علم الحدیث اور علم النبی

Published On November 26, 2025
بیس رکعت تراویح اور غامدی صاحب کا موقف

بیس رکعت تراویح اور غامدی صاحب کا موقف

سوال : جاوید احمد غامدی کے نزدیک تراویح کی نماز سرے سے ہے ہی نہیں, برائے کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ جواب بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور یہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین روز تراویح کی باقاعدہ...

حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کی قبر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر

مولانا عند الحمید تونسوی     اہلِ اسلام کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انہیں سولی پر نہیں چڑھایا گیا، بلکہ زندہ ہی آسمانوں پر اُٹھالیا گیا، قیامت کے قریب وہ آسمان سے زمین پر نازل ہوں...

اسلام اور ریاست

اسلام اور ریاست

مفتی تقی عثمانی صاحب   بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الحمد للّٰہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی نبیہ الکریم وعلی آلہٖ وأصحابہٖ أجمعین وعلٰی کل من تبعہم بإحسان إلٰی یوم الدین أمابعد غیر منقسم ہندوستان میں قائد اعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کی جو تحریک چلی، اس کی...

ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

ناقد :شیخ عثمان ابن فاروق تلخیص : زید حسن ​   غامدی صاحب کا دعوی ہے کہ وہ منکرِ حدیث نہیں ہیں ۔ ان سے ڈاڑھی کی بابت سوال کیا گیا تو فرمایا: یہ ایک اچھی  چیز ہے اور نبی علیہ السلام نے ڈاڑھی رکھی ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس امر کو نبی ﷺ نے امت میں بحیثیت...

مورگیج پر گھر لینا : غامدی موقف پر نقد

مورگیج پر گھر لینا : غامدی موقف پر نقد

ناقد :شیخ عثمان صفدر تلخیص : زید حسن    مورگیج ایک صورت ہے جس میں  گھر کو خریدا جاتا ہے اور اسکی بابت علماء کا موقف یہی ہے کہ یہ حرام ہے لیکن جاوید غامدی صاحب نے اسکی بابت موقف اختیار کیا ہے کہ  نہ صرف یہ کہ یہ سود نہیں بلکہ یہ احسان ہے ۔ انکا موقف ہے کہ "جب پیسہ...

بہتر حوریں : انکارِ حدیث سے انکارِ قرآن تک

بہتر حوریں : انکارِ حدیث سے انکارِ قرآن تک

ناقد :شیخ توصیف الرحمن تلخیص : زید حسن    غامدی صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ جنت میں حوریں ہوں گی ؟ جواب میں فرمایا : کہ یہ دنیا ہی کی عورتیں ہوں گی ۔ سائل نے پوچھا کہ انکی تو آنکھیں بڑی ہوں گی ؟ تو فرمایا اللہ آپکی بیویوں ہی کی آنکھیں بڑی کر دے گا ۔ اصل میں جاوید...

