محترم جاوید غامدی صاحب کی فکر کے بنیادی ماخذ

Published On December 23, 2025
فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ!۔ فلسطین کے مسئلے پر غامدی صاحب اور ان کے داماد جناب حسن الیاس نے جس طرح کا مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے بہت سے لوگوں کو حیرت کے ساتھ دکھ میں مبتلا کیا ہے، غزہ میں ہونے والی بدترین نسل کشی پر پوری دنیا مذمت...

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

حسان بن علی جیسا کہ عرض کیا کہ غامدی صاحب احکام میں حدیث کی استقلالی حجیت کے قائل نہیں جیسا کہ وہ لکھتے ہیں "یہ چیز حدیث کے دائرے میں ہی نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے" (ميزان) جیسے سود دینے والے کی مذمت میں اگرچہ حدیث صراحتا بیان ہوئی ليكن غامدی...

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

حسان بن علی اور یہ واضح رہے کہ انکارِ حجیتِ حدیث کے حوالے سے غلام احمد پرویز، اسی طرح عبداللہ چکڑالوی کا درجہ ایک سا ہے کہ وہ اسے کسی طور دین میں حجت ماننے کے لیے تیار نہیں (غلام احمد پرویز حديث کو صرف سیرت کی باب میں قبول کرتے ہیں، دیکھیے کتاب مقام حدیث) اور اس سے کم...

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (1)

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (1)

حسان بن علی غامدی صاحب کے اسلاف میں ماضی کی ایک اور شخصیت غلام قادیانی، حدیث کے مقام کے تعین میں لکھتے ہیں : "مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لیے تین چیزیں ہیں. ١) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جسے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ...

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

حسان بن علی غامدی صاحب کے اسلاف میں ايک اور شخصیت، معروف بطور منکرِ حجيتِ حدیث، اسلم جيراجپوری صاحب، حقیقت حدیث بیان کرتے ہوئے اختتامیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں "قرآن دین کی مستقل کتاب ہے اور اجتماعی اور انفرادی ہر لحاظ سے ہدایت کے لیے کافی ہے وہ انسانی عقل کے سامنے ہر...

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

ڈاکٹر زاہد مغل حدیث کی کتاب کو جس معنی میں تاریخ کی کتاب کہا گیا کہ اس میں آپﷺ کے اقوال و افعال اور ان کے دور کے بعض احوال کا بیان ہے، تو اس معنی میں قرآن بھی تاریخ کی کتاب ہے کہ اس میں انبیا کے قصص کا بیان ہے (جیسا کہ ارشاد ہوا: وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ...

