علم النبیﷺ پر غامدی صاحب کے لئے سوالات

Published On November 26, 2025
غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

ڈاکٹر خضر یسین حدیث کے متعلق غامدی صاحب کا موقف کسی اصول پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس بات سے دلچسپی ہے کہ حدیث کی فنی حیثیت متعین کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ حدیث کا مدار اعتبار "قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" ہے، نہ کہ "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے یہ بات تولکھی ہے کہ ،، تخصیص وتحدیدِ قران کسی قسم کی وحی سے نہیں ہوسکتی ، اورنہ پیغمبر ہی اس میں کوئی ترمیم وتغیرکرسکتاہے (میزان ص 24) مگر تخصیص اورنسخ میں کوئی فرق وہ بیان نہیں کرتے ہیں حالانکہ اہلِ علم دونوں کے درمیان بہت سے فروق بیان...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہفتم)

ڈاکٹر خضر یسین قرآن مجید کے متعلق غامدی صاحب کی تحریر و تقریر سے یہ تاثر لئے بغیر، آپ نہیں رہ سکتے کہ وہ کسی ادبی کتاب کے متعلق اپنی انتقادی تحسین بیان کر رہے ہیں۔ الوہی ہدایت کے مقابل، ہدایت وصول کرنے والے انسان کا طرزعمل اور احساس و تاثر ایک نقاد کا کبھی نہیں ہوتا۔...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 12)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 11)

مولانا واصل واسطی احبابِ کرام جناب غامدی کی توجیہِ حدیث سے پہلے اس حدیث کا ترجمہ ان کے قلم سے پڑھ لیں ، جوکل کی پوسٹ میں گذرگئی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس کے ساتھ عبدالرحمن بن الزبیر قرظی نے نکاح کرلیا ، سیدہ عائشہ...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ششم)

ڈاکٹر خضر یسین غامدی صاحب کی دینی فکر اور اس کے پورے تنظیمی ڈھانچے کو سمجھنا خاصہ دشوار کام ہے کیونکہ ان کا بیان ایک منظم فکر کی ضرورت کو پورا کرتا ہے اور نہ دین اور دینی شعور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ ممکن ہے، میرا یہ تبصرہ بعض احباب کو سخت گیری کا مظہر لگے۔ لیکن...

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط ہشتم)

غامدی صاحب کی دینی فکر اور ہماری معروضات (قسط پنجم)

ڈاکٹر خضر یسین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، خاتم الوحی ہے اور آنجناب علیہ السلام کی ذات، خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کے بعد نہ ایسی وحی ممکن ہے جو انسانیت پر واجب الایمان و العمل ہو اور نہ آنجناب علیہ السلام کے بعد کوئی نبی و رسول ممکن ہے۔ آنجناب علیہ...

ڈاکٹر زاہد مغل

حال ہی میں “علم النبیﷺ ” نام سے غامدی صاحب کی کتاب منظر عام پر آئی۔ کتاب کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے احادیث سے کئی ایسے امور قبول کیے ہیں جو قرآن کے کسی حکم پر قابل قیاس نہیں اور نہ ہی وہ اطلاق کے قبیل سے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح انہیں ارشاد کے قبیل کی ترجیحات بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مخاطب چاہے تو کوئی اور اجتہاد کرلے۔ باالفاظ دیگر یہ امور بظاہر غامدی صاحب کے تصور شرح و وضاحت پر پورا نہیں اترتے۔ ان امور میں مثلاً قیامت کی علامات، مختلف اعمال کے ثواب وغیرہ شامل ہیں جبکہ دوسری طرف غامدی صاحب کے تصور کے مطابق حدیث میں ہمیشہ “فرع” ہی آسکتی ہے اور وہ “اطلاق” ہوتی ہے جو “قابل قیاس” ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حدیث سے ثابت شدہ کسی بھی حکم کی ماہیت میں یہ تین امور ہونے چاہیے: فرع، اطلاق اور قابل قیاسی۔