ڈاکٹرخضر یسین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع سے آخر تک انسان تھے، انسان پیدا ہوئے، انسانی زندگی گزاری اور انسان فوت ہوئے۔ آپ علیہ السلام سو فیصد بشر تھے، سو فیصد بشر جیے اور سو فیصد بشر فوت ہوئے۔ نزول وحی سے قبل جو کچھ تھے، نزول وحی کے بعد وہی کچھ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت پر فائز فرمایا تو اس فائز المرامی کے نتیجے میں پوری انسانیت پر آپ علیہ السلام کی اطاعت واجب ٹھہری۔ لیکن یہ وہ اطاعت و اتباع تھی جس کے سب سے پہلے مکلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ علم جو آپ کی انسانی استعداد کا زائیدہ تھا، اس علم کے علم ہونے کا وہی معیار تھا جو دوسرے انسانوں کی استعداد علمیہ کے زائیدہ علم کا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی دوسرے انسان کا خیال، وہم، رائے، مفروضہ وغیرہ علم نہیں ہوتا اور نہ قانون ہوتا ہے، بعینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال، وہم، رائے اور مفروضہ وغیرہ بھی علم سے مختلف تھے اور آپ کا علم نہیں تھے۔
علم بالوحی آپ علیہ السلام کی شخصی استعداد کا ثمرہ نہ تھا اور نہ آپ کی کسی انسانی استعداد کی توسیع کا نتیجہ تھا۔ وہ علم اللہ جل مجدہ کا وہب محض اور خالص بذل و عطا تھا۔ وحی کے نزول و حصول پر آپ علیہ السلام قادر نہ تھے اور نہ آپ کو اس کے نزول و حصول میں دخل تھا۔ آپ علیہ السلام وحی خداوندی کا مہبط تھے، نزول و حصول کے بعد اس کے سب سے پہلے مومن و مسلم آپ ہی تھے۔ پوری انسانیت صرف اور صرف آپ علیہ السلام کی تابع محض ہے۔ انسان کا تدبر دین اس سواء کچھ نہیں کہ وہ آپ علیہ السلام تابع محض بن سکے اور بالکل وہی کچھ مانے اور کرے جو
آپ علیہ السلام نے نزول و حصول وحی کے حضور کیا ہے، تمام انسانوں کے لئے وحی کی وہی حیثیت ہے اصل حیثیت ہے جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہی ہے۔ ہم باقی ماندہ انسان کا تدبر دین اور تفکر دین بس اسی قدر ہے کہ کتاب و سنت کے ساتھ اپنے تمسک کو یقینی بنائیں اور کتاب و سنت کے تمسک کا معیار کتاب و سنت ہی کو رکھیں اور اپنی تاویل و تفسیر سے اجتناب کریں۔
نزول و حصول وحی کے بعد اس پر ایمان اور تمسک واجب ہے۔ ہم انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان باللہ و تمسک بالوحی میں آگے نکل سکتے ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کے سواء کوئی راستہ، ہمارے لیے ھدایت کی راہ ہو سکتا ہے۔
وہ علوم جن تشکیل و ترویج انسان نے اپنی استعداد علمیہ سے کی ہے، اس علم میں شامل ہیں اور نہ اس میں عمیق بصیرت کا باعث ہو سکتے ہیں جو بذریعہ وحی نازل کیا گیا ہے۔
علم النبی کی حقیقی تقسیم جس ثنویت کی حامل ہے، وہ پیش نظر نہ ہو تو یہ ایک گمرا کن ترکیب ہے جس سے صرف گمراہی میں مبتلا کیا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس ترکیب سے صرف مذہبی جذبات برانگیختہ کیے جا سکتے ہیں اور نتیجہ بالکل وہی رہے گا جو ٹی ایل پی نے غیر مہذب انداز میں پیش کیا ہے اور مہذب معاشروں میں زندگی گزارنے والے روح عصر کے تقاضوں کے عین مطابق اسے حاصل کر رہے ہیں۔ بایں ہمہ دونوں صرف مذہبی جذبات کو وسیلہ استحصال بنا رہے ہیں۔
علم النبی کی ایک نوع وہ ہے جو نبی علیہ السلام نے اپنی انسانی استعداد کے سے حاصل کی ہے اور دوسری وہ ہے جو بذریعہ وحی عطا ہوئی ہے۔ نبی کا وہ علم جو معمول کی انسانی استعداد سے حاصل کیا گیا ہے، انسانی علم ہے اور وہ علم جو بذریعہ وحی عطا ہوا ہے، وہ علم اللہ ہے۔
علم اللہ میں ترمیم و تنسیخ اور توسیع و تنقیح کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل نہیں ہے تو کسی اور کا ذکر ہی کیا۔ علم النبی کی ترکیب میں جو خرابی پوشیدہ ہے، وہ ہر لحاظ سے گمراہ کن ہے۔
جہاں تک علم حدیث کا تعلق ہے تو اسے علم النبی کہنا ہی بتا رہا ہے کہ حدیث کو اسی طرح کلام رسول مان جا رہا ہے جس طرح قرآن مجید کو کلام اللہ مانا جاتا ہے۔ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ حدیث قول رسول نہیں بلکہ راوی یا غیرنبی کا وہ قول ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول حکایتا بیان کیا گیا ہو۔ یوں تو دبستان شبلی کی تحقیقات کا ہر دائرہ کان سنبھالے بغیر کوے کے پیچھے دوڑنے والے اسکالرز کی آماجگاہ ہے، لیکن اس دبستان کے نئے الحاقات اپنے اندر حیران کن اعتماد رکھتے ہیں کہ کان کوا لے اڑا ہے۔
مولانا فراہی رحمہ اللہ سے لے کر المورد سے وابستہ لوگوں تک کوئی ایک بھی مفکر نہیں ہے سب کے سب محقق ہیں اور تحقیق تجزیہ و تحلیل سے عاری ہوتی ہے تو کولہو کے بیل کی مشقت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ یا پھر “لا إلى هؤلاء و لا إلى هؤلاء” کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…