علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

Published On November 26, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

مولانا واصل واسطی دوسرا نکتہ جناب غامدی نے ان کے اپنے الفاظ میں یہ بیان کیاہے کہ ،، ثانیا آپ کو بتایا ہے کہ یہ دوسری قراءت قران کو جمع کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کردینے کے بعد کی جائے گی ، اور اس کے ساتھ ہی آپ اس بات کے پابند ہوجائیں گے کہ آئندہ اسی قراءت کی پیروی...

جاوید احمد غامدی کے فلسفیانہ افکار کا جائزہ قسط اول

جاوید احمد غامدی کے فلسفیانہ افکار کا جائزہ قسط اول

عمران شاہد بھنڈر چند ہفتے قبل جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ ایک بار پھر قرآن کے تصورِ تخلیق کو بروئے کار لاتے ہوئے’’ وجود‘‘ کے مسئلے کی وضاحت کررہے تھے ۔ غامدی صاحب اپنی بات کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ ’’قرآن سے پہلے سقراط و...

کیا علامہ طبری نے آیت “لتبین للناس” سے وہ مراد لی جو غامدی صاحب فرماتے ہیں؟

کیا علامہ طبری نے آیت “لتبین للناس” سے وہ مراد لی جو غامدی صاحب فرماتے ہیں؟

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب نے دو ویڈیوز میں سورۃ نحل کی آیت 43 (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ) میں لفظ تبیین پر اپنے موقف پر دلائل دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ لغوی طور پر اس لفظ کے دو معانی ہیں: (الف) از خود کسی بات کو...

علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل علامہ جار اللہ زمحشری (م 538 ھ) کی جس عبارت کو محترم غامدی صاحب نے مسئلہ تبیین پر اپنے مدعا کا بیان قرار دیا، اس عبارت سے کیا جانے والا استدلال بھی مخدوش بے۔ علامہ زمحشری لکھتے ہیں: ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ يعنى ما نزل الله إليهم في الذكر مما أمروا به...

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب کے تصور تبیین کی قرآن کے محاورے میں غلطی واضح کرنے کے لئے دی گئیں چھ میں سے دوسری مثال پر غامدی صاحب نے تبصرہ فرمایا ہے۔ اس مثال میں ہم نے واضح کیا تھا کہ سورۃ نور کی آیت 58 میں پردے کے احکام میں جو تبدیلی کی گئی، قرآن نے اسے تبیین...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان تین نکات کو ترتیب وار لکھتے ہیں جو جناب غامدی نے سورت القیامہ اور سورت الاعلی سے سمجھے ہیں مگر اتنی سی بات پہلے جان لیں کہ جناب غامدی نے ان دو آیات کے ترجمہ میں چند الفاظ داخل کیے ہیں  کہ وہ پھر اپنے مدعی کو ثابت کرنے میں ان کو کام آجائیں  (...

ڈاکٹر زاہد مغل

حال ہی میں “علم النبیﷺ ” نام سے غامدی صاحب کی کتاب منظر عام پر آئی۔ کتاب کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے احادیث سے کئی ایسے امور قبول کیے ہیں جو قرآن کے کسی حکم پر قابل قیاس نہیں اور نہ ہی وہ اطلاق کے قبیل سے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح انہیں ارشاد کے قبیل کی ترجیحات بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مخاطب چاہے تو کوئی اور اجتہاد کرلے۔ باالفاظ دیگر یہ امور بظاہر غامدی صاحب کے تصور شرح و وضاحت پر پورا نہیں اترتے۔ ان امور میں مثلاً قیامت کی علامات، مختلف اعمال کے ثواب وغیرہ شامل ہیں جبکہ دوسری طرف غامدی صاحب کے تصور کے مطابق حدیث میں ہمیشہ “فرع” ہی آسکتی ہے اور وہ “اطلاق” ہوتی ہے جو “قابل قیاس” ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حدیث سے ثابت شدہ کسی بھی حکم کی ماہیت میں یہ تین امور ہونے چاہیے: فرع، اطلاق اور قابل قیاسی۔

