غامدی صاحب کے ہاں مجمل کی چند مثالیں

Published On November 26, 2025
غامدی ازم میں کیا مسئلہ ہے ؟

غامدی ازم میں کیا مسئلہ ہے ؟

مقرر : مفتی یاسر ندیم الواجدی  تلخیص : زید حسن  غامدی ازم کو ہم الحاد اور لبرل ازم کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے موضوعِ بحث بناتے ہیں ورنہ فرقہ وارانہ مباحث ہمارا موضوع نہیں ہیں ۔ غامدیت بھی اگرچہ ایک فرقہ ہی ہے کیونکہ انکے اصول  بالکل الگ اور مختلف ہیں ۔ اس نشست...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

سید خالد جامعی ایک سائل نے ایک عالم سے پوچھا ’’جو شخص بحالت احرام شکار کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ‘‘ [شرعاً حج ادا کرنے والے شخص کے لیے شکار کھیلنا منع ہے] اس نیک سیرت اور صاحب عمل عالم نے جواب دیا: ’’آپ کا سوال مبہم اور گمراہ کن ہے، آپ کو بالصراحت بتانا...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط پنجم )

سید خالد جامعی عصر حاضر کا مسئلہ یہ ہے کہ فقہا، متکلمین واعظین علماء نے لا ادری کہنا ترک کردیاہے لہٰذا وہ ہر مسئلے کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام کی درست رہنمائی سے قاصر رہتے ہیں۔ نائیک صاحب نہایت اخلاص کے ساتھ ادھورے علم کے ذریعے امت کی اصلاح کے لیے نکلے ہیں...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط سوم )

سید خالد جامعی ایک سائل نے ایک عالم سے پوچھا ’’جو شخص بحالت احرام شکار کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ‘‘ [شرعاً حج ادا کرنے والے شخص کے لیے شکار کھیلنا منع ہے] اس نیک سیرت اور صاحب عمل عالم نے جواب دیا: ’’آپ کا سوال مبہم اور گمراہ کن ہے، آپ کو بالصراحت بتانا...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط دوم )

سید خالد جامعی جدیدیت پسند مسلم مفکرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عقلی دلائل سے بڑے بڑے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن محدود عقل قدم قدم پر ٹھوکر یں کھاتی ہے۔ عہد حاضر کے جدید ذہن کو، جو علمی موشگافیوں کا ماہر ہے، نت نئے سوالات سوجھتے ہیں یہ سوالات تحصیلِ علم، حصولِ...

غامدی صاحب: تصوف اور غارحرا کی روایات

غامدی صاحب: تصوف اور غارحرا کی روایات

ڈاکٹر خضر یسین کیا غار حرا اور اس سے وابستہ واقعات پر مروی احادیث واقعتا صوفیاء کی وضع کردہ ہیں اور محض افسانہ ہیں جیسا کہ غامدی صاحب کا مؤقف ہے؟کیا واقعی قرآن مجید کی سورہ والنجم کی آیات ان احادیث کی تردید کرتی ہیں جو صحیح بخاری میں “کیف بدء الوحی” کے عنوان کے تحت...

