علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

Published On November 26, 2025
حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

مولانا مجیب الرحمن تیسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ۔ يكون في هذه الأمة بعث إلى السند والهند، فإن أنا أدركته، فاستشهدت فذلك وإن أنا رجعت وأنا أبو هريرة المحرر قد...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

مولانا مجیب الرحمن دوسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ :۔ اس بارے میں دوسری حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند اور  راویوں پر غور فرمائیں ، امام نسائی فرماتے ہیں: أخبرنا أحمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ر كريا بن عدى، قال: حدثنا عبد الله من عمر...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

مولانا مجیب الرحمن غامدی صاحب کی ویب سائٹ پر موجود ایک کتاب کا مضمون بعنوان : غزوہ ہند کی کمزور اور غلط روایات کا جائزہ ایک ساتھی کے ذریعہ موصول ہوا ۔ بعد از مطالعہ یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اس مضمون کو سامنے رکھ کر حدیث غزوہ ہند پر اپنے مطالعہ کی حد تک قارئین کے سامنے...

سرگذشت انذار کا مسئلہ

سرگذشت انذار کا مسئلہ

محمد حسنین اشرف فراہی مکتبہ فکر اگر کچھ چیزوں کو قبول کرلے تو شاید جس چیز کو ہم مسئلہ کہہ رہے ہیں وہ مسئلہ نہیں ہوگا لیکن چونکہ کچھ چیزوں پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے اس لیے اسے "مسئلہ" کہنا موزوں ہوگا۔ بہرکیف، پہلا مسئلہ جو اس باب میں پیش آتا ہے وہ قاری کی ریڈنگ کا...

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟  غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب...

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

ڈاکٹر زاہد مغل

حال ہی میں “علم النبیﷺ ” نام سے غامدی صاحب کی کتاب منظر عام پر آئی۔ کتاب کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے احادیث سے کئی ایسے امور قبول کیے ہیں جو قرآن کے کسی حکم پر قابل قیاس نہیں اور نہ ہی وہ اطلاق کے قبیل سے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح انہیں ارشاد کے قبیل کی ترجیحات بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مخاطب چاہے تو کوئی اور اجتہاد کرلے۔ باالفاظ دیگر یہ امور بظاہر غامدی صاحب کے تصور شرح و وضاحت پر پورا نہیں اترتے۔ ان امور میں مثلاً قیامت کی علامات، مختلف اعمال کے ثواب وغیرہ شامل ہیں جبکہ دوسری طرف غامدی صاحب کے تصور کے مطابق حدیث میں ہمیشہ “فرع” ہی آسکتی ہے اور وہ “اطلاق” ہوتی ہے جو “قابل قیاس” ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حدیث سے ثابت شدہ کسی بھی حکم کی ماہیت میں یہ تین امور ہونے چاہیے: فرع، اطلاق اور قابل قیاسی۔

اس پر مندرجہ ذیل ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

1: غامدی صاحب احکام کے رشتے کو دو میں بند کرتے ہیں: اصل اور فرع۔ اس لحاظ سے “علم النبی” کے تحت آنے والے درج بالا نوع کے امور “اصل” کے قبیل سے ہوئے۔ اگر یہ درست ہے، تو یہ بیک “اصل” و “فرع” کس پہلو سے ہوئے؟ نیز اگر یہ بیان اصل ہیں تو یہ بات کیسے درست رہی کہ حدیث سے دین میں کوئی اصل حکم ثابت نہیں ہوتا؟

2: اور اگر یہ درست نہیں بلکہ یہ فرع ہی ہیں، تو قابل قیاس ہوئے بغیر یہ “فرع” کیسے ہوئے؟

3: اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ “قابل قیاسی” اور “اطلاق” وہاں ہونا ضروری ہے جہاں “عمل” کی ضرورت پیش آئے نہ کہ جہاں محض علم و نظریہ کی ضرورت ہو، تو بظاہر “فقه النبی” و “علم النبی” میں فرع کا مفہوم الگ الگ ہوگا۔ اس پر مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

الف) اس فرق کو روا رکھنے کی عقلی و نقلی دلیل کیا ہے؟ جو معاملہ “علم النبی” کے تحت جائز ہے وہ “فقه النبی” کے تحت کیوں جائز نہیں؟ کتاب “علم النبی” کے دیباچے میں آپ نے ایسے کسی فرق کا ذکر نہیں کیا۔

ب) جب “علم النبی” سے یہ لزوم ثابت ہوگیا کہ بغیر اطلاق ہوئے بھی احادیث میں مذکور امور پر اعتقاد واجب ہے، تو یہ عقیدے میں اضافہ کیونکر نہ ہوا؟ یہاں یہ لفظی بحث نہیں کہ غامدی صاحب لفظ “عقیدے” کا اطلاق مثلا صرف “چھ امور” پر کرتے ہیں اور ان کی تفصیلات کے لیے یہ اصطلاح نہیں برتتے یا غامدی صاحب لفظ “دین” کا اطلاق “اصل” پر کرتے ہیں، “فرع” پر نہیں کرتے۔ یہاں بحث حکم کی ہے کہ غامدی صاحب “لزوم” کا حکم، مراتب کے فرق کے لحاظ سے، عائد کر رہے ہیں اور مراتب کا یہ فرق تو قرآن سے ثابت شدہ احکام میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ قروء سے حیض مراد ہونا اور ختم نبوت سے وہ مراد ہونا جو امت سمجھتی ہے دونوں قرآن ہی سے آئے ہیں لیکن دونوں میں فرق مراتب ہے۔ اس لیے حکم کے درجے میں فرق کے باوجود یہاں عقیدہ یا نظریہ ثابت ہوتا ہے۔

ج) اسی سے یہاں یہ بات بھی پیدا ہوتی ہے کہ جسے عمل کہا جاتا ہے وہاں بھی عقیدے یا علم کا ایک درجہ شامل ہوتا ہے۔ مثلا غامدی صاحب اگر “قروء” سے حیض مراد لے کر فتوی دیتے ہیں، تو ظاہر ہے وہ یہ تصور ہی باندھتے ہیں کہ اس لفظ سے قرآن کی وہی مراد ہے جو انہوں نے سمجھی اور یہ مراد لینا کم از کم خود پر واجب سمجھتے ہیں۔ اسے عقیدے کا پہلو کہتے ہیں۔ اس لئے یہ فرق مفید مطلب نہیں رہتا۔

4: غامدی صاحب کے مطابق قرآن میں “مجمل مفتقر الی البیان” نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب حدیث میں “علم النبی” کے تحت وہ “تعیینات” آگئیں جن کا اجمال قرآن میں موجود ہے (جیسے قیامت و جنت جہنم وغیرہ کی تفصیلات)، تو یہ قرآن میں مجمل کے نہ صرف ماننے بلکہ حدیث یعنی خبر واحد سے اس کے بیان تفسیر کو اخذ کرنے کے سوا اور کیا ہوا؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…