سے کی ہے، اس علم میں شامل ہیں اور نہ اس میں عمیق بصیرت کا باعث ہو سکتے ہیں جو بذریعہ وحی نازل کیا گیا ہے۔
علم النبی کی حقیقی تقسیم جس ثنویت کی حامل ہے، وہ پیش نظر نہ ہو تو یہ ایک گمرا کن ترکیب ہے جس سے صرف گمراہی میں مبتلا کیا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس ترکیب سے صرف مذہبی جذبات برانگیختہ کیے جا سکتے ہیں اور نتیجہ بالکل وہی رہے گا جو ٹی ایل پی نے غیر مہذب انداز میں پیش کیا ہے اور مہذب معاشروں میں زندگی گزارنے والے روح عصر کے تقاضوں کے عین مطابق اسے حاصل کر رہے ہیں۔ بایں ہمہ دونوں صرف مذہبی جذبات کو وسیلہ استحصال بنا رہے ہیں۔
علم النبی کی ایک نوع وہ ہے جو نبی علیہ السلام نے اپنی انسانی استعداد کے سے حاصل کی ہے اور دوسری وہ ہے جو بذریعہ وحی عطا ہوئی ہے۔ نبی کا وہ علم جو معمول کی انسانی استعداد سے حاصل کیا گیا ہے، انسانی علم ہے اور وہ علم جو بذریعہ وحی عطا ہوا ہے، وہ علم اللہ ہے۔
علم اللہ میں ترمیم و تنسیخ اور توسیع و تنقیح کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل نہیں ہے تو کسی اور کا ذکر ہی کیا۔ علم النبی کی ترکیب میں جو خرابی پوشیدہ ہے، وہ ہر لحاظ سے گمراہ کن ہے۔
جہاں تک علم حدیث کا تعلق ہے تو اسے علم النبی کہنا ہی بتا رہا ہے کہ حدیث کو اسی طرح کلام رسول مان جا رہا ہے جس طرح قرآن مجید کو کلام اللہ مانا جاتا ہے۔ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ حدیث قول رسول نہیں بلکہ راوی یا غیرنبی کا وہ قول ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول حکایتا بیان کیا گیا ہو۔ یوں تو دبستان شبلی کی تحقیقات کا ہر دائرہ کان سنبھالے بغیر کوے کے پیچھے دوڑنے والے اسکالرز کی آماجگاہ ہے، لیکن اس دبستان کے نئے الحاقات اپنے اندر حیران کن اعتماد رکھتے ہیں کہ کان کوا لے اڑا ہے۔
مولانا فراہی رحمہ اللہ سے لے کر المورد سے وابستہ لوگوں تک کوئی ایک بھی مفکر نہیں ہے سب کے سب محقق ہیں اور تحقیق تجزیہ و تحلیل سے عاری ہوتی ہے تو کولہو کے بیل کی مشقت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ یا پھر “لا إلى هؤلاء و لا إلى هؤلاء” کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…