غامدی صاحب کا تصورِ نظم : چند سوالات

Published On December 11, 2025
ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

ذو الوجہین : من وجہ اقرار من وجہ انکار

محمد خزیمہ الظاہری پہلے بھی عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے باقاعدہ طور پر دو چہرے رکھے ہوئے ہیں. ایک انہیں دکھانے کے لئے جو آپ کو منکر حدیث کہتے ہیں اور یہ چہرہ دکھا کر انکار حدیث کے الزام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میزان میں بارہ سو روایتیں ہیں وغیرہ...

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد پچھلی قسط کے اختتام پر لکھا گیا کہ ابھی یہ بحث پوری نہیں ہوئی، لیکن غامدی صاحب کے حلقے سے فوراً ہی جواب دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر جواب کی طرف لپکنے کے بجاے وہ کچھ صبر سے کام لیتے اور اگلی قسط پڑھ لیتے، تو ان حماقتوں میں مبتلا نہ ہوتے جن میں...

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

(اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حج اور جہاد کی فرضیت صرف اسی کےلیے ہوتی ہے جو استطاعت رکھتا ہو۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، لیکن اس میں بہت ہی بنیادی نوعیت کی غلطی پائی جاتی ہے اور اس غلطی کا تعلق شرعی حکم تک پہنچنے کے طریقِ کار سے ہے۔ سب سے پہلے...

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

حسان بن علی بات محض حکمت عملی کے اختلاف کی نہیں کہ مسلمان فی الحال جنگ کو چھوڑ رکھیں بلکہ بات پورے ورلڈ ویو اور نظریے کی ہے کہ غامدی صاحب کی فکر میں مسلمانوں کی اجتماعی سیادت و بالادستی اساسا مفقود ہے (کہ خلافت کا تصور ان کے نزدیک زائد از اسلام تصور ہے)، اسى طرح...

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عمر عزیز کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی خدمت میں صرف ہوا ہے۔ لیکن یہ قرآن مجید کے بجائے عربی زبان و ادب کی خدمت تھی یا تخصیص سے بیان کیا جائے تو یہ قرآن مجید کے عربی اسلوب کی خدمت تھی۔ قرآن مجید کا انتخاب صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ...

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

خدا پر ایمان : غامدی صاحب کی دلیل پر تبصرہ اور علم کلام کی ناگزیریت

ڈاکٹرزاہد مغل علم کلام کے مباحث کو غیر ضروری کہنے اور دلیل حدوث پر اعتراض کرنے کے لئے جناب غامدی صاحب نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن سے متعلق دیگر علوم جیسے کہ اصول فقہ، فقہ و تفسیر وغیرہ کے برعکس علم کلام ناگزیر مسائل سے بحث نہیں کرتا اس لئے کہ...

ڈاکٹر فرخ نوید

۔1- آیات کے معانی کی تعیین کے لئے مکتب فراہی بشمول غامدی صاحب نظم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن نظم کو ملحوظ رکھ کر معنی کی تعیین تو خود ایک انسانی کاوش اور استنباطی عمل ہے کیونکہ نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی آیت کے مدعا و معنی کو متعین کرنے میں بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تمام آیات کا ایک ہی معنی و مفہوم تو مراد نہیں لیا جا سکتا۔ خود مکتب فراہی ہی کو لیجئے جہاں دعوی تو یہ کیا جاتا ہے کہ نؑظم کو ملحوظ رکھیں تو ایک ہی معنی ہونے چاہیئں مگر کیا عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا مولانا فراہی ‘ اصلاحی ‘ اور غامدی صاحب پورے قرآن کی تمام آیات کا (بشمول و آیات جو متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں) نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی مطلب مراد لیتے ہیں؟ لہذا یہ دعوی کرنا کہ سیاق و سباق کی روشنی میں ایک سے زائد معانی کی گنجائش نہیں رہتی محل نظر ہے۔۔

۔2-دوسری بات یہ ہے کہ وہ آیات جو بظاہر متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں (جیسے” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ” یہاں لفظ قروء سے حیض و طہر دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں) وہاں اگر کوئی صاحب علم نظم قرآن ہی کی روشنی میں اس کا ایک مفہوم مثلا طہر متعین کرتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو مفہوم اس نے نظم کی روشنی میں متعین کیا ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اگر بعد میں آنے والے کوئی صاحب علم نظم ہی کی روشنی میں اس کا مخالف معنی مراد لیتے ہیں تو پھر یہ دعوی تو برقرار نہیں رہتا کہ نظم کی روشنی میں ایک ہی مفہوم مراد لیا جانا چاہیئے۔

۔3– مکتب فراہی نظم کی روشنی میں جو معنی متعین کرنے کی کوشش کرے گا اس میں خطاء کا امکان ہو گا یا نہیں؟ اگر آپ نظم کی روشنی میں معنی کی تعیین میں امکان خطاء تسلیم نہیں کرتے تو یہ تو صرف نبوت کا خاصہ ہے کہ نبی کی بات میں خطاء کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ امکان خطاء تسلیم کرتے ہیں تو اس معنی کو حتمی حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں۔

۔4- کیا صرف سورت میں موجود واقعات کے درمیان ربط قائم کرنا نظم ہے اور کیا آیت کے سیاق و سباق سے احکام کا استدلال نظم میں داخل ۔نہیں

۔5-کیا نظم کا مقصود حقیقت کلام واضح کرنا نہیں بلکہ صرف حکمت کلام واضح کرنا ہے ۔ اگر بات صرف اتنی سی ہے تو اس پہ اتنا فوکس کیوں کیا جاتا ہے۔ فراہی تفسیری مکتبہ فکر کا مابہ الامتیاز ہی نظم ہے۔

۔6- نظم کی روشنی میں معنی کا تعین کرنا اور بات ہے اور اس اخذ کردہ معنی کو حتمی حجت قرار دینا دوسری بات۔ آپ اپنے استنباطی معنی کو حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں یہ کہتے ہوے کہ ایک معنی کے سوا کوئی اور معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔ حالانکہ خود صحابہ کرام میں مختلف آیات کی تشریح میں اختلاف ہوا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…