حسن الیاس صاحب کا غامدی صاحب کے نظریہ حدیث پر اقرار

Published On November 26, 2025
غامدی مذہب کیا ہے ؟

غامدی مذہب کیا ہے ؟

مصنف : پروفیسر محمد رفیق تلخیص : زید حسن یہ کتاب ایک مقدمہ ، پانچ ابواب اور ایک ضمیمہ پر مشتمل ہے ۔ مقدمہ میں مصنف نے غامدی صاحب کے افکار کو دینِ اسلام کے متوازی ایک نیا دین قرار دیا ہے ۔ جسکی دلیل کے طور پر مصنف نے روایتی علمیات کے اعتقادی نتائج اور ان سے غامدی صاحب...

فتنہء غامدیت کا علمی محاسبہ

فتنہء غامدیت کا علمی محاسبہ

مصنف : پروفیسر محمد رفیق تلخیص : زید حسن  یہ کتاب ایک مقدمہ اور دس ابواب پر مشتمل ہے ۔  مقدمہ میں مصنف نے فکرِ غامدی کو تجدد پسندی کی نمائدہ قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ زمانہ قدیم کی وہ تمام تحریکیں جو اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کرتی رہی ہیں ، غامدی صاحب اپنی فکر...

غامدیت: غامدی صاحب کے افکار و نظریات کا منصفانہ جائزہ

غامدیت: غامدی صاحب کے افکار و نظریات کا منصفانہ جائزہ

مصنف: مفتی محمد وسیم اختر شاذلی (رئیس دارالافتاء فیضانِ شریعت ، کراچی) تلخیص : زید حسن زیرِ نظر کتاب دراصل ایک طویل استفتاء کا جواب ہے  جسے بعد ازاں کتابی شکل دے دی گئی ہے ۔ مستفتی کا نام سید عطاء الرحمن بن سید محب شاہ ہے ۔ اس استفتاء میں سائل نے غامدی صاحب کے چند...

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط اول)

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط اول)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس سیریز میں ہمارا اصل فوکس غامدی صاحب کی کتاب میزان ہے یہ کتاب ان کے ربع صدی کے مطالعہ کا نتیجہ ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کو لکھنے میں انہوں نے جان ماری ہے۔میزان کے باب "مبادی تدبر قرآن" میں انہوں نے قرآن فہمی کے دس اصول بیان...

وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی : نظریات و افکار اور حکم

وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی : نظریات و افکار اور حکم

سوال مولانا وحید الدین خان اورمحترم غامدی صاحب کے عقائد کے حوالے سے بتائیں اور ان  کی کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں؟ جواب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر  کسی شخصیت کے حوالے سے عموماً  تبصرہ  نہیں کیا جاتا، کسی کے عقائد و نظریات کے حوالے سے سوال کرنا ہو...

آمدِ امام مہدی

آمدِ امام مہدی

سوال قبل قیامت حضرت مہدی علیہ السلام کی آمد سے متعلق ٹیلی ویژن پر ایک سوال کے جواب میں علامہ غامدی نے کہا: کسی امر کے عقیدہٴ اسلامی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر واضح طور پر ہو۔ جہاں تک امام مہدی کے عقیدہ کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں پر انکار حجیت حدیث کا فتوی چار وجوہ سے لگایا جاتا ہے:
1) قران کے مجمل کا بیان تفسیر نہ ماننا، یعنی ہم قرآن میں کسی حکم کو سنت و حدیث کے بیان کا محتاج نہیں مانتے
2) عام کی تخصیص نہ ماننا، یعنی ہمارے نزدیک حدیث میں مذکور قرآنی احکام کی سب تخصیصات لفظی و عقلی مضمرات کے اطلاقات کا معاملہ ہوتا ہے
3) بیان نسخ، یعنی ہم نسخ کو بیان نہیں مانتے اور نہ ہی نبیﷺ کی احادیث سے قرآنی حکم کے نسخ کے قائل ہیں
4) حدیث کے اجماعی فہم سے اختلاف نہیں ہونا چاہئے، جبکہ ہم نے بعض امور میں اختلاف کرلیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حدیث سے ان چار چیزوں کو ماننا حدیث کو حجت ماننے کے لئے ضروری ہے تو ہمیں قبول ہے کہ ہم منکر حدیث ہیں۔
ان کی اس ویڈیو سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود ہی مان لیا ہے کہ یہ حضرات حدیث کے مسئلے میں اصولیین امت کے طریقے سے باہر ہیں نیز غامدی صاحب نے کتاب “مقامات” میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے جواب میں جو یہ کہا کہ سنت پر میرے موقف اور علمائے امت کے موقف میں سرمو کوئی فرق نہیں، تو وہ ایک غلط دعوی تھا۔ الحمد للہ ہماری تحریروں اور ویڈیوز میں جو نقد ان کے نظریہ حدیث سے متعلق ڈویلپ کیا گیا، اور جو مفصلاً ان شاء اللہ عنقریب کتاب کی صورت بھی منظر عام پر آجائے گا، اس کا فی الفور یہ فائدہ ضرور حاصل ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود اپنے منہ سے اقرار کرلیا ہے کہ جسے یہ لوگ “شرح و وضاحت” کہتے ہیں یہ وہ چیز نہیں ہے جسے علمائے اصول بیان کی بحث میں بیان (بنائی) کہتے آئے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس اقرار کے بعد ان سب طویل توجیہات کا کیا بنے گا جو غامدی صاحب نے مفسرین و اصولیین کی کتابوں کی عبارات کو “اظہار الشئی” و “اظہار ما فی الشئی” پر چسپاں کرنے کے واسطے استعمال کرنے کے لئے کیں؟ ہم یہی تو بتاتے آرہے تھے کہ جب آپ کا اصولی موقف ہی الگ ہے تو کسی دوسرے اصولی موقف کی عبارات سے استدلال کرنے کا نتیجہ خلط مبحث ہی ہوگا اور یہی جناب غامدی صاحب کرتے آئے ہیں۔ نیز جناب خورشید ندیم صاحب اور اس فکر سے متاثر دیگر کئی لوگوں کے لئے بھی یہ مقام غور و فکر ہے جن کے خیال میں ہمارے نقد کا پیراڈائیم ہی الگ ہوگیا ہے جو غامدی صاحب سے متعلق نہیں یا جو یہ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ غامدی صاحب بیان تفسیر، تخصیص و نسخ بذریعہ حدیث کا صرف نام استعمال نہیں کرتے اگرچہ ان کے قائل ہیں!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

اشراق کا استشراق

اشراق کا استشراق

حافظ محمد ریحان جاید احمد غامدی اور ان کے مکتبہء فکر سے تقریباً ہر پڑھا...