غامدی صاحب کا تصورِ نظم : چند سوالات

Published On December 11, 2025
لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

مفتی منیب الرحمن جنابِ غلام احمد پرویز علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرتے ہیں :۔ چوں فنا اندر رضائے حق شود  بندۂ مومن قضائے حق شود  یعنی جب بندہ اللہ کی رضا میں فنا ہوجاتا ہے تو وہ حق کی قضا بن جاتا ہے ‘ وہ ا لنّہایہ لابن اثیر سے حضرت عمر ِ فاروقؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

مفتی منیب الرحمن دعا بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جو کسی ضابطے کا پابند نہیں ہے‘ نہ نماز کی طرح اس میں عربی زبان کا التزام ہے۔ الغرض بندے کی زبان کوئی بھی ہوحتیٰ کہ گونگا بھی ہو‘ وہ اپنے رب سے براہِ راست التجا کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دعا کی...

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

ناقد : کاشف علی تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے جزئیات پر بات نہیں ہو سکتی ۔ دین کی دو تعبیرات ہیں ۔ ایک تعبیر کے مطابق اسلام سیاسی سسٹم دیتا ہے ۔ لیکن غامدی صاحب دوسری تعبیر کے نمائندہ ہیں کہ اسلام کوئی سسٹم نہیں دیتا ۔ دونوں تعبیرات کے مطابق نیچے کی جزئیات مختلف ہو...

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

ناقد : مولانا اسحق صاحب تلخیص : زید حسن اول ۔ یہ کہنا کہ جمعہ کا منبر علماء سے واپس لے لینا چائیے کیونکہ اسلامی تاریخی میں جمعہ کے منبر کا علماء کے پاس ہونا کہیں ثابت نہیں ہے ، یہ سربراہِ مملکت کا حق ہے اور علماء   غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ ان ظالموں کی منطق بالکل...

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ  : قسط دوم

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ : قسط دوم

مفتی منیب الرحم علامہ غامدی نے کہا: ''میں نے بارہا عرض کیا : جامع مسجد ریاست کے کنٹرول میں ہونی چاہیے ،دنیا بھر میں ریاست کے کنٹرول میں ہوتی ہے ،ملائشیا میں ریاست کے کنٹرول میں ہے ،عرب ممالک میں ریاست کے کنٹرول میں ہے ،ہمارے ملک میں نہیں ہے ، ریاست یہ اِقدام نہیں...

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ  : قسط اول

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ : قسط اول

مفتی منیب الرحمن ۔13مارچ کومیں نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میںمختصر بات کی ،اُس کے بعد علامہ جاوید احمد غامدی کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا ۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بیانیہ جدید دور کی اصطلاح ہے ۔اصولی طور پر کسی ملک وقوم کا دستور ہی اُس کا اجتماعی...

ڈاکٹر فرخ نوید

۔1- آیات کے معانی کی تعیین کے لئے مکتب فراہی بشمول غامدی صاحب نظم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن نظم کو ملحوظ رکھ کر معنی کی تعیین تو خود ایک انسانی کاوش اور استنباطی عمل ہے کیونکہ نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی آیت کے مدعا و معنی کو متعین کرنے میں بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو تمام آیات کا ایک ہی معنی و مفہوم تو مراد نہیں لیا جا سکتا۔ خود مکتب فراہی ہی کو لیجئے جہاں دعوی تو یہ کیا جاتا ہے کہ نؑظم کو ملحوظ رکھیں تو ایک ہی معنی ہونے چاہیئں مگر کیا عملا بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا مولانا فراہی ‘ اصلاحی ‘ اور غامدی صاحب پورے قرآن کی تمام آیات کا (بشمول و آیات جو متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں) نظم قرآن کی روشنی میں ایک ہی مطلب مراد لیتے ہیں؟ لہذا یہ دعوی کرنا کہ سیاق و سباق کی روشنی میں ایک سے زائد معانی کی گنجائش نہیں رہتی محل نظر ہے۔۔

۔2-دوسری بات یہ ہے کہ وہ آیات جو بظاہر متضاد مفاہیم کی متحمل ہیں (جیسے” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ” یہاں لفظ قروء سے حیض و طہر دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں) وہاں اگر کوئی صاحب علم نظم قرآن ہی کی روشنی میں اس کا ایک مفہوم مثلا طہر متعین کرتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو مفہوم اس نے نظم کی روشنی میں متعین کیا ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اگر بعد میں آنے والے کوئی صاحب علم نظم ہی کی روشنی میں اس کا مخالف معنی مراد لیتے ہیں تو پھر یہ دعوی تو برقرار نہیں رہتا کہ نظم کی روشنی میں ایک ہی مفہوم مراد لیا جانا چاہیئے۔

۔3– مکتب فراہی نظم کی روشنی میں جو معنی متعین کرنے کی کوشش کرے گا اس میں خطاء کا امکان ہو گا یا نہیں؟ اگر آپ نظم کی روشنی میں معنی کی تعیین میں امکان خطاء تسلیم نہیں کرتے تو یہ تو صرف نبوت کا خاصہ ہے کہ نبی کی بات میں خطاء کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ امکان خطاء تسلیم کرتے ہیں تو اس معنی کو حتمی حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں۔

۔4- کیا صرف سورت میں موجود واقعات کے درمیان ربط قائم کرنا نظم ہے اور کیا آیت کے سیاق و سباق سے احکام کا استدلال نظم میں داخل ۔نہیں

۔5-کیا نظم کا مقصود حقیقت کلام واضح کرنا نہیں بلکہ صرف حکمت کلام واضح کرنا ہے ۔ اگر بات صرف اتنی سی ہے تو اس پہ اتنا فوکس کیوں کیا جاتا ہے۔ فراہی تفسیری مکتبہ فکر کا مابہ الامتیاز ہی نظم ہے۔

۔6- نظم کی روشنی میں معنی کا تعین کرنا اور بات ہے اور اس اخذ کردہ معنی کو حتمی حجت قرار دینا دوسری بات۔ آپ اپنے استنباطی معنی کو حجت کیسے قرار دے سکتے ہیں یہ کہتے ہوے کہ ایک معنی کے سوا کوئی اور معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔ حالانکہ خود صحابہ کرام میں مختلف آیات کی تشریح میں اختلاف ہوا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…