غامدی صاحب کا حدیث پراجیکٹ

Published On December 11, 2025
قرار دادِ مقاصد اور حسن الیاس

قرار دادِ مقاصد اور حسن الیاس

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے داماد فرماتے ہیں:۔خود کو احمدی کہلوانے والوں کے ماوراے عدالت قتل کا سبب 1984ء کا امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس ہے؛ جس کا سبب 1974ء کی آئینی ترمیم ہے جس نے خود کو احمدی کہلوانے والوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا؛ جس سبب قراردادِ مقاصد ہے جس...

کیا علمِ کلام ناگزیر نہیں ؟ غامدی صاحب کے دعوے کا تجزیہ

کیا علمِ کلام ناگزیر نہیں ؟ غامدی صاحب کے دعوے کا تجزیہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ علم کلام ناگزیر علم نہیں اس لئے کہ قرآن تک پہنچنے کے جس استدلال کی متکلمین بات کرتے ہیں وہ قرآن سے ماخوذ نہیں نیز قرآن نے اس بارے میں خود ہی طریقہ بتا دیا ہے۔ مزید یہ کہ علم کلام کا حاصل دلیل حدوث ہے جس کا پہلا مقدمہ (عالم حادث...

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (2)

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (2)

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ڈاکٹر اسرار احمد پر طنز اور استہزا کا اسلوب اب اس باب سے اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں جو غامدی صاحب نے ’احساسِ ذمہ داری‘ کے ساتھ ڈاکٹر اسرار صاحب پر تنقید میں لکھا۔ یہاں بھی انھیں بقول ان کے شاگردوں کے، کم از کم یہ تو خیال رکھنا چاہیے تھا کہ ڈاکٹر...

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (1)

تحت الشعور، تاش کے پتّے اور غامدی صاحب (1)

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے داماد نے یکسر جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، نہایت بے دردی کے ساتھ، اور ہاتھ نچا نچا کر جس طرح فلسطین کے مسئلے پر ہفوات پیش کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی، اس پر گرفت کریں، تو غامدی صاحب کے مریدانِ باصفا اخلاقیات کی دُہائی...

فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ!۔ فلسطین کے مسئلے پر غامدی صاحب اور ان کے داماد جناب حسن الیاس نے جس طرح کا مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے بہت سے لوگوں کو حیرت کے ساتھ دکھ میں مبتلا کیا ہے، غزہ میں ہونے والی بدترین نسل کشی پر پوری دنیا مذمت...

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

حسان بن علی جیسا کہ عرض کیا کہ غامدی صاحب احکام میں حدیث کی استقلالی حجیت کے قائل نہیں جیسا کہ وہ لکھتے ہیں "یہ چیز حدیث کے دائرے میں ہی نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے" (ميزان) جیسے سود دینے والے کی مذمت میں اگرچہ حدیث صراحتا بیان ہوئی ليكن غامدی...

گل رحمان ہمدرد

غامدی صاحب نے جو حدیث پروجیکٹ شروع کیا ہے یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا کام ہے اور انتہائ لائق تحسین ہے ۔یہ وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن اس پروجیکٹ میں ایک مسئلہ ہے۔اور وہ یہ کہ اس کا مقدمہ یہ ہے کہ احادیث کو قرآن کی بنیاد پر پرکھا جائے۔اُدھر قرآن کا فہم مختلف مکاتب ہائے فکر کے ہاں مختلف ہے۔ آپکی قرآن کی تفہیم بدل جائے تو آپکی احادیث کی سلیکشن بھی بدل جائے گی۔

ایک شخص صرف اپنے فہمِ قرآن کی بنیاد پر کئے گئے اپنی سلیکشن کو علم النبی کیسے قرار دے سکتا ہے؟ ۔کل کوئی دوسرا عالم ایسا کرے تو وہ بھی علم النبی ہوگا اگرچہ اسکی سلیکشن غامدی صاحب کی سلیکشن کے برعکس ہو؟۔ کل کوکوئی مفسر اپنی تفسیر کو علم النبی قرار دے دے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا متضاد تعبیراتِ قرآن میں سے ایک شخص اپنی تعبیر کو علم النبی قراردے تو یہ درست اقدام ہوگا؟

وہاں غامدی صاحب کا موقف ہے کہ قرآن تو قطعی الدلالہ ہے لیکن ہم اپنی تفہیمِ قرآن کے بارے میں قطیعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ یہی حقیقی فہم ہے۔ فہم ظنی ہے تو احادیث کے باب میں قطعیت کے ساتھ ان کے علم النبی ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاسکتا ہے؟ فہمِ قرآن ظنی ہے تو اس کی بنیاد پر جن احادیث کو صحیح قرار دیا جائے وہ قطعی کیسے ہوسکتی ہیں؟ وہ بھی ظنی ہیں ۔ اپنے ظنی علم کی بنیاد پر کئے گئے سلیکشن کو قطعی طور پر علم النبی قراردینا بہت پرابلیمیٹک بات ہے۔

حدیث پروجیکٹ تو ایک درست کام ہے۔ لیکن اس کا نام
پرابلیمٹک ہے۔ اس نام میں قطیعیت کی بو ہے جو گروہی تعصب پیدا کرتی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی اور مناسب نام رکھا جاتا؟
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی تمام احادیث سنی علمِ حدیث سے ماخوذ ہیں۔ شیعہ علم حدیث اور اباضی علم حدیث کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یہ اپروچ خالصتاََ فرقہ وارانہ اپروچ ہے۔ جدید عہد کے ایک بڑے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اسطرح کی فرقہ وارانہ اپروچ پر یقین رکھے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…