غامدی صاحب کا تصورِ نظم : چند سوالات

Published On December 11, 2025
عدت میں نکاح: جناب محمد حسن الیاس کی عذر خواہی پر تبصرہ : قسط اول

عدت میں نکاح: جناب محمد حسن الیاس کی عذر خواہی پر تبصرہ : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت میں نکاح کے متعلق جناب جاوید احمد غامدی اور جناب محمد حسن الیاس کی وڈیو کلپ پر میں نے تبصرہ کیا تھا اور ان کے موقف کی غلطیاں واضح کی تھیں۔ (حسب معمول) غامدی صاحب نے تو جواب دینے سے گریز کی راہ اختیار کی ہے، لیکن حسن صاحب کی عذر خواہی آگئی ہے۔...

عدت کے دوران نکاح پر غامدی صاحب اور انکے داماد کی غلط فہمیاں

عدت کے دوران نکاح پر غامدی صاحب اور انکے داماد کی غلط فہمیاں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد عدت کے دوران میں نکاح کے متعلق غامدی صاحب اور ان کے داماد کی گفتگو کا ایک کلپ کسی نے شیئر کیا اور اسے دیکھ کر پھر افسوس ہوا کہ بغیر ضروری تحقیق کیے دھڑلے سے بڑی بڑی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اگر غامدی صاحب اور ان کے داماد صرف اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے،...

حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع الی السماء اور غامدی موقف

حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع الی السماء اور غامدی موقف

مولانا محبوب احمد سرگودھا اسلامی عقائد انتہائی محکم ، واضح اور مدلل و مبرہن ہیں ، ان میں تشکیک و تو ہم کی گنجائش نہیں ہے۔ ابتدا ہی سے عقائد کا معاملہ انتہائی نازک رہا ہے، عقائد کی حفاظت سے اسلامی قلعہ محفوظ رہتا ہے۔ عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم ہی سے کئی افراد اور جماعتوں...

مسئلہ نزولِ عیسی اور قرآن

مسئلہ نزولِ عیسی اور قرآن

بنیاد پرست غامدی صاحب لکھتے ہیں :۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقعِ بیان کے باوجود اس واقعہ کی طرف کوئی ادنی اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اس خاموشی پر مطمئن ہو سکتے ہیں...

مسئلہ حیاتِ عیسی اور قرآن : لفظِ توفی کی قرآن سے وضاحت

مسئلہ حیاتِ عیسی اور قرآن : لفظِ توفی کی قرآن سے وضاحت

بنیاد پرست قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ” اللہ نے انہیں اپنی طرف بلند کر دیا “وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کے درجات بلند کر دیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلندی کا...

غامدی صاحب کا استدلال کیوں غلط ہے ؟

غامدی صاحب کا استدلال کیوں غلط ہے ؟

صفتین خان غامدی صاحب کا تازہ بیان سن کر صدمے اور افسوس کے ملے جلے جذبات ہیں۔ یہ توقع نہیں تھی وہ اس حد تک جا کر خاکی فصیل کا دفاع کریں گے۔ یہ خود ان کے اوپر اتمام حجت ہے۔ ان کے انکار کے باوجود فوجی بیانیہ کے خلاف ان کے تمام سابقہ فلسفے اس تازہ کلام سے منسوخ و کالعدم...

ڈاکٹر فرخ نوید

۔1- آیات کے معانی کی تعیین کے لئے مکتب فراہی بشمول غامدی صاحب نظم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن نظم کو ملحوظ رکھ کر معنی کی تعیین تو خود ایک انسانی کاوش اور استنباطی عمل ہے کیونکہ نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی آیت کے مدعا و معنی کو متعین کرنے میں بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تمام آیات کا ایک ہی معنی و مفہوم تو مراد نہیں لیا جا سکتا۔ خود مکتب فراہی ہی کو لیجئے جہاں دعوی تو یہ کیا جاتا ہے کہ نؑظم کو ملحوظ رکھیں تو ایک ہی معنی ہونے چاہیئں مگر کیا عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا مولانا فراہی ‘ اصلاحی ‘ اور غامدی صاحب پورے قرآن کی تمام آیات کا (بشمول و آیات جو متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں) نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی مطلب مراد لیتے ہیں؟ لہذا یہ دعوی کرنا کہ سیاق و سباق کی روشنی میں ایک سے زائد معانی کی گنجائش نہیں رہتی محل نظر ہے۔۔

۔2-دوسری بات یہ ہے کہ وہ آیات جو بظاہر متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں (جیسے” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ” یہاں لفظ قروء سے حیض و طہر دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں) وہاں اگر کوئی صاحب علم نظم قرآن ہی کی روشنی میں اس کا ایک مفہوم مثلا طہر متعین کرتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو مفہوم اس نے نظم کی روشنی میں متعین کیا ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اگر بعد میں آنے والے کوئی صاحب علم نظم ہی کی روشنی میں اس کا مخالف معنی مراد لیتے ہیں تو پھر یہ دعوی تو برقرار نہیں رہتا کہ نظم کی روشنی میں ایک ہی مفہوم مراد لیا جانا چاہیئے۔

۔3– مکتب فراہی نظم کی روشنی میں جو معنی متعین کرنے کی کوشش کرے گا اس میں خطاء کا امکان ہو گا یا نہیں؟ اگر آپ نظم کی روشنی میں معنی کی تعیین میں امکان خطاء تسلیم نہیں کرتے تو یہ تو صرف نبوت کا خاصہ ہے کہ نبی کی بات میں خطاء کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ امکان خطاء تسلیم کرتے ہیں تو اس معنی کو حتمی حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں۔

۔4- کیا صرف سورت میں موجود واقعات کے درمیان ربط قائم کرنا نظم ہے اور کیا آیت کے سیاق و سباق سے احکام کا استدلال نظم میں داخل ۔نہیں

۔5-کیا نظم کا مقصود حقیقت کلام واضح کرنا نہیں بلکہ صرف حکمت کلام واضح کرنا ہے ۔ اگر بات صرف اتنی سی ہے تو اس پہ اتنا فوکس کیوں کیا جاتا ہے۔ فراہی تفسیری مکتبہ فکر کا مابہ الامتیاز ہی نظم ہے۔

۔6- نظم کی روشنی میں معنی کا تعین کرنا اور بات ہے اور اس اخذ کردہ معنی کو حتمی حجت قرار دینا دوسری بات۔ آپ اپنے استنباطی معنی کو حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں یہ کہتے ہوے کہ ایک معنی کے سوا کوئی اور معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔ حالانکہ خود صحابہ کرام میں مختلف آیات کی تشریح میں اختلاف ہوا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…