حسن الیاس صاحب کا غامدی صاحب کے نظریہ حدیث پر اقرار

Published On November 26, 2025
علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل علامہ جار اللہ زمحشری (م 538 ھ) کی جس عبارت کو محترم غامدی صاحب نے مسئلہ تبیین پر اپنے مدعا کا بیان قرار دیا، اس عبارت سے کیا جانے والا استدلال بھی مخدوش بے۔ علامہ زمحشری لکھتے ہیں: ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ يعنى ما نزل الله إليهم في الذكر مما أمروا به...

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب کے تصور تبیین کی قرآن کے محاورے میں غلطی واضح کرنے کے لئے دی گئیں چھ میں سے دوسری مثال پر غامدی صاحب نے تبصرہ فرمایا ہے۔ اس مثال میں ہم نے واضح کیا تھا کہ سورۃ نور کی آیت 58 میں پردے کے احکام میں جو تبدیلی کی گئی، قرآن نے اسے تبیین...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان تین نکات کو ترتیب وار لکھتے ہیں جو جناب غامدی نے سورت القیامہ اور سورت الاعلی سے سمجھے ہیں مگر اتنی سی بات پہلے جان لیں کہ جناب غامدی نے ان دو آیات کے ترجمہ میں چند الفاظ داخل کیے ہیں  کہ وہ پھر اپنے مدعی کو ثابت کرنے میں ان کو کام آجائیں  (...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 19)

مولانا واصل واسطی ہم نے کچھ اوپرجناب غامدی کی ایک عبارت پیش کی ہے  جس میں انھوں نے سورت الاعلی اور سورت القیامہ کی آیات سے فقط ایک قراءت کے مسئلے پر استدلال کیا ہے ۔اس کے بعد انھوں نے تین نکات ان سےاخذ کیے ہیں ۔ جن کو ہم کچھ دیر بعد میں مالہ وماعلیہ کے ساتھ ذکر کریں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 18)

مولانا واصل واسطی ہم نے اوپرایک تواردو تفاسیر کے حوالے دیئے ہیں ، وجہ اس کی یہ ہے  کہ جناب غامدی اکثر انہیں تفاسیر کے حوالے دیتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب غامدی صرف قران کے ہمارے ہاں مروج قراءت ہی کو متواتر قراردیتے ہیں  باقی قراءتوں کو متواتر نہیں مانتے ہیں ۔ ہم...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 17)

مولانا واصل واسطی  دوسری بات یہ ہے کہ جناب غامدی نے قراءتِ قران کے متعلق دوآیتیں پیش کی ہیں جن کا سرے سے اس موضوع سے تعلق ہی نہیں ہے ، لطف اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ صاحب قران کو میزان اور فرقان بھی قراریتے ہیں  جن کا مفہوم ان کے نزدیک ،، قران کے الفاظ  کااپنے مفہوم...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں پر انکار حجیت حدیث کا فتوی چار وجوہ سے لگایا جاتا ہے:
1) قران کے مجمل کا بیان تفسیر نہ ماننا، یعنی ہم قرآن میں کسی حکم کو سنت و حدیث کے بیان کا محتاج نہیں مانتے
2) عام کی تخصیص نہ ماننا، یعنی ہمارے نزدیک حدیث میں مذکور قرآنی احکام کی سب تخصیصات لفظی و عقلی مضمرات کے اطلاقات کا معاملہ ہوتا ہے
3) بیان نسخ، یعنی ہم نسخ کو بیان نہیں مانتے اور نہ ہی نبیﷺ کی احادیث سے قرآنی حکم کے نسخ کے قائل ہیں
4) حدیث کے اجماعی فہم سے اختلاف نہیں ہونا چاہئے، جبکہ ہم نے بعض امور میں اختلاف کرلیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حدیث سے ان چار چیزوں کو ماننا حدیث کو حجت ماننے کے لئے ضروری ہے تو ہمیں قبول ہے کہ ہم منکر حدیث ہیں۔
ان کی اس ویڈیو سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود ہی مان لیا ہے کہ یہ حضرات حدیث کے مسئلے میں اصولیین امت کے طریقے سے باہر ہیں نیز غامدی صاحب نے کتاب “مقامات” میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے جواب میں جو یہ کہا کہ سنت پر میرے موقف اور علمائے امت کے موقف میں سرمو کوئی فرق نہیں، تو وہ ایک غلط دعوی تھا۔ الحمد للہ ہماری تحریروں اور ویڈیوز میں جو نقد ان کے نظریہ حدیث سے متعلق ڈویلپ کیا گیا، اور جو مفصلاً ان شاء اللہ عنقریب کتاب کی صورت بھی منظر عام پر آجائے گا، اس کا فی الفور یہ فائدہ ضرور حاصل ہوگیا ہے کہ انہوں نے خود اپنے منہ سے اقرار کرلیا ہے کہ جسے یہ لوگ “شرح و وضاحت” کہتے ہیں یہ وہ چیز نہیں ہے جسے علمائے اصول بیان کی بحث میں بیان (بنائی) کہتے آئے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس اقرار کے بعد ان سب طویل توجیہات کا کیا بنے گا جو غامدی صاحب نے مفسرین و اصولیین کی کتابوں کی عبارات کو “اظہار الشئی” و “اظہار ما فی الشئی” پر چسپاں کرنے کے واسطے استعمال کرنے کے لئے کیں؟ ہم یہی تو بتاتے آرہے تھے کہ جب آپ کا اصولی موقف ہی الگ ہے تو کسی دوسرے اصولی موقف کی عبارات سے استدلال کرنے کا نتیجہ خلط مبحث ہی ہوگا اور یہی جناب غامدی صاحب کرتے آئے ہیں۔ نیز جناب خورشید ندیم صاحب اور اس فکر سے متاثر دیگر کئی لوگوں کے لئے بھی یہ مقام غور و فکر ہے جن کے خیال میں ہمارے نقد کا پیراڈائیم ہی الگ ہوگیا ہے جو غامدی صاحب سے متعلق نہیں یا جو یہ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ غامدی صاحب بیان تفسیر، تخصیص و نسخ بذریعہ حدیث کا صرف نام استعمال نہیں کرتے اگرچہ ان کے قائل ہیں!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…