غامدی صاحب کا حدیث پراجیکٹ

Published On December 11, 2025
ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع...

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن پورے کا پورا قطعی الدلالہ ہے، یعنی اس کا ایک ہی مفہوم ہے اور اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر پورے قرآن کو قطعی الدلالہ نہ مانا جائے تو وہ میزان اور...

(Surrogate Mother) کرائے کی ماں

(Surrogate Mother) کرائے کی ماں

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب نے سروگیسی  یعنی کسی دوسری عورت کی کوکھ یا رحم کرائے پر لینے کو جائز قرار دیا ہے، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ جواب: میں نے غامدی صاحب کا وہ ویڈیو کلپ دیکھا ہے اور غالبا جو میں نے دیکھا ہے، یہ اس موضوع پر ان کا...

وحی و عقل ، چند قابلِ لحاظ پہلو

وحی و عقل ، چند قابلِ لحاظ پہلو

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا "عقل اور وحی" کے تعلق پر مبنی ایک  پروگرام دیکھا جس میں وہ سائلین کے ساتھ اسی بحث میں پھنسے رہے کہ عقل پرائمری سورس آف علم ہے یا وحی اور پوری گفتگو عقل اور انسان سے متعلق چند غلط مفروضات پر مبنی تھی۔ مذھب اور عقل کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے...

گل رحمان ہمدرد

غامدی صاحب نے جو حدیث پروجیکٹ شروع کیا ہے یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا کام ہے اور انتہائ لائق تحسین ہے ۔یہ وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن اس پروجیکٹ میں ایک مسئلہ ہے۔اور وہ یہ کہ اس کا مقدمہ یہ ہے کہ احادیث کو قرآن کی بنیاد پر پرکھا جائے۔اُدھر قرآن کا فہم مختلف مکاتب ہائے فکر کے ہاں مختلف ہے۔ آپکی قرآن کی تفہیم بدل جائے تو آپکی احادیث کی سلیکشن بھی بدل جائے گی۔

ایک شخص صرف اپنے فہمِ قرآن کی بنیاد پر کئے گئے اپنی سلیکشن کو علم النبی کیسے قرار دے سکتا ہے؟ ۔کل کوئی دوسرا عالم ایسا کرے تو وہ بھی علم النبی ہوگا اگرچہ اسکی سلیکشن غامدی صاحب کی سلیکشن کے برعکس ہو؟۔ کل کوکوئی مفسر اپنی تفسیر کو علم النبی قرار دے دے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا متضاد تعبیراتِ قرآن میں سے ایک شخص اپنی تعبیر کو علم النبی قراردے تو یہ درست اقدام ہوگا؟

وہاں غامدی صاحب کا موقف ہے کہ قرآن تو قطعی الدلالہ ہے لیکن ہم اپنی تفہیمِ قرآن کے بارے میں قطیعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ یہی حقیقی فہم ہے۔ فہم ظنی ہے تو احادیث کے باب میں قطعیت کے ساتھ ان کے علم النبی ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاسکتا ہے؟ فہمِ قرآن ظنی ہے تو اس کی بنیاد پر جن احادیث کو صحیح قرار دیا جائے وہ قطعی کیسے ہوسکتی ہیں؟ وہ بھی ظنی ہیں ۔ اپنے ظنی علم کی بنیاد پر کئے گئے سلیکشن کو قطعی طور پر علم النبی قراردینا بہت پرابلیمیٹک بات ہے۔

حدیث پروجیکٹ تو ایک درست کام ہے۔ لیکن اس کا نام
پرابلیمٹک ہے۔ اس نام میں قطیعیت کی بو ہے جو گروہی تعصب پیدا کرتی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی اور مناسب نام رکھا جاتا؟
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی تمام احادیث سنی علمِ حدیث سے ماخوذ ہیں۔ شیعہ علم حدیث اور اباضی علم حدیث کو درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یہ اپروچ خالصتاََ فرقہ وارانہ اپروچ ہے۔ جدید عہد کے ایک بڑے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اسطرح کی فرقہ وارانہ اپروچ پر یقین رکھے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.