اس پر مندرجہ ذیل ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

1: غامدی صاحب احکام کے رشتے کو دو میں بند کرتے ہیں: اصل اور فرع۔ اس لحاظ سے “علم النبی” کے تحت آنے والے درج بالا نوع کے امور “اصل” کے قبیل سے ہوئے۔ اگر یہ درست ہے، تو یہ بیک “اصل” و “فرع” کس پہلو سے ہوئے؟ نیز اگر یہ بیان اصل ہیں تو یہ بات کیسے درست رہی کہ حدیث سے دین میں کوئی اصل حکم ثابت نہیں ہوتا؟

2: اور اگر یہ درست نہیں بلکہ یہ فرع ہی ہیں، تو قابل قیاس ہوئے بغیر یہ “فرع” کیسے ہوئے؟

3: اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ “قابل قیاسی” اور “اطلاق” وہاں ہونا ضروری ہے جہاں “عمل” کی ضرورت پیش آئے نہ کہ جہاں محض علم و نظریہ کی ضرورت ہو، تو بظاہر “فقه النبی” و “علم النبی” میں فرع کا مفہوم الگ الگ ہوگا۔ اس پر مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

الف) اس فرق کو روا رکھنے کی عقلی و نقلی دلیل کیا ہے؟ جو معاملہ “علم النبی” کے تحت جائز ہے وہ “فقه النبی” کے تحت کیوں جائز نہیں؟ کتاب “علم النبی” کے دیباچے میں آپ نے ایسے کسی فرق کا ذکر نہیں کیا۔

ب) جب “علم النبی” سے یہ لزوم ثابت ہوگیا کہ بغیر اطلاق ہوئے بھی احادیث میں مذکور امور پر اعتقاد واجب ہے، تو یہ عقیدے میں اضافہ کیونکر نہ ہوا؟ یہاں یہ لفظی بحث نہیں کہ غامدی صاحب لفظ “عقیدے” کا اطلاق مثلا صرف “چھ امور” پر کرتے ہیں اور ان کی تفصیلات کے لیے یہ اصطلاح نہیں برتتے یا غامدی صاحب لفظ “دین” کا اطلاق “اصل” پر کرتے ہیں، “فرع” پر نہیں کرتے۔ یہاں بحث حکم کی ہے کہ غامدی صاحب “لزوم” کا حکم، مراتب کے فرق کے لحاظ سے، عائد کر رہے ہیں اور مراتب کا یہ فرق تو قرآن سے ثابت شدہ احکام میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ قروء سے حیض مراد ہونا اور ختم نبوت سے وہ مراد ہونا جو امت سمجھتی ہے دونوں قرآن ہی سے آئے ہیں لیکن دونوں میں فرق مراتب ہے۔ اس لیے حکم کے درجے میں فرق کے باوجود یہاں عقیدہ یا نظریہ ثابت ہوتا ہے۔

ج) اسی سے یہاں یہ بات بھی پیدا ہوتی ہے کہ جسے عمل کہا جاتا ہے وہاں بھی عقیدے یا علم کا ایک درجہ شامل ہوتا ہے۔ مثلا غامدی صاحب اگر “قروء” سے حیض مراد لے کر فتوی دیتے ہیں، تو ظاہر ہے وہ یہ تصور ہی باندھتے ہیں کہ اس لفظ سے قرآن کی وہی مراد ہے جو انہوں نے سمجھی اور یہ مراد لینا کم از کم خود پر واجب سمجھتے ہیں۔ اسے عقیدے کا پہلو کہتے ہیں۔ اس لئے یہ فرق مفید مطلب نہیں رہتا۔

4: غامدی صاحب کے مطابق قرآن میں “مجمل مفتقر الی البیان” نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب حدیث میں “علم النبی” کے تحت وہ “تعیینات” آگئیں جن کا اجمال قرآن میں موجود ہے (جیسے قیامت و جنت جہنم وغیرہ کی تفصیلات)، تو یہ قرآن میں مجمل کے نہ صرف ماننے بلکہ حدیث یعنی خبر واحد سے اس کے بیان تفسیر کو اخذ کرنے کے سوا اور کیا ہوا؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…