غامدی صاحب کا حدیث پراجیکٹ

Published On December 11, 2025
غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

مصنف : ڈاکٹر محمد قاسم مرکزی موضوع: جاوید احمد غامدی کے دین، حدیث، فقہ، اور جدید مسائل کے بارے میں نظریات کا تجزیہ کرنا.۔مصنف کا انداز: ڈاکٹر محمد قاسم فکتو نے غامدی کے نظریات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، ان کے دلائل کا جواب دیا ہے، اور ان پر ہونے والے اعتراضات کو علمی...

محترم جاوید غامدی صاحب کی فکر کے بنیادی ماخذ

محترم جاوید غامدی صاحب کی فکر کے بنیادی ماخذ

محترم غامدی صاحب کی بنیادی فکر دراصل ان کے نادر خیالات اور تفقہ فی الدین کا نتیجہ نہیں، بلکہ ماضی بعید و قریب کے چند علماءو فقہاء کی تحقیقات کا سرقہ ہے۔ راقم کو اس بابت پہلا احساس اس وقت ہوا جب جناب غامدی صاحب کی کتاب "میزان" پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب کی بنیادی فکر،...

غامدی صاحب کے نظریہ حدیث کا جائزہ (7)

غامدی صاحب کے نظریہ حدیث کا جائزہ (7)

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

گل رحمان ہمدرد

غامدی صاحب نے جو حدیث پروجیکٹ شروع کیا ہے یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا کام ہے اور انتہائ لائق تحسین ہے ۔یہ وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن اس پروجیکٹ میں ایک مسئلہ ہے۔اور وہ یہ کہ اس کا مقدمہ یہ ہے کہ احادیث کو قرآن کی بنیاد پر پرکھا جائے۔اُدھر قرآن کا فہم مختلف مکاتب ہائے فکر کے ہاں مختلف ہے۔ آپکی قرآن کی تفہیم بدل جائے تو آپکی احادیث کی سلیکشن بھی بدل جائے گی۔

ایک شخص صرف اپنے فہمِ قرآن کی بنیاد پر کئے گئے اپنی سلیکشن کو علم النبی کیسے قرار دے سکتا ہے؟ ۔کل کوئی دوسرا عالم ایسا کرے تو وہ بھی علم النبی ہوگا اگرچہ اسکی سلیکشن غامدی صاحب کی سلیکشن کے برعکس ہو؟۔ کل کوکوئی مفسر اپنی تفسیر کو علم النبی قرار دے دے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا متضاد تعبیراتِ قرآن میں سے ایک شخص اپنی تعبیر کو علم النبی قراردے تو یہ درست اقدام ہوگا؟

وہاں غامدی صاحب کا موقف ہے کہ قرآن تو قطعی الدلالہ ہے لیکن ہم اپنی تفہیمِ قرآن کے بارے میں قطیعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ یہی حقیقی فہم ہے۔ فہم ظنی ہے تو احادیث کے باب میں قطعیت کے ساتھ ان کے علم النبی ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاسکتا ہے؟ فہمِ قرآن ظنی ہے تو اس کی بنیاد پر جن احادیث کو صحیح قرار دیا جائے وہ قطعی کیسے ہوسکتی ہیں؟ وہ بھی ظنی ہیں ۔ اپنے ظنی علم کی بنیاد پر کئے گئے سلیکشن کو قطعی طور پر علم النبی قراردینا بہت پرابلیمیٹک بات ہے۔

حدیث پروجیکٹ تو ایک درست کام ہے۔ لیکن اس کا نام
پرابلیمٹک ہے۔ اس نام میں قطیعیت کی بو ہے جو گروہی تعصب پیدا کرتی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی اور مناسب نام رکھا جاتا؟
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی تمام احادیث سنی علمِ حدیث سے ماخوذ ہیں۔ شیعہ علم حدیث اور اباضی علم حدیث کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یہ اپروچ خالصتاََ فرقہ وارانہ اپروچ ہے۔ جدید عہد کے ایک بڑے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اسطرح کی فرقہ وارانہ اپروچ پر یقین رکھے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

غامدی و خارجی فہمِ حدیث میں مماثلت

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE