غامدی صاحب کے ہاں مجمل کی چند مثالیں

Published On November 26, 2025
داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

مولانا نیاز محمد مروت صاحب جناب جاوید غامدی صاحب نے مردوں کے داڑھی رکھنے کے معمول چلے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داڑھی رکھنے کی عادت کا اعتراف کیا ہے ، جو کہ حق بات ہے، بشرطیکہ طبعی عادت کے طور پر نہیں، بلکہ معمول کے طور پر داڑھی رکھنا مراد ہو، چنانچہ اس پر...

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب تلخیص : زید حسن اس ویڈیو میں سپیکر حافظ محمد زبیر صاحب نے " بعض افراد" کے اس دعوے کہ آپ کی تفہیمِ غامدی درست نہیں ، کو موضوعِ بحث بنایا ہے ۔ لیکن اس پر از راہِ تفنن گفتگو کرنے کے بعد چند اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے اور غامدی منہج پر سوالات...

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری صاحب تلخیص : زید حسن رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں امتِ مسلمہ روزے اور عبادات میں مشغول ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی آوازیں گاہے بگاہے اٹھتی نظر آتی ہیں جن میں ان عبادات کا انکارکیا گیا ہے جن پر امتِ مسلمہ ہزاروں سالوں سے عمل کرنی چلی...

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

سمیع اللہ سعدی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں...

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب   جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا...

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن مسئلہ پوچھا گیا ہے کہ کیا تراویح کی نماز یوٹیوب پر لگا کر اسکی اقتداء میں پڑھ سکتے ہیں؟یہ غامدی صاحب نے نیا مسئلہ بیان کر دیا ہے اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ آجکل گلوبل ویلج ہے، ایک دوسرے کی حرکات و سکنات دیکھی جا سکتی ہیں اور...

ڈاکٹر زاہد مغل

غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن مجمل مفتقر الی البیان سے خالی ہے اور اس مقصد کے لئے وہ سنت کو ماقبل قرآن کہتے ہیں تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب صلوۃ و حج وغیرہ کی آیات نازل ہوئیں تو مخاطبین ان اعمال کی تفصیلات سے واقف تھے اور قرآن کی آیات ان مخصوص اعمال کی جانب اشارہ کررہی تھیں۔ تاہم اس سب کے باوجود بھی صلوۃ وغیرہ اصول فقہ کی اصطلاح کی رو سے مجمل ہی ہوں گی (یعنی متکلم کی خاص اصطلاح جس کا تعین وضع لغوی و عرفی سے طے ہونا ممکن نہیں)۔ غامدی صاحب کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ مجمل کا بیان وقت خطاب سے مؤخر نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ مقارن و متصل ہونا لازم ہے۔ یہاں اس دعوے کی دلیل (کہ قرآن میں ایسے مجمل کا ورود آخر کس عقلی و نقلی دلیل کی بنا پر ناجائز ہے جس کا بیان مؤخر ہو) سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ عرض ہے کہ غامدی صاحب کا یہ دعوی بظاہر واقعے کے بھی خلاف ہے۔ یہاں ہم ان کے ہاں سے چند ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جہاں قرآن میں مجمل کے مؤخر بیان کو انہوں نے قبول کرلیا ہے، اگرچہ اس کی تفسیر قرآن ہی سے لے لی ہو جبکہ ان کے نظرئیے میں قرآن کے مجمل کی ایسی تفسیر قرآن سے بھی ناجائز ہونا چاہئے۔ طوالت سے بچنے کے لئے یہاں ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں:
1) عورتوں کے حقوق و فرائض بالمعروف: قرآن میں سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا کہ خواتین کے شوہروں پر “عرف کے مطابق” (بالمعروف) حقوق و فرائض ہیں۔ غامدی صاحب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ “عورتوں کے اِن حقوق و فرائض کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء کی آیات 19 اور 34 میں فرمائی ہے”۔ یہاں ان کی تفسیر کے مطابق “المعروف” مجمل ہوا جس کی تفسیر دیگر آیات میں آئی ہے، یعنی آیت میں “معروف” سے محض “کسی بھی معاشرے میں مروج حقوق و فرائض” مراد نہیں لئے جاسکتے۔
2): سورۃ نساء آیت 3 میں متعدد خواتین کے ساتھ نکاح کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا:
فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ
امام رازی کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں “ما طاب” کی ایک تعبیر “جو پسند ہوں” سے کی گئی ہے۔ پھر چونکہ لفظ “نساء” عام ہے جو مسلمہ و غیر مسلمہ ہر ایک پر صادق ہے، تو اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ بنتا ہے کہ “جو خواتین تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو دو، تین و چار تک”۔ یہاں نہ غیر مسلمہ کی تخصیص ہے اور نہ ان خواتین کی جن سے سورۃ نساء کی آیت 23 میں نکاح کی حرمت ذکر ہوئی۔ اس اعتبار سے یہ عام حکم کی تخصیص کی کیفیت بن گئی۔
“ما طاب” کی دوسری تعبیر “جن سے نکاح کرنا جائز ہے” سے کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ “جن خواتین سے نکاح کرنا جائز ہے ان سے نکاح کرلو”۔ مولانا اصلاحی صاحب نے آیت کا یہ دوسرا ترجمہ کیا ہے جبکہ غامدی صاحب نے “جو خواتین موزوں ہیں” کا ترجمہ کیا ہے۔ اس تعبیر کے مطابق یہ آیت مجمل ہوئی اس لئے کہ یہاں اسباب حلت و حرمت اور معیار موزونیت کا ذکر نہیں اور اس کا بیان سورۃ نساء کی آیت 23 سے ہوا۔ پس آیت 3 کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایک مرد جس بھی خاتون کو موزوں سمجھے اس سے نکاح کرلے بلکہ دیگر آیات میں موزونیت کا پیمانہ خود متکلم یعنی شارع نے وضع کیا ہے۔
3) “بالحق” قتل کا استثنا: سورۃ انعام جو مکی سورت ہے، اس میں قرآن نے واضح کیا کہ بغیر “حق” کے کسی جان کو قتل نہ کیا جائے۔ تاہم یہاں یہ واضح نہیں کہ کب قتل کرنا “برحق” ہے۔ اسی وجہ سے غامدی صاحب “حق” کی وضاحت کے لیے مدنی سورت المائدة کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
“انسانی جان کو جو حرمت ہر مذہب اور ہر اخلاقی نظام میں ہمیشہ حاصل رہی ہے، یہ اُس کا بیان ہے۔ سورہ مائدہ (۵) کی آیت ۳۲ میں صراحت ہے کہ کسی انسان کی جان دو ہی صورتوں میں لی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کردے، دوسرے یہ کہ نظم اجتماعی سے سرکشی کرکے وہ دوسروں کی جان و مال اور آبرو کے درپے ہو جائے۔ قرآن میں اِسے فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِس کے سوا ہرقتل ایک ناحق قتل ہے۔”
یہ بھی سورة الأنعام کے اجمال کی سورة المائدة سے تفسیر ہے اور اسے ہی مجمل کا بیان تفسیر اور تاخیر بیان کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ قتل ناحق کی یہ صورتیں پچھلی شریعتوں میں بھی واضح تھیں تو یہ ہماری شریعت میں دلیل نہیں۔ یاد رہے کہ “قتل بالحق” کی ان دو کے سوا ایک اور صورت غامدی صاحب “اتمام حجت کے قانون کے تحت قتل” بھی شمار کرتے ہیں۔
4) “کنز مذموم” اور “سبيل الله”: قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ سونا چاندی کے خزانے جمع کرتے ہیں جسے “کنز” سے تعبیر کیا گیا ہے اور “اللہ کی راہ” میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی بشارت ہے۔ اس آیت میں کون سے امور “کنز مذموم” میں آتے ہیں اور “سبيل الله” سے کیا مراد ہے اس پر مختلف اقوال ہیں۔ تاہم غامدی صاحب نے یہاں اصلاحی صاحب کی رائے پر صاد کیا جو فرماتے ہیں:
“اگر مال کے ڈھیر رکھتے ہوئے کوئی شخص اپنے پاس پڑوس کے یتیموں، بے کسوں، ناداروں سے بے پروا رہے یا دعوت دین، اقامت دین، تعلیم دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے دوسرے کاموں سے بے تعلق ہو جائے تو وہ عند اللہ مواخذے اور مسؤلیت سے بری نہیں ہوسکتا، اگرچہ اُس نے اپنے مال کا قانونی تقاضا پورا کر دیا ہو۔”
اس تفسیر سے واضح ہے کہ صرف زکاۃ ادا کر دینے (جو کہ مفسرین کے ہاں اس آیت کی تفسیر میں صحابہ سے منقول ایک قول ہے) سے انسان “کنز” مذموم” سے نہیں نکلتا۔ ظاہر ہے یہ تمام تفصیل صرف اس آیت سے نہیں جانی جاسکتی بلکہ شریعت کے دیگر دلائل کی روشنی میں طے کی گئی ہے۔ چنانچہ یہ آیت غامدی صاحب کی تفسیر کے مطابق مجمل ہے جس کا بیان دیگر دلائل سے آیا ہے۔
الغرض جسے اصولیین مجمل کہتے ہیں، وہ صرف صلوۃ و حج وغیرہ جیسے چند امور میں بند نہیں کہ سنت کو ماقبل قرآن کہہ دینے سے قرآن اس سے خالی ہوجائے بلکہ قرآن میں جابجا ایسے امور بیان ہوئے ہیں جو اصولیین کی اصطلاح میں مجمل ہیں (یہاں تک کہ “ایمان” و “کفر” کے الفاظ بھی مجمل ہیں)۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان مثالوں کو غامدی صاحب اپنے نظرئیے میں کس طرح بٹھاتے ہیں، تاہم قرآن مجید میں یہ اور ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں وہ کسی ایک مجمل حکم کی تفسیر کے لئے کسی دوسری آیت کی جانب اشارے کرکے پہلی کا مفہوم متعین کردیتے ہیں مگر یہ غور نہیں کرتے کہ اصولیین کی اصطلاح میں یہی مجمل کا مؤخر بیان کہلاتا ہے۔ پس ان مثالوں کے پیش نظر بھی انہیں ماننا چاہئے کہ قرآن میں ایسا مجمل موجود ہے جو محتمل ہونے کی بنا پر تاخیر البیان کو قبول کرتا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…