حسن الیاس صاحب کا غامدی صاحب کے نظریہ حدیث پر اقرار

Published On November 26, 2025
قبولیتِ حدیث میں تواتر کی شرط

قبولیتِ حدیث میں تواتر کی شرط

محمد خزیمہ الظاہری منکرین حدیث جس تواتر کا چرچا کرتے ہیں یہ از خود ہمیشہ ان اخبار و روایات کا محتاج ہوتا ہے جسے ظن و آحاد قرار دے کر انکی اہمیت گھٹائی جاتی ہے۔ متواتر چیز سے متعلق جب تک روایات اور اخبار کے ذریعے سے یہ بات معلوم نا ہو کہ گزشتہ تمام زمانوں میں وہ بات...

پردہ اور غامدی صاحب

پردہ اور غامدی صاحب

حسان بن عل اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَؕ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (سورۃ المائدہ آیت 50)تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے...

مکتبِ غامدی ، حدیث اور فہمِ قرآن

مکتبِ غامدی ، حدیث اور فہمِ قرآن

حسان بن علی اگر حدیث قرآن کے خلاف ہو تو اسے (درایتا) غیر معتبر ٹھہرایا جاتا ہے لیکن یہ تعین کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ جانا جائے کہ آيا حدیث واقعتا قرآن کے خلاف ہے یا آپ کے فہم قرآن کے خلاف۔ غزوہ بدر سے متعلق مولانا اصلاحی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلمان ابتدا ہی سے قریش...

غامدی صاحب کے نظریۂ حدیث کے بنیادی خد و خال

غامدی صاحب کے نظریۂ حدیث کے بنیادی خد و خال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کئی احباب نے حدیث کے متعلق غامدی صاحب کے داماد کی چھوڑی گئی نئی پھلجڑیوں پر راے مانگی، تو عرض کیا کہ غامدی صاحب اور ان کے داماد آج کل میری کتاب کا نام لیے بغیر ان میں مذکور مباحث اور تنقید کا جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھیں یہ کوشش کرنے دیں۔...

غلبہ دین : غلطی پر غلطی

غلبہ دین : غلطی پر غلطی

حسن بن علی ياأيها الذين آمنوا كونوا قوامين لله شهداء بالقسط ولا يجرمنكم شنآن قوم ألا تعدلوا اعدلوا هو أقرب للتقوى ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ...

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط دوم)

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط دوم)

حسن بن عل غامدی صاحب کے اصول حدیث قرآن میں کسی قسم کا تغیر اور تبدل نہیں کر سکتی (یعنی نہ تنسیخ کر سکتی ہے نہ تخصیص اور یہی معاملہ مطلق کی تقيید كا بھی ہے) کی روشنی میں حدیث قرآن کے مطلق (لفظ) کی تقيید نہیں کر سکتی یعنی ان کے اصول کی روشنی میں مطلق (لفظ) کی تقيید بھی...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں پر انکار حجیت حدیث کا فتوی چار وجوہ سے لگایا جاتا ہے:
1) قران کے مجمل کا بیان تفسیر نہ ماننا، یعنی ہم قرآن میں کسی حکم کو سنت و حدیث کے بیان کا محتاج نہیں مانتے
2) عام کی تخصیص نہ ماننا، یعنی ہمارے نزدیک حدیث میں مذکور قرآنی احکام کی سب تخصیصات لفظی و عقلی مضمرات کے اطلاقات کا معاملہ ہوتا ہے
3) بیان نسخ، یعنی ہم نسخ کو بیان نہیں مانتے اور نہ ہی نبیﷺ کی احادیث سے قرآنی حکم کے نسخ کے قائل ہیں
4) حدیث کے اجماعی فہم سے اختلاف نہیں ہونا چاہئے، جبکہ ہم نے بعض امور میں اختلاف کرلیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حدیث سے ان چار چیزوں کو ماننا حدیث کو حجت ماننے کے لئے ضروری ہے تو ہمیں قبول ہے کہ ہم منکر حدیث ہیں۔
ان کی اس ویڈیو سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود ہی مان لیا ہے کہ یہ حضرات حدیث کے مسئلے میں اصولیین امت کے طریقے سے باہر ہیں نیز غامدی صاحب نے کتاب “مقامات” میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے جواب میں جو یہ کہا کہ سنت پر میرے موقف اور علمائے امت کے موقف میں سرمو کوئی فرق نہیں، تو وہ ایک غلط دعوی تھا۔ الحمد للہ ہماری تحریروں اور ویڈیوز میں جو نقد ان کے نظریہ حدیث سے متعلق ڈویلپ کیا گیا، اور جو مفصلاً ان شاء اللہ عنقریب کتاب کی صورت بھی منظر عام پر آجائے گا، اس کا فی الفور یہ فائدہ ضرور حاصل ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود اپنے منہ سے اقرار کرلیا ہے کہ جسے یہ لوگ “شرح و وضاحت” کہتے ہیں یہ وہ چیز نہیں ہے جسے علمائے اصول بیان کی بحث میں بیان (بنائی) کہتے آئے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس اقرار کے بعد ان سب طویل توجیہات کا کیا بنے گا جو غامدی صاحب نے مفسرین و اصولیین کی کتابوں کی عبارات کو “اظہار الشئی” و “اظہار ما فی الشئی” پر چسپاں کرنے کے واسطے استعمال کرنے کے لئے کیں؟ ہم یہی تو بتاتے آرہے تھے کہ جب آپ کا اصولی موقف ہی الگ ہے تو کسی دوسرے اصولی موقف کی عبارات سے استدلال کرنے کا نتیجہ خلط مبحث ہی ہوگا اور یہی جناب غامدی صاحب کرتے آئے ہیں۔ نیز جناب خورشید ندیم صاحب اور اس فکر سے متاثر دیگر کئی لوگوں کے لئے بھی یہ مقام غور و فکر ہے جن کے خیال میں ہمارے نقد کا پیراڈائیم ہی الگ ہوگیا ہے جو غامدی صاحب سے متعلق نہیں یا جو یہ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ غامدی صاحب بیان تفسیر، تخصیص و نسخ بذریعہ حدیث کا صرف نام استعمال نہیں کرتے اگرچہ ان کے قائل ہیں!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…