غامدی صاحب کا تصورِ نظم : چند سوالات

Published On December 11, 2025
تصورِ جہاد ( قسط اول)

تصورِ جہاد ( قسط اول)

شعیب احمد غامدی تصورِ جہاد کچھ عرصہ قبل راقم نے غامدی صاحب کے شاگر در شید اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کے فرزند من پسند جناب عمار خان ناصر صاحب کے نظریہ جہاد کے نقد و تجزیے کے لیے ایک مضمون سپر د قلم کیا تھا، جو ماہنامہ صفدر میں قسط وار چھپنے کے علاوہ "عمار خان کا نیا...

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

سود ، غامدی صاحب اور قرآن

حسان بن علی پہلے یہ جاننا چاہیے کہ قرآن نے اصل موضوع سود لینے والے کو کیوں بنایا. اسے درجہ ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے ١) چونکا سود کے عمل میں بنیادی کردار سود لینے والے کا ہے لہذا قرآن نے اصل موضوع اسے بنایا. ٢) سود لینے والے کے لیے مجبوری کی صورت نہ ہونے کے برابر...

سود اور غامدی صاحب

سود اور غامدی صاحب

حسان بن علی غامدی صاحب کے ہاں سود دینا (سود ادا کرنا) حرام نہیں ہے (جس کی کچھ تفصیل ان کی کتاب مقامات میں بھى موجود ہے) اور جس حدیث میں سود دینے والے کی مذمت وارد ہوئی ہے، غامدی صاحب نے اس میں سود دینے والے سے مراد وہ شخص لیا ہے جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش...

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں محترم غامدی صاحب علم کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک حرف غلط قرار دے کر غیر مفید و لایعنی علم کہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفے کی دنیا میں افکار کے تین ادوار گزرے ہیں:۔ - پہلا دور وہ تھا جب وجود کو بنیادی حیثیت دی گئی...

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

ڈاکٹر فرخ نوید

۔1- آیات کے معانی کی تعیین کے لئے مکتب فراہی بشمول غامدی صاحب نظم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن نظم کو ملحوظ رکھ کر معنی کی تعیین تو خود ایک انسانی کاوش اور استنباطی عمل ہے کیونکہ نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی آیت کے مدعا و معنی کو متعین کرنے میں بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تمام آیات کا ایک ہی معنی و مفہوم تو مراد نہیں لیا جا سکتا۔ خود مکتب فراہی ہی کو لیجئے جہاں دعوی تو یہ کیا جاتا ہے کہ نؑظم کو ملحوظ رکھیں تو ایک ہی معنی ہونے چاہیئں مگر کیا عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا مولانا فراہی ‘ اصلاحی ‘ اور غامدی صاحب پورے قرآن کی تمام آیات کا (بشمول و آیات جو متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں) نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی مطلب مراد لیتے ہیں؟ لہذا یہ دعوی کرنا کہ سیاق و سباق کی روشنی میں ایک سے زائد معانی کی گنجائش نہیں رہتی محل نظر ہے۔۔

۔2-دوسری بات یہ ہے کہ وہ آیات جو بظاہر متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں (جیسے” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ” یہاں لفظ قروء سے حیض و طہر دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں) وہاں اگر کوئی صاحب علم نظم قرآن ہی کی روشنی میں اس کا ایک مفہوم مثلا طہر متعین کرتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو مفہوم اس نے نظم کی روشنی میں متعین کیا ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اگر بعد میں آنے والے کوئی صاحب علم نظم ہی کی روشنی میں اس کا مخالف معنی مراد لیتے ہیں تو پھر یہ دعوی تو برقرار نہیں رہتا کہ نظم کی روشنی میں ایک ہی مفہوم مراد لیا جانا چاہیئے۔

۔3– مکتب فراہی نظم کی روشنی میں جو معنی متعین کرنے کی کوشش کرے گا اس میں خطاء کا امکان ہو گا یا نہیں؟ اگر آپ نظم کی روشنی میں معنی کی تعیین میں امکان خطاء تسلیم نہیں کرتے تو یہ تو صرف نبوت کا خاصہ ہے کہ نبی کی بات میں خطاء کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ امکان خطاء تسلیم کرتے ہیں تو اس معنی کو حتمی حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں۔

۔4- کیا صرف سورت میں موجود واقعات کے درمیان ربط قائم کرنا نظم ہے اور کیا آیت کے سیاق و سباق سے احکام کا استدلال نظم میں داخل ۔نہیں

۔5-کیا نظم کا مقصود حقیقت کلام واضح کرنا نہیں بلکہ صرف حکمت کلام واضح کرنا ہے ۔ اگر بات صرف اتنی سی ہے تو اس پہ اتنا فوکس کیوں کیا جاتا ہے۔ فراہی تفسیری مکتبہ فکر کا مابہ الامتیاز ہی نظم ہے۔

۔6- نظم کی روشنی میں معنی کا تعین کرنا اور بات ہے اور اس اخذ کردہ معنی کو حتمی حجت قرار دینا دوسری بات۔ آپ اپنے استنباطی معنی کو حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں یہ کہتے ہوے کہ ایک معنی کے سوا کوئی اور معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔ حالانکہ خود صحابہ کرام میں مختلف آیات کی تشریح میں اختلاف ہوا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…