محترم جاوید غامدی صاحب کی فکر کے بنیادی ماخذ

Published On December 23, 2025
حیات و نزولِ عیسی

حیات و نزولِ عیسی

سوال کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین جاوید احمد غامدی کے بارے میں، جس کے درجِ ذیل عقائد وخیالات ہیں اور ان کی دعوت واشاعت میں ہمہ تن مصروف ہے ۔حیات ونزول عیسیٰ کا منکر ہے ،۔ کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔﴿میزان،ص۷۸۱﴾۔ظہور مہدی کا بھی منکر ہے ،...

نظریات جاوید احمد غامدی

نظریات جاوید احمد غامدی

سوال دین اسلام کامل و مکمل دین اور ربانی ضابطۂ حیات ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ بزرگ و برتر نے اپنے ذمہ لی ہے، اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں بہت سے فتنوں نے جنم لیا اور اسلامی عمارت کو ڈھانے کی بھر پور کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے علمائے امت کے ہاتھوں ان...

من سب نبیا فاقتلوہ

من سب نبیا فاقتلوہ

سوال : حدیث "من سب نبیا فاقتلوہ" کی تحقیق مطلوب ہے، آیا یہ حدیث صحیح اور قابل اعتبار ہے یا کہ نہیں؟غامدی چینل والے اس کو ناقابل اعتبار قرار دےرہے ہیں۔اس کا کیا جواب ہے؟ جواب اگرچہ بظاہربعض تجدد پسند لوگ حدیث کی قبولیت کے لیے قرآنی موافقت کو شرط قرار دیتے ہیں اور اسناد...

جاوید احمد غامدی کے نظریات

جاوید احمد غامدی کے نظریات

سوال : جاوید احمد غامدی کے نظریات کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں،  کہاں تک ان کا اعتبار کرنا درست ہے؟ جواب جاوید احمد غامدی کے بہت سے نظریات قرآن و حدیث کے صریح نصوص کے خلاف اور اہلِ سنت و الجماعت کے اجماعی و اتفاقی عقائد سے متصادم ہیں،  جن میں سے چند درج ذیل ہیں الف۔ ...

بیس رکعت تراویح اور غامدی صاحب کا موقف

بیس رکعت تراویح اور غامدی صاحب کا موقف

سوال : جاوید احمد غامدی کے نزدیک تراویح کی نماز سرے سے ہے ہی نہیں, برائے کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ جواب بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور یہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین روز تراویح کی باقاعدہ...

حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کی قبر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر

مولانا عند الحمید تونسوی     اہلِ اسلام کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انہیں سولی پر نہیں چڑھایا گیا، بلکہ زندہ ہی آسمانوں پر اُٹھالیا گیا، قیامت کے قریب وہ آسمان سے زمین پر نازل ہوں...