ڈاکٹر زاہد مغل

غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن مجمل مفتقر الی البیان سے خالی ہے اور اس مقصد کے لئے وہ سنت کو ماقبل قرآن کہتے ہیں تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب صلوۃ و حج وغیرہ کی آیات نازل ہوئیں تو مخاطبین ان اعمال کی تفصیلات سے واقف تھے اور قرآن کی آیات ان مخصوص اعمال کی جانب اشارہ کررہی تھیں۔ تاہم اس سب کے باوجود بھی صلوۃ وغیرہ اصول فقہ کی اصطلاح کی رو سے مجمل ہی ہوں گی (یعنی متکلم کی خاص اصطلاح جس کا تعین وضع لغوی و عرفی سے طے ہونا ممکن نہیں)۔ غامدی صاحب کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ مجمل کا بیان وقت خطاب سے مؤخر نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ مقارن و متصل ہونا لازم ہے۔ یہاں اس دعوے کی دلیل (کہ قرآن میں ایسے مجمل کا ورود آخر کس عقلی و نقلی دلیل کی بنا پر ناجائز ہے جس کا بیان مؤخر ہو) سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ عرض ہے کہ غامدی صاحب کا یہ دعوی بظاہر واقعے کے بھی خلاف ہے۔ یہاں ہم ان کے ہاں سے چند ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جہاں قرآن میں مجمل کے مؤخر بیان کو انہوں نے قبول کرلیا ہے، اگرچہ اس کی تفسیر قرآن ہی سے لے لی ہو جبکہ ان کے نظرئیے میں قرآن کے مجمل کی ایسی تفسیر قرآن سے بھی ناجائز ہونا چاہئے۔ طوالت سے بچنے کے لئے یہاں ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں:
1) عورتوں کے حقوق و فرائض بالمعروف: قرآن میں سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا کہ خواتین کے شوہروں پر “عرف کے مطابق” (بالمعروف) حقوق و فرائض ہیں۔ غامدی صاحب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ “عورتوں کے اِن حقوق و فرائض کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء کی آیات 19 اور 34 میں فرمائی ہے”۔ یہاں ان کی تفسیر کے مطابق “المعروف” مجمل ہوا جس کی تفسیر دیگر آیات میں آئی ہے، یعنی آیت میں “معروف” سے محض “کسی بھی معاشرے میں مروج حقوق و فرائض” مراد نہیں لئے جاسکتے۔
2): سورۃ نساء آیت 3 میں متعدد خواتین کے ساتھ نکاح کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا:
فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ
امام رازی کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں “ما طاب” کی ایک تعبیر “جو پسند ہوں” سے کی گئی ہے۔ پھر چونکہ لفظ “نساء” عام ہے جو مسلمہ و غیر مسلمہ ہر ایک پر صادق ہے، تو اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ بنتا ہے کہ “جو خواتین تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو دو، تین و چار تک”۔ یہاں نہ غیر مسلمہ کی تخصیص ہے اور نہ ان خواتین کی جن سے سورۃ نساء کی آیت 23 میں نکاح کی حرمت ذکر ہوئی۔ اس اعتبار سے یہ عام حکم کی تخصیص کی کیفیت بن گئی۔
“ما طاب” کی دوسری تعبیر “جن سے نکاح کرنا جائز ہے” سے کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ “جن خواتین سے نکاح کرنا جائز ہے ان سے نکاح کرلو”۔ مولانا اصلاحی صاحب نے آیت کا یہ دوسرا ترجمہ کیا ہے جبکہ غامدی صاحب نے “جو خواتین موزوں ہیں” کا ترجمہ کیا ہے۔ اس تعبیر کے مطابق یہ آیت مجمل ہوئی اس لئے کہ یہاں اسباب حلت و حرمت اور معیار موزونیت کا ذکر نہیں اور اس کا بیان سورۃ نساء کی آیت 23 سے ہوا۔ پس آیت 3 کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایک مرد جس بھی خاتون کو موزوں سمجھے اس سے نکاح کرلے بلکہ دیگر آیات میں موزونیت کا پیمانہ خود متکلم یعنی شارع نے وضع کیا ہے۔