اس پر مندرجہ ذیل ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

1: غامدی صاحب احکام کے رشتے کو دو میں بند کرتے ہیں: اصل اور فرع۔ اس لحاظ سے “علم النبی” کے تحت آنے والے درج بالا نوع کے امور “اصل” کے قبیل سے ہوئے۔ اگر یہ درست ہے، تو یہ بیک “اصل” و “فرع” کس پہلو سے ہوئے؟ نیز اگر یہ بیان اصل ہیں تو یہ بات کیسے درست رہی کہ حدیث سے دین میں کوئی اصل حکم ثابت نہیں ہوتا؟

2: اور اگر یہ درست نہیں بلکہ یہ فرع ہی ہیں، تو قابل قیاس ہوئے بغیر یہ “فرع” کیسے ہوئے؟

3: اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ “قابل قیاسی” اور “اطلاق” وہاں ہونا ضروری ہے جہاں “عمل” کی ضرورت پیش آئے نہ کہ جہاں محض علم و نظریہ کی ضرورت ہو، تو بظاہر “فقه النبی” و “علم النبی” میں فرع کا مفہوم الگ الگ ہوگا۔ اس پر مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

الف) اس فرق کو روا رکھنے کی عقلی و نقلی دلیل کیا ہے؟ جو معاملہ “علم النبی” کے تحت جائز ہے وہ “فقه النبی” کے تحت کیوں جائز نہیں؟ کتاب “علم النبی” کے دیباچے میں آپ نے ایسے کسی فرق کا ذکر نہیں کیا۔

ب) جب “علم النبی” سے یہ لزوم ثابت ہوگیا کہ بغیر اطلاق ہوئے بھی احادیث میں مذکور امور پر اعتقاد واجب ہے، تو یہ عقیدے میں اضافہ کیونکر نہ ہوا؟ یہاں یہ لفظی بحث نہیں کہ غامدی صاحب لفظ “عقیدے” کا اطلاق مثلا صرف “چھ امور” پر کرتے ہیں اور ان کی تفصیلات کے لیے یہ اصطلاح نہیں برتتے یا غامدی صاحب لفظ “دین” کا اطلاق “اصل” پر کرتے ہیں، “فرع” پر نہیں کرتے۔ یہاں بحث حکم کی ہے کہ غامدی صاحب “لزوم” کا حکم، مراتب کے فرق کے لحاظ سے، عائد کر رہے ہیں اور مراتب کا یہ فرق تو قرآن سے ثابت شدہ احکام میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ قروء سے حیض مراد ہونا اور ختم نبوت سے وہ مراد ہونا جو امت سمجھتی ہے دونوں قرآن ہی سے آئے ہیں لیکن دونوں میں فرق مراتب ہے۔ اس لیے حکم کے درجے میں فرق کے باوجود یہاں عقیدہ یا نظریہ ثابت ہوتا ہے۔

ج) اسی سے یہاں یہ بات بھی پیدا ہوتی ہے کہ جسے عمل کہا جاتا ہے وہاں بھی عقیدے یا علم کا ایک درجہ شامل ہوتا ہے۔ مثلا غامدی صاحب اگر “قروء” سے حیض مراد لے کر فتوی دیتے ہیں، تو ظاہر ہے وہ یہ تصور ہی باندھتے ہیں کہ اس لفظ سے قرآن کی وہی مراد ہے جو انہوں نے سمجھی اور یہ مراد لینا کم از کم خود پر واجب سمجھتے ہیں۔ اسے عقیدے کا پہلو کہتے ہیں۔ اس لئے یہ فرق مفید مطلب نہیں رہتا۔

4: غامدی صاحب کے مطابق قرآن میں “مجمل مفتقر الی البیان” نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب حدیث میں “علم النبی” کے تحت وہ “تعیینات” آگئیں جن کا اجمال قرآن میں موجود ہے (جیسے قیامت و جنت جہنم وغیرہ کی تفصیلات)، تو یہ قرآن میں مجمل کے نہ صرف ماننے بلکہ حدیث یعنی خبر واحد سے اس کے بیان تفسیر کو اخذ کرنے کے سوا اور کیا ہوا؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…