محترم غامدی صاحب کی بنیادی فکر دراصل ان کے نادر خیالات اور تفقہ فی الدین کا نتیجہ نہیں، بلکہ ماضی بعید و قریب کے چند علماءو فقہاء کی تحقیقات کا سرقہ ہے۔ راقم کو اس بابت پہلا احساس اس وقت ہوا جب جناب غامدی صاحب کی کتاب “میزان” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
اس کتاب کی بنیادی فکر، استدلال اور یہاں تک کہ مثالیں بھی مولانا عمر احمد عثمانی صاحب کی کتاب “فقہ القرآن” سے ماخوذ ہیں۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ پوری کتاب میں کسی ایک جگہ بھی اس بات کا تاثر نہیں دیا جاتا کہ یہ فکر و مثالیں مولانا عمر احمد عثمانی کی علمی کاوشوں سے ماخوذ ہیں۔ بلکہ کتاب پڑھ کر قاری کو یہی تاثر ملتا ہے کہ گویا یہ تحقیقات خالص جناب غامدی صاحب کے علمی تفکر اور مساعی کا نتیجہ ہیں۔
غامدی صاحب کی بیشتر تحقیقات دوسرے علماء کی کاوشوں کا نتیجہ رہی ہیں، جیسے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب کے نظریہ سیاست و خلافت کو غامدی صاحب نے من و عن اپنے الفاظ میں ادا کردیا ہے،
بالکل اسی طرح شادی شدہ زانی کے لئے رجم کی سزا ا بھی دراصل ان کے استاد محترم امین احسن اصلاحی اور مولانا عمر احمد عثمانی کی علمی تحقیقات سے ماخوذ ہے۔ عمر عائشہ رضی اللہ عنہا پر غامدی صاحب نے سارا کا سارا مواد حکیم نیاز احمد کی کتاب سے لیا ہے
جبکہ موسیقی کو مباحات فطرت قرار دینے کے دلائل بھی غامدی صاحب نے مولانا ابوالکلام آزاد اور جعفرشاہ پھلواری سے اخذ کئے ہیں۔
الغرض کوئی ایسا مسئلہ ڈھونڈنا مشکل ہوگا جس کی بابت کہا جاسکے کہ یہ مسئلہ تنہا غامدی صاحب کی دقت نظری کا نتیجہ ہے۔ تاہم یہ بات ضرور ہے کہ ان تمام مسائل میں غامدی صاحب سبیل المومنین سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں جبکہ غامدی صاحب کے حوارین یہ دعویٰ کرتے ہیں
کہ کہ غامدی صاحب کے تفردات کی تعداد۴،۵ سے زیادہ نہیں ہے۔ اور ان تفردات میں بھی وہ اکیلے نہیں بلکہ فقہاء ان کے ساتھ ہیں ۔ اس مبحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ تفرد کہتے کسے ہیں۔ تفرد اسے نہیں کہتے کہ سلف سے خلف تک کسی نے وہ موقف اختیا ر نہ کیا ہو ۔ تفرد وہ بھی ہوتا ہے جس کے قائلین خواہ (سلف تا خلف ) متعدد پائے جائیں لیکن اپنے زمانے میں تنہا ہی رہے ہوں۔
آسان زبان میں تفرد کسی بھی فقیہہ یا عالم کی اس رائے کو کہتے ہیں جس میں وہ جمہور امت سے منفرد ہو اور امت اور اسکے علماء کی اکثریت نے اس رائے کو قبول عام نہ بخشا ہو۔ اس طر ح کے تفردات ہمیں تقریباً ہر فقیہہ کے ہاں مل جاتے ہیں لیکن عموماً تمام قدیم و جدید فقہاء کے تفردات کی تعداد ان کی بقیہ آراء کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ کسی عالم یا فقیہہ نے اگر ۱۰۰۰ مسائل کا استنباط کیا ہے تو اس میں سے ۵ یا ۶ ہی میں تفرد کا شکار ہوا ہوگا۔
لیکن غامدی صاحب کی تو ماشاءاللہ سے پوری کی پوری ’’فقہ‘‘ ہی تفردات کا مجموعہ ہے۔ اور اپنے استاذ گرامی کے دفاع میں غامدی صاحب کے حوارین عموماً یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ استاذ محترم اس تفرد میں اکیلے نہیں بلکہ فلاں دور کے فلاں عالم بھی ان کے ہمنوا ہیں اور دراصل یہ بات ہوتی بھی بالکل درست ہے
لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جو چیزیں مختلف فقہاء کے ہاں انفرادی طور پر ملتی ہیں غامدی صاحب نے انکو وہاں سے چن چن کر اپنی پوری فقہ بنا ڈالی ہے یعنی ہر فقیہ کا متروک یا شاذ اجتہاد غامدی صاحب کے ’’مقبول ‘‘ اجتہاد کی لسٹ میں آجاتا ہے۔ گویا ایسا نظر آتا ہے کہ غامدی صاحب ان فقہ کی کتابوں میں سے اپنے لیے کبھی محرمات کا جواز ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں
تو کہیں واجبات کی نفی میں ان کا دن رات ایک ہو رہا ہوتا ہے ۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے اکثر زعمائے سوء نے جب بھی امت کو جادہء حق سے منحرف کرنے کا کام سر انجام دیا ہے تو فقہ کی کتابوں کا ہی سہارا لیا ہے اور اس اصل سے اعراض برتا ہے جسکی بنیاد پر فقہ رکھی گئی ہے یعنی قرآن و سنت۔ یہی روش ممدوح غامدی صاحب نے بھی اختیار کی ہوئی ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…