محترم غامدی صاحب کی بنیادی فکر دراصل ان کے نادر خیالات اور تفقہ فی الدین کا نتیجہ نہیں، بلکہ ماضی بعید و قریب کے چند علماءو فقہاء کی تحقیقات کا سرقہ ہے۔ راقم کو اس بابت پہلا احساس اس وقت ہوا جب جناب غامدی صاحب کی کتاب “میزان” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
اس کتاب کی بنیادی فکر، استدلال اور یہاں تک کہ مثالیں بھی مولانا عمر احمد عثمانی صاحب کی کتاب “فقہ القرآن” سے ماخوذ ہیں۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ پوری کتاب میں کسی ایک جگہ بھی اس بات کا تاثر نہیں دیا جاتا کہ یہ فکر و مثالیں مولانا عمر احمد عثمانی کی علمی کاوشوں سے ماخوذ ہیں۔ بلکہ کتاب پڑھ کر قاری کو یہی تاثر ملتا ہے کہ گویا یہ تحقیقات خالص جناب غامدی صاحب کے علمی تفکر اور مساعی کا نتیجہ ہیں۔
غامدی صاحب کی بیشتر تحقیقات دوسرے علماء کی کاوشوں کا نتیجہ رہی ہیں، جیسے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب کے نظریہ سیاست و خلافت کو غامدی صاحب نے من و عن اپنے الفاظ میں ادا کردیا ہے،
بالکل اسی طرح شادی شدہ زانی کے لئے رجم کی سزا ا بھی دراصل ان کے استاد محترم امین احسن اصلاحی اور مولانا عمر احمد عثمانی کی علمی تحقیقات سے ماخوذ ہے۔ عمر عائشہ رضی اللہ عنہا پر غامدی صاحب نے سارا کا سارا مواد حکیم نیاز احمد کی کتاب سے لیا ہے
جبکہ موسیقی کو مباحات فطرت قرار دینے کے دلائل بھی غامدی صاحب نے مولانا ابوالکلام آزاد اور جعفرشاہ پھلواری سے اخذ کئے ہیں۔
الغرض کوئی ایسا مسئلہ ڈھونڈنا مشکل ہوگا جس کی بابت کہا جاسکے کہ یہ مسئلہ تنہا غامدی صاحب کی دقت نظری کا نتیجہ ہے۔ تاہم یہ بات ضرور ہے کہ ان تمام مسائل میں غامدی صاحب سبیل المومنین سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں جبکہ غامدی صاحب کے حوارین یہ دعویٰ کرتے ہیں
کہ کہ غامدی صاحب کے تفردات کی تعداد۴،۵ سے زیادہ نہیں ہے۔ اور ان تفردات میں بھی وہ اکیلے نہیں بلکہ فقہاء ان کے ساتھ ہیں ۔ اس مبحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ تفرد کہتے کسے ہیں۔ تفرد اسے نہیں کہتے کہ سلف سے خلف تک کسی نے وہ موقف اختیا ر نہ کیا ہو ۔ تفرد وہ بھی ہوتا ہے جس کے قائلین خواہ (سلف تا خلف ) متعدد پائے جائیں لیکن اپنے زمانے میں تنہا ہی رہے ہوں۔
آسان زبان میں تفرد کسی بھی فقیہہ یا عالم کی اس رائے کو کہتے ہیں جس میں وہ جمہور امت سے منفرد ہو اور امت اور اسکے علماء کی اکثریت نے اس رائے کو قبول عام نہ بخشا ہو۔ اس طر ح کے تفردات ہمیں تقریباً ہر فقیہہ کے ہاں مل جاتے ہیں لیکن عموماً تمام قدیم و جدید فقہاء کے تفردات کی تعداد ان کی بقیہ آراء کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ کسی عالم یا فقیہہ نے اگر ۱۰۰۰ مسائل کا استنباط کیا ہے تو اس میں سے ۵ یا ۶ ہی میں تفرد کا شکار ہوا ہوگا۔
لیکن غامدی صاحب کی تو ماشاءاللہ سے پوری کی پوری ’’فقہ‘‘ ہی تفردات کا مجموعہ ہے۔ اور اپنے استاذ گرامی کے دفاع میں غامدی صاحب کے حوارین عموماً یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ استاذ محترم اس تفرد میں اکیلے نہیں بلکہ فلاں دور کے فلاں عالم بھی ان کے ہمنوا ہیں اور دراصل یہ بات ہوتی بھی بالکل درست ہے
لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جو چیزیں مختلف فقہاء کے ہاں انفرادی طور پر ملتی ہیں غامدی صاحب نے انکو وہاں سے چن چن کر اپنی پوری فقہ بنا ڈالی ہے یعنی ہر فقیہ کا متروک یا شاذ اجتہاد غامدی صاحب کے ’’مقبول ‘‘ اجتہاد کی لسٹ میں آجاتا ہے۔ گویا ایسا نظر آتا ہے کہ غامدی صاحب ان فقہ کی کتابوں میں سے اپنے لیے کبھی محرمات کا جواز ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں
تو کہیں واجبات کی نفی میں ان کا دن رات ایک ہو رہا ہوتا ہے ۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے اکثر زعمائے سوء نے جب بھی امت کو جادہء حق سے منحرف کرنے کا کام سر انجام دیا ہے تو فقہ کی کتابوں کا ہی سہارا لیا ہے اور اس اصل سے اعراض برتا ہے جسکی بنیاد پر فقہ رکھی گئی ہے یعنی قرآن و سنت۔ یہی روش ممدوح غامدی صاحب نے بھی اختیار کی ہوئی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…