3) “بالحق” قتل کا استثنا: سورۃ انعام جو مکی سورت ہے، اس میں قرآن نے واضح کیا کہ بغیر “حق” کے کسی جان کو قتل نہ کیا جائے۔ تاہم یہاں یہ واضح نہیں کہ کب قتل کرنا “برحق” ہے۔ اسی وجہ سے غامدی صاحب “حق” کی وضاحت کے لیے مدنی سورت المائدة کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
“انسانی جان کو جو حرمت ہر مذہب اور ہر اخلاقی نظام میں ہمیشہ حاصل رہی ہے، یہ اُس کا بیان ہے۔ سورہ مائدہ (۵) کی آیت ۳۲ میں صراحت ہے کہ کسی انسان کی جان دو ہی صورتوں میں لی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کردے، دوسرے یہ کہ نظم اجتماعی سے سرکشی کرکے وہ دوسروں کی جان و مال اور آبرو کے درپے ہو جائے۔ قرآن میں اِسے فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِس کے سوا ہرقتل ایک ناحق قتل ہے۔”
یہ بھی سورة الأنعام کے اجمال کی سورة المائدة سے تفسیر ہے اور اسے ہی مجمل کا بیان تفسیر اور تاخیر بیان کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ قتل ناحق کی یہ صورتیں پچھلی شریعتوں میں بھی واضح تھیں تو یہ ہماری شریعت میں دلیل نہیں۔ یاد رہے کہ “قتل بالحق” کی ان دو کے سوا ایک اور صورت غامدی صاحب “اتمام حجت کے قانون کے تحت قتل” بھی شمار کرتے ہیں۔
4) “کنز مذموم” اور “سبيل الله”: قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ سونا چاندی کے خزانے جمع کرتے ہیں جسے “کنز” سے تعبیر کیا گیا ہے اور “اللہ کی راہ” میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی بشارت ہے۔ اس آیت میں کون سے امور “کنز مذموم” میں آتے ہیں اور “سبيل الله” سے کیا مراد ہے اس پر مختلف اقوال ہیں۔ تاہم غامدی صاحب نے یہاں اصلاحی صاحب کی رائے پر صاد کیا جو فرماتے ہیں:
“اگر مال کے ڈھیر رکھتے ہوئے کوئی شخص اپنے پاس پڑوس کے یتیموں، بے کسوں، ناداروں سے بے پروا رہے یا دعوت دین، اقامت دین، تعلیم دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے دوسرے کاموں سے بے تعلق ہو جائے تو وہ عند اللہ مواخذے اور مسؤلیت سے بری نہیں ہوسکتا، اگرچہ اُس نے اپنے مال کا قانونی تقاضا پورا کر دیا ہو۔”
اس تفسیر سے واضح ہے کہ صرف زکاۃ ادا کر دینے (جو کہ مفسرین کے ہاں اس آیت کی تفسیر میں صحابہ سے منقول ایک قول ہے) سے انسان “کنز” مذموم” سے نہیں نکلتا۔ ظاہر ہے یہ تمام تفصیل صرف اس آیت سے نہیں جانی جاسکتی بلکہ شریعت کے دیگر دلائل کی روشنی میں طے کی گئی ہے۔ چنانچہ یہ آیت غامدی صاحب کی تفسیر کے مطابق مجمل ہے جس کا بیان دیگر دلائل سے آیا ہے۔
الغرض جسے اصولیین مجمل کہتے ہیں، وہ صرف صلوۃ و حج وغیرہ جیسے چند امور میں بند نہیں کہ سنت کو ماقبل قرآن کہہ دینے سے قرآن اس سے خالی ہوجائے بلکہ قرآن میں جابجا ایسے امور بیان ہوئے ہیں جو اصولیین کی اصطلاح میں مجمل ہیں (یہاں تک کہ “ایمان” و “کفر” کے الفاظ بھی مجمل ہیں)۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان مثالوں کو غامدی صاحب اپنے نظرئیے میں کس طرح بٹھاتے ہیں، تاہم قرآن مجید میں یہ اور ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں وہ کسی ایک مجمل حکم کی تفسیر کے لئے کسی دوسری آیت کی جانب اشارے کرکے پہلی کا مفہوم متعین کردیتے ہیں مگر یہ غور نہیں کرتے کہ اصولیین کی اصطلاح میں یہی مجمل کا مؤخر بیان کہلاتا ہے۔ پس ان مثالوں کے پیش نظر بھی انہیں ماننا چاہئے کہ قرآن میں ایسا مجمل موجود ہے جو محتمل ہونے کی بنا پر تاخیر البیان کو قبول کرتا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…