محترم جاوید غامدی صاحب کی فکر کے بنیادی ماخذ

Published On December 23, 2025
تراویح کوئی نماز نہیں : جاوید غامدی کا انکار

تراویح کوئی نماز نہیں : جاوید غامدی کا انکار

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن غامدی صاحب نے یہ بات کی ہے کہ تراویح سرے سے کوئی نماز ہی نہیں ہے ۔ اور اسکی ابتداء حضرت عمر کے دور میں ہوئی ہے۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ آپ نبی ﷺ کے عمل کو دلیل بنا رہے ہیں اگرچہ وہ بھی دلیل نہیں بنتی کیونکہ حضور ﷺ نے تین دن باقاعدہ...

نظم، مراد،متکلم اور متن

نظم، مراد،متکلم اور متن

محمد حسنین اشرف   نظم:۔ پہلے نظم کی نوعیت پر بات کرتے ہیں کہ یہ کس نوعیت کی شے ہے۔ غامدی صاحب، میزان میں، اصلاحی صاحب کی بات کو نقل کرتے ہیں:۔ ۔" جو شخص نظم کی رہنمائی کے بغیر قرآن کو پڑھے گا، وہ زیادہ سے زیادہ جو حاصل کر سکے گا ، وہ کچھ منفرد احکام اور مفرد قسم...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

مولانا مجیب الرحمن تیسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ۔ يكون في هذه الأمة بعث إلى السند والهند، فإن أنا أدركته، فاستشهدت فذلك وإن أنا رجعت وأنا أبو هريرة المحرر قد...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

مولانا مجیب الرحمن دوسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ :۔ اس بارے میں دوسری حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند اور  راویوں پر غور فرمائیں ، امام نسائی فرماتے ہیں: أخبرنا أحمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ر كريا بن عدى، قال: حدثنا عبد الله من عمر...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

مولانا مجیب الرحمن غامدی صاحب کی ویب سائٹ پر موجود ایک کتاب کا مضمون بعنوان : غزوہ ہند کی کمزور اور غلط روایات کا جائزہ ایک ساتھی کے ذریعہ موصول ہوا ۔ بعد از مطالعہ یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اس مضمون کو سامنے رکھ کر حدیث غزوہ ہند پر اپنے مطالعہ کی حد تک قارئین کے سامنے...

سرگذشت انذار کا مسئلہ

سرگذشت انذار کا مسئلہ

محمد حسنین اشرف فراہی مکتبہ فکر اگر کچھ چیزوں کو قبول کرلے تو شاید جس چیز کو ہم مسئلہ کہہ رہے ہیں وہ مسئلہ نہیں ہوگا لیکن چونکہ کچھ چیزوں پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے اس لیے اسے "مسئلہ" کہنا موزوں ہوگا۔ بہرکیف، پہلا مسئلہ جو اس باب میں پیش آتا ہے وہ قاری کی ریڈنگ کا...

محترم غامدی صاحب کی بنیادی فکر دراصل ان کے نادر خیالات اور تفقہ فی الدین کا نتیجہ نہیں، بلکہ ماضی بعید و قریب کے چند علماءو فقہاء کی تحقیقات کا سرقہ ہے۔ راقم کو اس بابت پہلا احساس اس وقت ہوا جب جناب غامدی صاحب کی کتاب “میزان” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
اس کتاب کی بنیادی فکر، استدلال اور یہاں تک کہ مثالیں بھی مولانا عمر احمد عثمانی صاحب کی کتاب “فقہ القرآن” سے ماخوذ ہیں۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ پوری کتاب میں کسی ایک جگہ بھی اس بات کا تاثر نہیں دیا جاتا کہ یہ فکر و مثالیں مولانا عمر احمد عثمانی کی علمی کاوشوں سے ماخوذ ہیں۔ بلکہ کتاب پڑھ کر قاری کو یہی تاثر ملتا ہے کہ گویا یہ تحقیقات خالص جناب غامدی صاحب کے علمی تفکر اور مساعی کا نتیجہ ہیں۔
غامدی صاحب کی بیشتر تحقیقات دوسرے علماء کی کاوشوں کا نتیجہ رہی ہیں، جیسے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب کے نظریہ سیاست و خلافت کو غامدی صاحب نے من و عن اپنے الفاظ میں ادا کردیا ہے،
بالکل اسی طرح شادی شدہ زانی کے لئے رجم کی سزا ا بھی دراصل ان کے استاد محترم امین احسن اصلاحی اور مولانا عمر احمد عثمانی کی علمی تحقیقات سے ماخوذ ہے۔ عمر عائشہ رضی اللہ عنہا پر غامدی صاحب نے سارا کا سارا مواد حکیم نیاز احمد کی کتاب سے لیا ہے
جبکہ موسیقی کو مباحات فطرت قرار دینے کے دلائل بھی غامدی صاحب نے مولانا ابوالکلام آزاد اور جعفرشاہ پھلواری سے اخذ کئے ہیں۔
الغرض کوئی ایسا مسئلہ ڈھونڈنا مشکل ہوگا جس کی بابت کہا جاسکے کہ یہ مسئلہ تنہا غامدی صاحب کی دقت نظری کا نتیجہ ہے۔ تاہم یہ بات ضرور ہے کہ ان تمام مسائل میں غامدی صاحب سبیل المومنین سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں جبکہ غامدی صاحب کے حوارین یہ دعویٰ کرتے ہیں
کہ کہ غامدی صاحب کے تفردات کی تعداد۴،۵ سے زیادہ نہیں ہے۔ اور ان تفردات میں بھی وہ اکیلے نہیں بلکہ فقہاء ان کے ساتھ ہیں ۔ اس مبحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ تفرد کہتے کسے ہیں۔ تفرد اسے نہیں کہتے کہ سلف سے خلف تک کسی نے وہ موقف اختیا ر نہ کیا ہو ۔ تفرد وہ بھی ہوتا ہے جس کے قائلین خواہ (سلف تا خلف ) متعدد پائے جائیں لیکن اپنے زمانے میں تنہا ہی رہے ہوں۔
آسان زبان میں تفرد کسی بھی فقیہہ یا عالم کی اس رائے کو کہتے ہیں جس میں وہ جمہور امت سے منفرد ہو اور امت اور اسکے علماء کی اکثریت نے اس رائے کو قبول عام نہ بخشا ہو۔ اس طر ح کے تفردات ہمیں تقریباً ہر فقیہہ کے ہاں مل جاتے ہیں لیکن عموماً تمام قدیم و جدید فقہاء کے تفردات کی تعداد ان کی بقیہ آراء کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ کسی عالم یا فقیہہ نے اگر ۱۰۰۰ مسائل کا استنباط کیا ہے تو اس میں سے ۵ یا ۶ ہی میں تفرد کا شکار ہوا ہوگا۔
لیکن غامدی صاحب کی تو ماشاءاللہ سے پوری کی پوری ’’فقہ‘‘ ہی تفردات کا مجموعہ ہے۔ اور اپنے استاذ گرامی کے دفاع میں غامدی صاحب کے حوارین عموماً یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ استاذ محترم اس تفرد میں اکیلے نہیں بلکہ فلاں دور کے فلاں عالم بھی ان کے ہمنوا ہیں اور دراصل یہ بات ہوتی بھی بالکل درست ہے
لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جو چیزیں مختلف فقہاء کے ہاں انفرادی طور پر ملتی ہیں غامدی صاحب نے انکو وہاں سے چن چن کر اپنی پوری فقہ بنا ڈالی ہے یعنی ہر فقیہ کا متروک یا شاذ اجتہاد غامدی صاحب کے ’’مقبول ‘‘ اجتہاد کی لسٹ میں آجاتا ہے۔ گویا ایسا نظر آتا ہے کہ غامدی صاحب ان فقہ کی کتابوں میں سے اپنے لیے کبھی محرمات کا جواز ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں
تو کہیں واجبات کی نفی میں ان کا دن رات ایک ہو رہا ہوتا ہے ۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے اکثر زعمائے سوء نے جب بھی امت کو جادہء حق سے منحرف کرنے کا کام سر انجام دیا ہے تو فقہ کی کتابوں کا ہی سہارا لیا ہے اور اس اصل سے اعراض برتا ہے جسکی بنیاد پر فقہ رکھی گئی ہے یعنی قرآن و سنت۔ یہی روش ممدوح غامدی صاحب نے بھی اختیار کی ہوئی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…